آیت اللّٰہ سید علی حسینی خامنہ ای (19 اپریل 1939ء – 28 فروری 2026ء) کا تعلق سادات خاندان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم آبائی شہر مشہدکے حُوزہ ( شیعہ مکتب) سے حاصل کی، 1958ء میں قُم منتقل ہوئے جہاں انھوں نے روح اللّٰہ خمینی کے دروس میں شرکت کی۔اوائلِ جوانی میں محمدرضا پہلوی کی مخالفت میں سرگرمیاں شروع کیں اور شاہی حکومت نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور بعد میں انہیں تین برس کے لیے جلا وطن کر دیا۔ ایرانی انقلاب (1978-1979ء) میں وہ ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد نو قائم شدہ اسلامی جمہوریہ ایران میں متعدد مناصب پر فائز رہے۔ انقلاب کے بعد ایک قاتلانہ حملے میں ان کا دایاں بازو مفلوج ہو گیا۔ ایرا ن۔ عراق کے دوران 1981ء سے 1989ء تک ایران کے تیسرے صدر رہے اور اسی عرصے میں وہ “سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی” کے قریب ہوئے۔ 1989ء میں امام خمینی کے بعد “مجلس خبرگانِ رہبری” نے انھیں سپریم لیڈر منتخب کیا۔28 فروری 2026ء کوایران ۔امریکہ مشترکہ فضائی حملے میں بیٹی، داماد اور نواسے سمیت شہید ہوئے۔
افسر ٹریننگ سکول منگلہ سے اعزازی شمشیر کے ساتھ پاس آؤٹ ہونے والےفیلڈ مارشل سیدحافظ مُنیر احمد جالندھر سے ہجرت کرنے والے پنجابی سُنی سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کا خاندان پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ اور پھر راولپنڈی کے علاقے ڈھیری حسن آباد میں مقیم ہوا۔ والد سید سرور منیر (مرحوم) لال کُڑتی (راولپنڈی) ایف جی ٹیکنیکل ہائی اسکول کے پرنسپل اور ڈھیری حسن آباد “مسجد القریش” کے امام تھے۔ سید عاصم 1968ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے، دو سال میں قرآنِ مجید حفظ کیا اور ایف جی ٹیکنیکل ہائی اسکول طارق آباد (راولپنڈی) اور ایف جی سپر ہائی اسکول رسالپور (جہاں اُن کے والد پرنسپل تھے) سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پاکستانی اسٹاف کالج کے علاوہ ملائیشین آرمڈ فورسز کالج، جاپانی ملٹری کالج اور نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اسلام آباد سے پبلک پالیسی اور اسٹریٹجک سیکیورٹی مینجمنٹ میں ڈگریاں حاصل کیں۔ سیدعاصم کوارٹر ماسٹر جنرل، کور کمانڈر، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی جیسے اہم عہدوں پر سروس کرنے کے بعد 24 نومبر 2022ء کو 3 سال کی مدت کے لیے 17ویں چیف آف آرمی اسٹاف بنے۔
سیدعلی خامنہ ای (شہید) اور سید عاصم مُنیر ، دونوں نے نہ صرف اپنےاپنے مُلک کے لیئے ناقابلِ یقین خدمات سر انجام دی ہیں بلکہ ان دونوں نے بین الاقوامی سیاست کا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ ان دونوں شخصیات کی سربراہی میں دونوں ممالک کے دشمنوں کے لیئے نہ صرف ذلت و رسوائی کا سبب بنی بلکہ ان دونوں کی مُشترکہ کوششوں سے صدیوں سے اسلامی ممالک کے بھائی چارے میں حائل مسالکی دیوار بھی زمین بوس ہوگئی۔ جہاں تک سیدعلی خامنہ ای (شہید) کی بات کی جائے تو دُنیا کی دوایٹمی قوتوں، جن میں ایک عصرِ حاضر کا سب سے طاقتور مُلک ہے، اُس کے سامنے ایک “بوڑھے شیر” کا ڈٹ جانا اور جان دیکر وطنِ عزیز کو سرفراز کرجانا معروضی حالات میں اس کی دوسری مثال کہیں نہیں ملتی۔ انہیں یقین تھا کہ وہ شہیدکردیئے جائیں گے لیکن اُن کے مصمّم ارادے میں ذرا لغزش نہیں آئی بلکہ وہ آخری وقت تک ایک چٹان کی طرح ڈٹے رہے تاوقتیکہ وہ اسرائیلی اور امریکی مُشترکہ بربریت میں شہید ہوئے ۔ ان کٹھن حالات میں سیدعاصم مُنیر ایران کی پُشت پر پاکستان کی تمام قوت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے۔
جہاں تک سیدعاصم مُنیر کی بات کی جائے ان کی بطور چیف آف دی آرمی اسٹاف تعیناتی کو سیاسیات کی نظرکرکے شروع میں مُتنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستانی عوام مکمل مایوسی کاشکار تھے۔ بھارتی جارحیت کے سامنے پاکستان ایک بے بس شکار کی طرح تھا تو معیشت کا جنازہ نکل چُکاتھا۔ ایسے میں سیدعاصم مُنیر نے نہ صرف بھارت کو للکارا بلکہ بھارتی جارحیت کاوہ حشرکردیا کہ آج بھارتی بُزدلی پر پوری دُنیا “تُھو تُھو” کررہی ہے۔ پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کاہرطرف جو ڈنکا بج رہاہے اس میں سید عاصم مُنیر کا کلیدی کردار ہے۔ اسی طرح اُن کی قیادت میں افغانستان کو افواجِ پاکستان نے آڑے ہاتھوں لیا اور پاکستان پر مشرق و مغرب سے حملے کرنے والے بُزدل نیکسز (بھارت۔ افغان) کو آج جرأت نہیں کہ پاکستان پر بُری نظر بھی ڈالے۔ اسی طرح انہوں نے جس جرأت اور بہادری کا ایران۔اسرائیل اورامریکہ جنگ میں مظاہرہ کیا اس کی مثال ملنا محال ہے۔مُلکی معیشت کی بحالی، بین الاقوامی لیول کی ڈپلومیسی، پاکستان کے وقار کی بحالی جیسے تمام امور میں ان کا کردارتاریخ میں سنہرے حروف کےساتھ لکھا جائے گا۔
اگر ان دونوں شخصیات کی مشترکہ کوششوں کو ملا کر پڑھا جائے تو ان کے چار بڑے کارنامے ہیں جن کو تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ اس میں سر فہرست، دونوں شخصیات کا اپنے اپنے مُلک کو مشکل حالات سے بڑی جرأت اور وقار سے نکالنا ہے۔ دوسرے نمبر پر عالمی سطح اُمتِ مُسلمہ کو وہ ماحول فراہم کرنا ہے جس میں صدیوں سے عالمی سامراجی نظام اور جذباتی مذہبی رہنماؤں کی پھیلائی ہوئی فرقہ واریت کی پُرنفرت دیوار زمین بوس ہوتی نظر آتی ہے۔ تیسری اہم بات ان دونوں شخصیات کی وجہ سے یہ پیدا ہوئی کہ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان فاصلے مٹا دیئے، جس میں سید عاصم مُنیر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ چوتھی اہم بات ان دونوں شخصیات کی وجہ سے یہ واضح ہوئی کہ اگرمُسلم اُمہ آج بھی آپس کے اختلافات ختم کرکے چلے تو دُنیا کی کوئی طاقت کسی اسلامی ملک کو “ترنوالہ” نہیں سمجھے گا۔ یہاں سُنی شیعہ مسلک کے فالوورز کو ایک اہم مسئلہ بھی جاننا چاہیئے کہ یہ سیدعلی خامنہ ای (شہید) کے فتاوٰی میں ہے کہ “اُمہات المومنین اور اصحابہ اکرام پر تبرأ کرنا کسی شیعہ مسلک کے فالور کے لیئے حرام ہے۔”
ان دونوں شخصیات نے مشترکہ طور پراُمت مسلمہ کے عزت اور وقار میں اضافہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جہاں ایک طرف ایران مغربی سامراجی شکنجے سے نکل آیا ہے وہیں پاکستان آج تینوں عالمی بڑی طاقتوں (روس، چین اور امریکہ) کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ ان شخصیات نے صحیح معنوں میں مغربی استحصالی ورلڈ آرڈر میں تبدیلی کے لیئے اہم کردار ادا کرتے ہوئے کمزوراور چھوٹے ممالک کو اس استحصالی نظام سے نکلنے کی ایک اُمید دلائی ہے۔ اگر چہ ابھی ایران اور پاکستان کے لیئے کُچھ مُشکالات موجود ہیں لیکن یہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ دور ہوجائیں۔ پاکستان کو تو سکیورٹی اور معاشی چیلنجز ہیں جبکہ ایران کو معاشی چیلنجز کے ساتھ بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا ہے، اُن معاملات کے بارے میں بھی اُمید کی جاتی ہے کہ یہ مسائل حل ہوتے اب دیر نہیں لگے گی۔ بالخصوص، پاکستان کو اپنی معیشت کی بحالی اور دہشت گردی کے مسئلے پر دیرپا بُنیادوں پر منصوبہ سازی کرنا لازمی ہے۔ پاکستان کے لیئے ایک لمحہ فکریہ بھی موجود ہے کہ کیا سید عاصم مُنیر کے بعد میں آنے والی قیادت اس کامیابی کےتسلسل کو جاری رکھ سکے گی؟
9











