اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ایک کامیاب پرنسپل وہ ہوتا ہے جو ہر مسئلے کا فوری حل نکال لے۔ بظاہر یہ بات درست محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ ایک تعلیمی ادارہ اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کا پرنسپل صرف مسائل حل کرنے والا منتظم نہیں بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے والا تعلیمی رہنما بن جائے۔
گزشتہ چند برسوں میں مختلف سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے پرنسپلز کے ساتھ کام کرنے اور ان کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران ایک سوال ہمیشہ ذہن میں گردش کرتا رہا کہ آخر ایک پرنسپل کا قیمتی وقت کن کاموں میں صرف ہوتا ہے؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے چند پرنسپلز سے درخواست کی گئی کہ وہ ایک ہفتے تک اپنی روزانہ کی سرگرمیوں کا تفصیلی ریکارڈ رکھیں۔ نتائج نہ صرف حیران کن تھے بلکہ ہمارے تعلیمی نظام کی ایک بڑی کمزوری کو بھی بے نقاب کرتے تھے۔
مشاہدے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 42 فیصد وقت شکایات، تنازعات، والدین کی ملاقاتوں، طلبہ کے نظم و ضبط اور ہنگامی مسائل کے حل میں گزر جاتا ہے۔
تقریباً 27 فیصد وقت فائلوں، سرکاری مراسلت، رپورٹس، دستخط، اجلاسوں اور دیگر انتظامی معاملات کی نذر ہو جاتا ہے۔
جبکہ صرف 5 فیصد وقت اس بنیادی مقصد پر خرچ ہوتا ہے جس کے لیے ایک پرنسپل کو مقرر کیا جاتا ہے؛ یعنی تدریس کے معیار کو بہتر بنانا، اساتذہ کی پیشہ ورانہ رہنمائی کرنا، کلاس روم کا مشاہدہ کرنا، طلبہ کی کردار سازی پر توجہ دینا اور ادارے میں سیکھنے کی ایسی فضا پیدا کرنا جو بہترین نتائج کی ضامن ہو۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ایک پرنسپل کا زیادہ تر وقت آگ بجھانے میں گزر جائے تو وہ مستقبل کی تعمیر کب کرے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ پرنسپل کی صلاحیت نہیں بلکہ ادارے میں مؤثر نظام کی عدم موجودگی ہے۔ جہاں ہر چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ بھی پرنسپل کی میز پر آتا ہو، وہاں تخلیقی قیادت جنم نہیں لے سکتی۔
ایک کامیاب پرنسپل جانتا ہے کہ تمام فیصلے خود کرنا دانشمندی نہیں بلکہ ذمہ داریوں کو مناسب انداز میں تقسیم کرنا، اساتذہ اور سینئر عملے کو بااختیار بنانا اور واضح طریقۂ کار مرتب کرنا ہی پائیدار کامیابی کی بنیاد ہے۔
جب ادارے میں مضبوط نظام قائم ہو جائے تو معمولی مسائل خود بخود حل ہونے لگتے ہیں، اساتذہ اعتماد کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں، طلبہ نظم و ضبط کے عادی بن جاتے ہیں اور پرنسپل کو وہ قیمتی وقت میسر آ جاتا ہے جو اصل تعلیمی قیادت کے لیے درکار ہوتا ہے۔
دنیا کے کامیاب تعلیمی اداروں میں پرنسپل کا زیادہ وقت دفتر کی کرسی پر نہیں بلکہ کلاس رومز میں گزرتا ہے۔ وہ تدریسی عمل کا جائزہ لیتا ہے، اساتذہ کی رہنمائی کرتا ہے، طلبہ سے مکالمہ کرتا ہے، نئی تدریسی حکمت عملیوں کو فروغ دیتا ہے اور مسلسل یہ جائزہ لیتا رہتا ہے کہ اس کے ادارے میں سیکھنے کا معیار کس سمت جا رہا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پرنسپل جس چیز کو اپنی ترجیح بناتا ہے، پورا اسکول بھی آہستہ آہستہ اسی کو اپنی ترجیح بنا لیتا ہے۔
اگر اس کی توجہ صرف شکایات، فائلوں اور انتظامی معاملات پر ہوگی تو پورا ادارہ انہی کاموں میں الجھا رہے گا۔ لیکن اگر اس کی اولین ترجیح تدریس، اخلاقی تربیت، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، طلبہ کی کردار سازی اور تعلیمی معیار ہوگی تو پورا ادارہ اسی سمت سفر شروع کر دے گا۔
یاد رکھیے!
کمزور پرنسپل مسائل میں الجھا رہتا ہے۔
اچھا پرنسپل مسائل کا مؤثر حل تلاش کرتا ہے۔
عظیم پرنسپل ایسے نظام قائم کرتا ہے جن میں مسائل پیدا ہی کم ہوتے ہیں۔
مصروف ہونا کامیابی نہیں، بلکہ صحیح کاموں میں مصروف ہونا کامیابی ہے۔
ہر پرنسپل کو روزانہ اپنے آپ سے صرف ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
“آج میں نے اپنے ادارے کو بہتر بنانے کے لیے کیا ایسا کام کیا ہے جس کے مثبت اثرات آنے والے کئی برسوں تک باقی رہیں گے؟”
اگر اس سوال کا جواب ہر روز بہتر ہوتا جائے تو یقین رکھیے، صرف ایک پرنسپل نہیں بلکہ پورا ادارہ بدل جاتا ہے، اور یہی حقیقی تعلیمی قیادت کی پہچان ہے۔
تحقیقی نکات: مسعود مجاہد مصنف ایجوکیشنسٹ











