10

شہید میر عبدالخالق لانگو: بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا ایک روشن باب :فیض سمالانی

19 جون بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم، یادگار اور افسوسناک دن ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب ایک عظیم سیاسی، سماجی اور قبائلی شخصیت شہید میر عبدالخالق لانگو ہم سے بچھڑ گئے۔ ان کی شہادت کو پچیس برس بیت جانے کے باوجود آج بھی بلوچستان کے عوام، بالخصوص قلات اور خالق آباد کے لوگ، انہیں احترام، عقیدت اور محبت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
شہید میر عبدالخالق لانگو کا شمار بلوچستان کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت، سیاسی شعور کی بیداری اور اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے مرحوم میر عبداللہ جان محمد شہی کے ساتھ مل کر سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور عوامی حقوق کے حصول کے لیے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل رہے۔ ان کی سیاسی بصیرت، دوراندیشی اور عوام سے گہرا تعلق انہیں بلوچستان کی ایک معتبر اور باوقار شخصیت بناتا تھا۔
شہید میر عبدالخالق لانگو صرف ایک قبائلی معتبر ہی نہیں بلکہ ایک مدبر سیاستدان اور سماجی رہنما بھی تھے۔ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہے اور اپنے علاقے کے لوگوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی شہادت کی خبر نے نہ صرف قلات اور خالق آباد بلکہ پورے بلوچستان کو سوگوار کر دیا تھا۔
ان کی زندگی جدوجہد، قربانی اور خدمت خلق سے عبارت تھی۔ ان کے خاندان نے بھی عوامی خدمت کے اس سفر میں بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ ان کے فرزندان، شہید خان لانگو اور شہید میر اورنگزیب لانگو کی شہادتیں بھی عوام کے لیے ایک بڑا نقصان تھیں۔ تاہم ان قربانیوں نے لانگو خاندان کے حوصلے اور عزم کو کمزور نہیں کیا بلکہ عوامی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
شہید میر عبدالخالق لانگو کے بعد ان کے فرزند، سابق وزیر خزانہ بلوچستان میر خالد خان لانگو اور سابق وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے اپنے والد اور بھائیوں کے مشن کو جاری رکھا۔ انہوں نے عوامی خدمت کو اپنی سیاسی زندگی کا محور بنایا اور قلات، خالق آباد سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ آج ان علاقوں میں ہونے والی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ان کی سیاسی جدوجہد کا عملی ثمر سمجھی جاتی ہے۔
شہید میر عبدالخالق لانگو کی برسی محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ یہ ہمیں ان کی جدوجہد، قربانیوں اور عوامی خدمت کے جذبے کو یاد دلانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ ایسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنی شخصیت، کردار اور خدمات کے باعث عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شہید میر عبدالخالق لانگو کی زندگی سے سبق حاصل کریں اور عوامی خدمت، اخلاص، رواداری اور ترقی کے اس سفر کو آگے بڑھائیں۔ یقیناً شہید میر عبدالخالق لانگو کا نام بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا اور آنے والی نسلیں انہیں ایک عظیم رہنما، مدبر سیاستدان اور عوام دوست شخصیت کے طور پر یاد رکھیں گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں