ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر یہ کشیدگی دوبارہ مکمل جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ ماہ میں بھی خطے میں کشیدگی کے دوران اہم بحری راستوں کی بندش سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، شپنگ کمپنیاں محتاط ہو گئیں، انشورنس اخراجات میں اضافہ ہوا اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں نے تیزی سے اوپر کا رخ کیا۔ یورپ کو بھی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے گئے۔
اگر موجودہ حالات دوبارہ خراب ہوتے ہیں اور آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوتی ہے تو دنیا ایک مرتبہ پھر توانائی کے بحران کی طرف جا سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر اس راستے پر جنگی صورتحال دوبارہ پیدا ہوتی ہے یا آمدورفت محدود ہو جاتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گا، جس کے نتیجے میں قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول یا ڈیزل تک محدود نہیں رہتا، بل کہ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں تک پہنچتے ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو سامان کی نقل و حمل پر لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والا بحران چند ہی دنوں میں دنیا کے ہر کونے میں مہنگائی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
یورپ اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے بعد یورپی ممالک پہلے ہی توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ اگر مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے تو یورپ کو ایک نئے توانائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے صنعتی پیداوار، بجلی کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
عالمی تجارت بھی اس ممکنہ جنگ کی زد میں آ سکتی ہے۔ بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود ہونے، انشورنس نرخوں میں اضافے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث سامان کی ترسیل مہنگی اور سست ہو جائے گی۔ اس سے سپلائی چین دوبارہ متاثر ہو سکتی ہے، جیسا کہ دنیا نے گزشتہ چند ماہ میں جاری جنگ کے دوران دیکھا گیا۔ برآمدات و درآمدات میں تاخیر سے صنعتوں کو خام مال کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے پیداوار اور روزگار دونوں متاثر ہوں گے۔
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی زندگی پر پڑے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی منڈیاں بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کار خطرات کے پیشِ نظر سرمایہ محفوظ معیشتوں کی طرف منتقل کرتے ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری کم ہو سکتی ہے۔ اسٹاک مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ، کرنسیوں کی قدر میں کمی اور معاشی سست روی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر ایران اور امریکہ ایک بار پھر اپنے اختلافات کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ، بل کہ پوری دنیا ایک نئے معاشی اور انسانی بحران سے بچ سکتی ہے۔ لیکن اگر کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ عالمی تجارت، توانائی، معیشت اور کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ یہی حقیقت اس جنگ کو صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم عالمی چیلنج بنا دیتی ہے۔











