محترم قارئین، پاکستان کا سیاسی اور آئینی سفر اپنے آغاز ہی سے ساخت ساختہ بحرانوں اور اختیارات کی شدید کشمکش کا شکار رہا ہے۔ 1947ء میں قیام کے بعد سے لے کر موجودہ دور تک، ملک کا سیاسی ڈھانچہ بظاہر جمہوریت اور وفاقی پارلیمانی نظام کے اصولوں پر قائم کیا گیا، لیکن عملی طور پر پارلیمان اور عوام کے منتخب نمائندے حقیقی پاور سینٹر کی حیثیت حاصل کرنے میں جدوجہد کرتے رہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک گہرا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سول و عسکری اشرافیہ، غیر منتخب اداروں اور بیرونی سیاسی اثر و رسوخ نے پارلیمانی عمل کو ہمیشہ محتاط کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی۔آئینی ارتقاء کے ابتدائی دور میں ہی قائداعظم محمدعلی جناح کے بعد قیادت کا پہلا خلا پیدا ہوا، جس کے بعد گورنر جنرل کے عہدے کا غیر متناسب استعمال اور پہلی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل جیسے اقدامات سے جمہوری روایت کی بنیادیں متزلزل ہوئیں۔ 1956ء کا پہلا آئین نافذ ہوا تو اسے دو سال کے اندر ہی معطل کر کے ملک میں پہلا مارشلا نافذ کر دیا گیا۔ جنرل ایوب خان کے دور اقتدار نے ایک بنیادی جمہوری نظام (Basic Democracies) کی شکل میں ایک مرکزی صدارتی نظام متعارف کرایا، جس نے پارلیمانی بالادستی اور صوبائی خودمختاری کے خیالات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اس دور میں فیصلے پارلیمان کے بجائے مخصوص سیکیورٹی اور انتظامی حلقوں کے گرد گھومتے رہے، جس کے اثرات مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور شدید سیاسی بے چینی کی صورت میں سامنے آئے۔1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تمام سیاسی قوتوں نے متفقہ طور پر پاکستان کا متفقہ آئین تشکیل دیا، جس نے ملک کو ایک باقاعدہ وفاقی پارلیمانی نظام عطا کیا۔ تاہم، یہ آئینی کامیابی بھی مستقل استحکام نہ لا سکی۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت کا خاتمہ اور جنرل ضیاء الحق کا دور حکومت ملک کی سیاسی و سماجی سمت میں شدید تبدیلیاں لایا۔ آئین میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی شق 52(2)بی نے صدر مملکت اور غیر منتخب طاقتوں کو یہ قانونی اختیار دے دیا کہ وہ جب چاہیں منتخب پارلیمان اور حکومت کو گھر بھیج دیں۔ اس شق کا استعمال نوے کی دہائی میں بار بار کیا گیا، جس کی وجہ سے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتیں اپنی مدت پوری نہ کر سکیں اور جمہوریت ایک نازک اور غیر مستحکم کھیل بن کر رہ گئی۔جنرل پرویز مشرف کے دور نے ایک بار پھر آئینی ترتیب کو بدل دیا اور “ایل ایف او” کے ذریعے سیاسی عمل کی ناکہ بندی کی گئی۔ اگرچہ 2008ء کے بعد اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے 1973ء کے آئین کو اس کی اصل وفاقی اور پارلیمانی روح میں بحال کرنے کی تاریخی کوشش کی گئی اور صوبوں کو مالی و انتظامی خودمختاری دی گئی، لیکن سیاسی طاقت کی اصل ڈوریں مکمل طور پر پارلیمان کے ہاتھ میں منتقل نہ ہو سکیں۔ حالیہ سالوں میں عمران خان کے دورِ حکومت اور اس کے بعد کے سیاسی واقعات نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ پاکستان میں سیاسی اتحاد، اپوزیشن کی تحریکیں، اور حکومتوں کی تشکیل و تحلیل اکثر و بیشتر پارلیمانی دائرہ کار سے باہر ہونے والے فیصلے اور جوڑ توڑ کے تابع رہتے ہیں۔اس تاریخی تسلسل نے ملک میں اداروں کے غیر متوازن کردار، قانون کی حاکمیت کے عدم وجود، اور حقوق العباد کی فراہمی میں شدید رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ جب فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کے بجائے دیگر طاقتوں کے اشاروں پر ہوتے ہیں، تو اس کا مستقیم اثر گراس روٹ لیول پر عوام کے بنیادی انسانی حقوق، انصاف کی فراہمی، آزادیِ اظہار، اور بلا تفریق مساوات پر پڑتا ہے۔ سیاسی میدان میں احتساب کے عمل کو اکثر سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ واقعی اور شفاف احتساب کے نظام کا فقدان رہا۔ نتیجے کے طور پر، لسانی، قومی اور صوبائی محرومیاں جنم لیتی ہیں اور عام شہری خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے۔پاکستان میں ایک مستحکم، باوقار اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ آئین کی روح کے مطابق پارلیمان کی حتمی بالادستی کو تسلیم کیا جائے۔ جب تک تمام ادارے آئین کی طے کردہ حدوں کے اندر رہ کر کام نہیں کریں گے اور انتخابی و سیاسی عمل کو مکمل طور پر عوام کی شفاف رائے کے مرہونِ منت نہیں چھوڑا جائے گا، تب تک وفاقی پارلیمانی نظام محض ایک نام کے طور پر قائم رہے گا اور حقیقی جمہوریت کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکیں گے
49











