“تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روزِ محشر عذر ہائے من پذیر
یا اگر بینی حسابم ناگزیر
از نگاہ مصطفےٰ پنہا بگیر”
‘اے خدا تو دونوں جہاں سے بے نیاز ہے اور میں فقیرومحتاج ہوں۔ تیری بے نیازی کا تقاضا تو یہ ہے کہ محشر کے دن میرے عذر قبول فرما۔ اور اگر میرا حساب لینا ضروری ہے تو (میرے محبوب) محمد مصطفی کی نظروں سے پوشیدہ لینا۔ تاکہ میرے محبوب کے سامنے مجھے شرمندہ نہ ہونا پڑے’
“کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہےکیا لوح وقلم تیرے ہیں”
“قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے”
“ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبال
اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجازکرے
اوروں کو دیں حضور یہ پیغام زندگی
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی ءِ سینا”
“سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں”
“نگاہ ِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں ، وہی فرقان ، وہی یسیں ، وہی طہ”
“لوح بھی تو قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع ِ آفتاب
شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و با یزید ، تیرا جمال بے نقاب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
تری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقلِ غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب”
“جنهیں میں ڈهونڈتا تها آسمانوں میں زمینوں میں
وه نکلے میرے ظلمت خانئہ دل کے مکینوں میں ”
“ہر کہ عشق مصطفے سامانِ اوست
بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست”
“سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا
اس نام سے ہے باقی آرام جہاں ہمارا”
“قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے
ہونہ ہویہ پھول تو بلبل کا ترانہ بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
چشم افلاک یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شان رفعنا لک ذکرک دیکھے
خیمہ افلاک استادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
وہ دانائے سبل ختم الرسل، مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰس، وہی طٓہٓ
“لَوح بھی تُو، قلم بھی تُو، تیرا وجود الکتاب
گُنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالَمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرّۂ ریگ کو دیا تُو نے طلوعِ آفتاب
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جُنیدؒ و بایزیدؒ تیرا جمالِ بے نقاب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب”











