54

عنوان:تعلیم کا بدلتا ہوا نظام از: ایمان جاوید اقبال

قلم جب تاریخ کے اوراق پلٹتا ہے تو ایک حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہر دور کی ترقی کا راز اس کے نظامِ تعلیم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ قومیں اپنی شناخت، تہذیب اور مستقبل کا تعین درس گاہوں سے کرتی ہیں۔ تعلیم صرف کتابوں کے اوراق یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ شعور، کردار، فکر اور انسانیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا نظام بھی بدلتا رہا ہے، اور آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں علم کی تعریف، تدریس کے طریقے اور سیکھنے کے انداز سب تبدیل ہو رہے ہیں۔
چند دہائیاں پہلے تک تعلیم کا محور استاد، کتاب اور کلاس روم تھے۔ طالب علم لکڑی کی بینچوں پر بیٹھ کر اسباق سنتے، نوٹس لکھتے اور امتحانات کی تیاری کرتے تھے۔ آج وہی طالب علم ایک موبائل فون یا لیپ ٹاپ کے ذریعے دنیا کی بہترین جامعات کے لیکچر سن سکتا ہے۔ فاصلے سمٹ چکے ہیں اور علم چند لمحوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ تبدیلی بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی کا ایک روشن پہلو ہے۔
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل لائبریریاں، ورچوئل لیبارٹریاں اور ای لرننگ پلیٹ فارم نے تعلیم کے روایتی تصور کو نئی جہت عطا کی ہے۔ اب طالب علم محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ تحقیق، تجزیہ اور تخلیقی سوچ کی طرف بھی راغب ہوتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اسی لیے اپنے تعلیمی نظام میں تحقیق، اختراع اور عملی مہارتوں کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں۔
تاہم ہر تبدیلی اپنے ساتھ کچھ سوالات بھی لاتی ہے۔ جدید نظامِ تعلیم نے جہاں سیکھنے کو آسان بنایا ہے، وہیں طلبہ میں کتاب سے تعلق کمزور ہوا ہے۔ اسکرین کا وقت بڑھنے سے مطالعے کی عادت متاثر ہو رہی ہے، جبکہ نقل، غیر ذمہ دارانہ انداز میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور معلومات پر ضرورت سے زیادہ انحصار تخلیقی صلاحیتوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو صرف سہولت سمجھا جائے تو یہ فائدہ مند ہے، لیکن اگر اسے محنت کا متبادل بنا دیا جائے تو یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بدلتے ہوئے نظامِ تعلیم نے کئی نئے امکانات پیدا کیے ہیں، مگر چیلنجز بھی کم نہیں۔ شہروں میں جدید تعلیمی سہولیات میسر ہیں، جبکہ دیہی علاقوں کے بہت سے بچے آج بھی بنیادی تعلیمی وسائل سے محروم ہیں۔ ایک طرف نجی ادارے جدید نصاب اور ڈیجیٹل تعلیم فراہم کر رہے ہیں، دوسری طرف سرکاری تعلیمی ادارے وسائل کی کمی، اساتذہ کی قلت اور فرسودہ نظام سے نبرد آزما ہیں۔ جب تک ہر بچے کو یکساں اور معیاری تعلیم میسر نہیں ہوگی، حقیقی ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔
تعلیم کا مقصد صرف اچھی ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ اچھا انسان بننا بھی ہے۔ اگر نصاب میں اخلاقیات، برداشت، دیانت داری، تحقیق، تنقیدی سوچ اور سماجی ذمہ داری کو نظر انداز کر دیا جائے تو ڈگری یافتہ افراد تو پیدا ہوں گے، مگر باشعور شہری نہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ جدید علوم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور قومی اقدار کو بھی تعلیم کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
اساتذہ کا کردار بھی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ آج استاد صرف معلومات دینے والا نہیں بلکہ ایک رہنما، مشیر اور کردار ساز ہے۔ ایک بہترین استاد طالب علم کو سوال کرنا، سوچنا اور سیکھنا سکھاتا ہے۔ اسی طرح والدین کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں اور انہیں ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی طرف رہنمائی کریں۔
بدلتے ہوئے نظامِ تعلیم کا تقاضا ہے کہ ہم رٹے کی روایت کو ترک کر کے تحقیق، تخلیق اور عملی مہارتوں کو فروغ دیں۔ امتحانات کو محض نمبر حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں طالب علم کی حقیقی صلاحیت جانچنے کا معیار بنایا جائے۔ وہی قومیں مستقبل میں کامیاب ہوں گی جو اپنے نوجوانوں کو صرف معلومات نہیں بلکہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی دیں گی۔تعلیم کا بدلتا ہوا نظام ہمارے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک عظیم موقع بھی۔ اگر ہم نے جدید تقاضوں کو اپنی تہذیبی اور اخلاقی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا تو ہماری آنے والی نسلیں علم، کردار اور ترقی تینوں میدانوں میں دنیا کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی۔ لیکن اگر ہم صرف ظاہری تبدیلیوں پر اکتفا کرتے رہے تو جدید وسائل ہونے کے باوجود حقیقی کامیابی ہم سے دور رہے گی۔ تعلیم کی اصل روح انسان سازی ہے، اور جب تک یہ مقصد ہمارے نظامِ تعلیم کا مرکز نہیں بنتا، تبدیلی صرف نصاب میں آئے گی، معاشرے میں نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں