60

عمررسیدہ افراد کے لیے لمحہ فکریہ تحریر: ممتاز ہاشمی

اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جب انسان ساری عمر جدوجہد میں مصروف رہنے یعنی پڑھنے لکھنے اور نوکری یا کاروبار میں گزارنے کے بعد ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس کو مختلف حالات و مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس کے روزمرہ کے معمولات میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ‘ جن کی قبولیت میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان مواقع پر اکثر لوگ یہ مشورہ دیتے ہے کہ مصروفیت کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ اپنایا جائے یا کوئی چھوٹا موٹا کام کر کے خود کو مصروف رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
درحقیقت زندگی کے اس اہم اور نازک موڑ پر فرصت کے لمحات کی صورت میں اللہ تعالٰی ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے ماضی کو پرکھیں اور اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے بقیہ زندگی کا لائحہ عمل ترتیب دیں۔
اگر گزراوقات کے لئے اسباب میسرنہ ہوں تو زندہ رہنے کے لئے کام کرنا بھی عبادت میں شامل ہے۔ اگر ہمارے پاس سادگی سے زندہ رہنے کے لیے اسباب میسر ہیں تو اپنے وقت اور صلاحیتوں کو اللہ کی بندگی کے لیے وقف کرنا ہی ہمارے لیے کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔
اس سلسلے ہمیں اپنے طرز زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی ضروریات کو کم کرنے پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ غیر ضروری معاملات کو چھوڑنے اور ان سے بچنے والے وقت، مال اور صلاحیتوں کو اللہ کی بندگی کے لیے وقف کیا جا سکے۔ اللہ تعالٰی نے انسان کی فطرت میں یہ شامل کیا ہے کہ جب وہ اللہ کی طرف راغب ہوتا ہے اور ایمان بالیقین کی کیفیت داخل ہوتا جاتا ہے تو اس کی دنیاوی زندگی میں خودبخود عاجزی، انکساری اور سادگی بڑھتی جاتی ہے یہی پپیمانہ ہوگا جس پر ہم میں سے ہر ایک کے لیے اپنے ایمان کے دعوےکا جانچنے کا۔
ہم میں سے اکثریت اس بات سے غافل ہوتی ہے کہ اس عمر میں پہنچ جانے کے بعد اللہ کے احکامات اور حکمت عملی کیا ہے۔ عمر کے اس حصے میں انسان جسمانی اور ذہنی طور پر اس قدر تندرست و توانا نہیں ہوتا جو وہ جوانی کی عمر میں تھا۔
عمررسیدہ افراد کے لیے کیا لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرآن اور سنت سے ہی راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل باتوں کو مدنظر رکھتے کی ضرورت ہے:

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر کے درمیان ہوں گی اور اس سے تجاوز کرنے والے لوگ بہت کم ہوں گے‘‘۔ [ ترمذی: ۳۵۵۰۔ ابن ماجہ: ٤۲۳٦ ]
اللہ تعالٰی کو پہچاننے کیلئے، دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کیلئے ساٹھ سال کا عرصہ کافی طویل ہے۔ اس لئے جو بندے ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے عذر، حجت اور بہانے کو ختم کر دیتا ہے۔
فرمان الٰہی ہے:

وہی ہے (اللہ) جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھروہ تمہیں بچہ بناکر نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت (جوانی) کو پہنچ جاتے ہو پھر بوڑھے ہو جاتے ہو، (جبکہ) تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں، (تم میں بعض کو وہ چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سمجھو (67) سورة غافر
یہاں وقت مقررہ سے مراد موت کا وقت ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اس آیت میں شکم مادر میں تخیلق انسانی زندگی کے مختلف ادوار کا بیان کر کے یہ بتا دیا ہے کہ جس شخص کو بچپن اور جوانی سے گزارتے ہوئے بڑھاپے میں پہنچا دیا جائے اس کیلئے اپنے رب کو نہ پہچاننے کی کوئی حجت باقی نہیں رہتی، اگر وہ سوچ سمجھ سے کام لے اور اللہ تعالٰی کی قدرت و حکمت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
اسی لئے نبی کریم ﷺ
نے فرمایا ہے کہ :

’’اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے لیے عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رکھا جس کو ساٹھ برس تک (دنیا میں) مہلت دی‘‘۔ (صحيح البخاري:6419)
جس شخص کو اللہ تعالٰی نے ساٹھ سال تک کی لمبی عمر عطا کی اور اتنے طویل زمانہ تک اس کو مہلت دی، اس کے باوجود وہ توبہ کرکے گناہوں سے باز نہیں آتا اور اب بھی اپنے رب کریم کی طرف رجوع نہیں کرتا تو اب اس کے لئے عذر خواہی کا وہ کون سا موقع رہ گیا ہے جس کے سہارے وہ قیامت کے دن عفو و بخشش کی امید رکھتا ہے۔ اگر کوئی جوان شخص گناہ و معصیت اور بے عملی کی راہ اختیار کئے ہوئے ہے تو وہ کہہ سکتا ہے کہ جب بڑھاپا آئے گا تو اپنی بدعملیوں اور اپنے گناہوں سے توبہ کر کے زندگی کے اس حصہ کو اللہ کی رضا جوئی اور اس کی عبادت میں صرف کروں گا، لیکن جو شخص بڑھاپے کی منزل میں پہنچ چکا ہے اس کے ہاتھ سے توبہ وانابت اور نیک عمل کرنے کا آخری موقع بھی نکلا جا رہا ہے ایسے میں وہ اپنی بے عملی اور گناہوں پر کل اللہ تعالٰی کو کیا جواب دے گا؟
کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو عمر کی آخری منزل میں پہنچ کر بھی اپنی بے عملیوں اور اپنے گناہوں پر نادم و شرمسار نہیں ہیں اور اس آخری مرحلہ پر بھی جب کہ موت آ دبوچنے کے لئے بالکل تیار کھڑی ہے، انہیں اپنے رحیم و کریم پروردگار کا دامن عفو و رحمت پکڑ لینے کی توفیق نہیں ہوتی۔ جب اسی حالت میں ایسے لوگوں کی موت واقع ہو جاتی ہے تو جہنم ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
ان کے لیے یہ آخری موقع ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اپنی بقایا زندگی کو اللہ کی عبادت میں گزرانے کا عہد کریں۔

واضح رہے کہ اگر اللہ نے یہ فرصت یا مہلت ہمیں مہیا کی ہے تو یہ اس کا ہم پر بہت بڑا کرم ہے وہ اب بھی ہمیں یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ قرآن کی طرف لوٹ آئیں۔ اپنے مقصد حیات کو کامیاب بنانے کے لیے اللہ کے احکامات کی پابندی اور اس کے دین کے نفاذ کے لئے عملی جدوجہد میں حصہ لیا جائے جوہم نے جوانی میں زندگی کی رنگینیوں میں گم کر دیا تھا اس عظیم مقصد اور اس کے حصول کیلئے عملی لائحہ عمل کو مفکرقرآن علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے
وقتِ فُرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نُورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے
ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ اکثر اقبال رح کے اس شعر کو سناتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی بعثت کا مقصد مکمل ہو چکا ہے. لیکن ابھی بعثت محمدیﷺ کا مقصد مکمل نہیں ہوا جبکہ درحقیقت ابھی ایسا نہیں ہوا۔
اس کی تکمیل اسی وقت ہو گئی جب کرہ ارض پر اللہ کا دین غالب اور نافذ ہو جائے گا اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فریضہ تمام اہل ایمان پر فرض اولین ہے۔ اللہ تعالٰی ہم کو ہدایت عطاء فرمائے اور اپنی بقایا زندگی اللہ کی عبادت یعنی دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد میں صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں