4

میں آج کسی منصب پر ہوں تو اس میں میرے والد کا کردار ہے، وزیراعظم فیصل راٹھور

مظفرآباد ( خبرنگار) وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ میرے لئے سابق وزیراعظم (مرحوم) راجہ ممتاز حسین راٹھور کا بیٹا ہونے کے ناطے ان کی زندگی کا اختصار کے ساتھ احاطہ کرنا مشکل ہے، انکی سیرت ، شخصیت ، کردار اور صورت پر جتنی بھی بات کی جائے کم ہے ۔انھوں نے ہمیشہ خیر بانٹا جس کی وجہ سے ریاست کا ہر شہری آج بھی انھیں یاد کرتا ہے ۔ خوش قسمتی سے آج میں جو کچھ بھی ہوں اس میں میرے والد کا بہت بڑا کردار ہے ۔میں کسٹوڈین آف ہاؤس کا مرحوم ممتاز حسین راٹھور کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے وقت مختص کرنے پر مشکور ہوں۔ ایسی شخصیات جنھوں نے ریاست کے اندر اپنا مثبت اور بہتر کردار ادا کیا ان کو خراج تحسین پیش کرنا ہماری زمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم مرحوم راجہ ممتاز حسین راٹھور کی 27ویں برسی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ (مرحوم) ممتاز حسین راٹھور کی زندگی کا کل اثاثہ عوام تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 26 سال گزرنے کے باوجود وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔میں آج کسی منصب پر ہوں اس پر میرا کوئی کمال ہو یا نہ ہو لیکن میرے والد کا کردار ضرور ہے۔انھوں نے کہا کہ انسان اگر اس دنیا سے چلا بھی جائے اگر اس کا کردار زندہ رہے وہ کبھی نہیں مرتا۔انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو ایک لیڈر کی حیثیت سے دیکھا انھوں نے کٹھن حالات میں زندگی گزاری اور بڑی محنت کی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ لوگوں کی مرحوم ممتاز حسین راٹھور سے عقیدت کا یہ عالم ہے کہ راولاکوٹ میں ایک نابینا شخص 24 سال تک ان کی برسی مناتا رہا ، آج بھی عوام کا ان کے ساتھ روحانی ، جذباتی اور محبت کا رشتہ قائم ہے ۔ان کی ذات و شخصیت کے حوالے سے ریاست کا ہر طبقہ انھیں یاد کرتا ہے کیونکہ انھوں نے ہمیشہ زندگی میں خیر بانٹی،اخلاص کے ساتھ تعلق کو قائم کیا ۔ اقتدار 9 ماہ کا ہو یا 9 سال کا انسان اگر نیک نیتی سے مخلوق خدا کی خدمت کرے تو اسکا کردار باقی رہتا ہے ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ میرے والد کی زندگی اختیار اور اقتدار سے پاک ایک جدوجہد تھی جس کے پیچھے ایک سوچ ،جذبہ اور نظریہ تھا جس پر انھوں نے پوری زندگی صرف کی ۔انھوں نے کہا کہ ممتاز حسین راٹھور جب دنیا سےگئے تو وہ خالی ہاتھ تھے ۔وہ خوش لباس تھے ۔انھوں نے خوبصورت زندگی گزاری اور اچھا نام ،کردار چھوڑا۔ میری شخصیت اور میری ذات کا موازنہ ممتاز حسین راٹھور سے کیا جاتا ہے میں نے کبھی اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھا میں ان جیسا نہیں ہوسکتا لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ میرے اندر ممتاز حسین راٹھور موجود ہیں۔سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم مرحوم ممتاز حسین راٹھور کی 27 ویں برسی کے حوالے سے ممبران اسمبلی کی جانب سے ریاست کیلئے انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین نے سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز راٹھور ایک خوبصورت شخصیت کے حامل تھے انکی حکومت کے 9 ماہ میں مجھے انکی کابینہ میں کام کرنے کا موقع ملا ،میں نے ہمیشہ انھیں ملنسار ، خوش مزاج پایا ہمیشہ انکے ماتھے پر مسکراہٹ دیکھی ۔انکی گفتگو متاثر کن تھی ۔ ان کی زندگی کا احاطہ کرنے کیلئے بہت وقت درکار ہے ان کے بلند درجات کیلئے دعا گو ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ممبر اسمبلی خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ ممتاز حسین راٹھور مرحوم میرے سیاست اور وکالت کے ساتھی تھے ۔ سنٹرل بار کے انتخابات میں وہ صدر اور میں جنرل سیکرٹری کا امیدوار تھا ۔انکی وجہ سے میں بار کا انتخاب جیت کر جنرل سیکرٹری بنا ۔ممتاز حسین راٹھور کے بلند کردار کی وجہ سے آج بھی انکا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے ۔ خواجہ فاروق نے کہا کہ ممتاز حسین راٹھور نابغہ روزگار شخصیت کے مالک تھے ۔ بطور وکیل انھوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ۔ان کی 9 ماہ کی حکومت کے اثرات آج بھی باقی ہیں ۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب نے کہا کہ ممتاز حسین راٹھور کے ساتھ زمانہ طالبعلمی سے بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا ۔ہمیشہ وہ شفقت سے پیش آتے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے ایسی شخصیات مدتوں بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رواداری ، محبت اور اخوت کے پیغام کو اپنانا چاہیے سینئر وزیر و وزیر قانون انصاف ،پارلیمانی امور انصاف و پارلیمانی امور میاں عبد الوحید نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر ممتاز حسین راٹھور مرحوم دلوں کے حکمران تھے ۔ وہ ایک غریب پرور ، باکردار ، خوش لباس اور خوش گفتار شخصیت کے حامل تھے ۔انھوں نے ساری زندگی مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری ۔ان کی 9 ماہ کی حکومت اور عوامی خدمت کو کو آج عرصہ بعد بھی لوگ یاد کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سینیر وزیر میاں عبد الوحید نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ ممتاز حسین راٹھور کی برسی کے موقع پر تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا ہے کہ ممتاز راٹھور مرحوم اپنی زات میں انجمن تھے انھوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ دوست بنائے زر نہیں بنایا وہ غریب پرور شخصیت تھے ۔ ان کا طرز سیاست و طرز حکمرانی منفرد تھا ۔ انھوں نے سیاست میں بہت سختیاں ، تلخیاں برداشت کیں لیکن کبھی کسی کو آشکار نہیں کیا ۔انھوں نے کہا کہ ممتاز راٹھور نے اللہ کی مخلوق کی خدمت میں سربلندی و طاقت سمجھی۔آج ان کے بیٹے فیصل ممتاز راٹھور وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں جو ممتاز حسین راٹھور کی نیک نامی کا باعث بن رہے ہیں۔سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر(مرحوم ) راجہ ممتاز حسین راٹھور کی 27ویں برسی کے حوالے سےممبران اسمبلی کی جانب سے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر (مرحوم) راجہ ممتاز حسین راٹھور، ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے شہدا ء اور حالیہ بحران کے دوران شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی بلندی درجات کیلئے دعا کی گئی

میں آج کسی منصب پر ہوں تو اس میں میرے والد کا کردار ہے، وزیراعظم فیصل راٹھور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں