آج کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے، سیاسی اختلافِ رائے اب نظریات کی جنگ نہیں رہا۔ اب یہ گالم گلوچ، الزام تراشی اور ذاتی عداوت کا ایک ایسا اکھاڑہ بن چکا ہے جہاں دلیل کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں بچتی۔ ہر سیاسی کارکن یا حامی اپنی پسندیدہ جماعت کی اندھی عقیدت میں اتنا اندھا ہو چکا ہے۔ اسے مخالف کی ہر بات میں صرف برائی نظر آتی ہے۔ ذرا سی تنقید پر وہ طیش میں آ جاتا ہے۔ سیاسی میدان میں اختلاف کو دشمنی سمجھنے کا یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کو سوچ کی کمزوری کی جس اتھاہ گہرائی میں دھکیل چکا ہے، وہاں اب بات تہذیب کے دائرے میں رہنے کے بجائے غلاظت اور طعنے بازی تک اتر آتی ہے۔ مہذب معاشروں میں سیاسی اختلاف کو خیالات کے کھلے پن اور جمہوریت کا حسن مانا جاتا ہے۔ وہاں سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن بیٹھ کر تحمل سے بات سنتے ہیں۔ پالیسیوں پر بحث کرتے ہیں اور دلیل کا جواب دلیل یا کارکردگی سے دیتے ہیں مگر اس کے برعکس ہمارے یہاں سیاسی بحث شروع ہوتے ہی فریقین ایسے آپے سے باہر جاتے ہیں کہ اخلاقیات کا دامن ہی ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ اگر سامنے والے کے پاس کاٹ دار دلائل موجود ہوں تو معاملہ ٹھیک چلتا ہے مگر افسوس کہ جب دلائل کا یہ سلسلہ ٹوٹتا ہے اور عقل پر جذبات حاوی ہو جاتے ہیں تو تہذیب کا دامن بھی ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ بندہ گالی گلوچ، طعنے بازی اور غلاظت پر تب ہی اترتا ہے جب اس کی کھوپڑی میں جواب دینے کے لیے کوئی ٹھوس بات نہیں بچتی۔ جب منطق اور علم کا خزانہ خالی ہو جائے تو انسان کے پاس گالی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ گالی دینا دراصل اس بات کا سرکاری نوٹیفیکیشن ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا غماز ہوتا ہے کہ بھائی! میری عقل جواب دے چکی ہے اور اب میں فکری طور پر دیوالیہ ہو چکا ہوں۔ یہ کوئی طاقت یا بہادری کی علامت نہیں ہے۔ یہ اس بے بسی کا رونا ہے جو انسان اندر سے ہار جانے کے بعد روتا ہے۔ زبان وہ کھڑکی ہے جہاں سے انسان کی اندرونی اوقات اور اس کے گھرانے کا پورا شجرۂ نسب صاف نظر آتا ہے۔ اس لیے جب کوئی منہ کھولتے ہی سیاسی بحث میں گالیوں کی بوچھاڑ کر دے تو وہ دراصل اپنے مخالف کی نہیں بلکہ اپنے ماں باپ کی تربیت اور اپنے خاندانی بیک گراؤنڈ کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہوتا ہے۔ بچپن میں بزرگوں نے جو اخلاقی گھٹی پلائی ہوتی ہے یا اسکول کالج سے جو تہذیب حاصل کی ہوتی ہے، وہ غصے کے عالم میں ہی باہر نکلتی ہے۔ ایک اچھے اور سلجھے ہوئے گھرانے کا فرد غصے میں بھی اپنے دائرے سے باہر نہیں جاتا، البتہ جن کی تربیت میں ہی کوئی کمی ہو، وہ ذرا سا دباؤ پڑتے ہی اپنی اصل اوقات پر آ جاتے ہیں۔ اگر ایسے گالی گلوچ کرنے والے اور بے ہودہ گفتگو کرنے والے لوگوں کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے اور ان کے خاندانی پس منظر کو ٹٹولا جائے تو حقیقت یہ کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان کا اپنا خاندانی پس منظر بھی کوئی خاص یا باوقار نہیں ہوتا۔ یاد رہے، جو لوگ دراصل خاندانی، سلجھے ہوئے اور اعلیٰ اقدار کے حامل ہوتے ہیں، وہ کبھی بھی اس طرح کی بازاری، بے ہودہ اور دلیل کے بغیر گفتگو نہیں کرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی اختلاف میں بھی زبان قابو میں کیسے رکھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور گالی گلوچ کو اپنا شیوہ بناتے ہیں، ان کا عمل چیخ چیخ کر بتاتا ہے۔ ان کی جڑیں کس قسم کے ماحول اور تربیت سے جڑی ہیں۔ آپ کی گفتگو اور آپ کا لہجہ ہی دراصل آپ کے اصل خاندانی پس منظر کا سب سے بڑا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر راستے میں چلتے ہوئے کوئی کتا آپ کو کاٹ لے تو آپ جواباً کتے کو کاٹ نہیں سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ آپ انسان ہیں، کتے نہیں۔ بالکل اسی طرح، جب کوئی سیاسی جاہل یا تہذیب سے عاری شخص آپ پر کیچڑ اچھالتا ہے یا گالی گلوچ کرتا ہے تو اس کا جواب اسی کی زبان میں دینا آپ کے وقار کے شایانِ شان نہیں ہوتا۔ آپ کا اصل ظرف یہ ہے کہ آپ اپنی اعلیٰ تربیت کا مظاہرہ کریں۔ طیش میں آنے کے بجائے اپنے اخلاق کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنائیں۔ سیاسی اختلافِ رائے کو دشمنی مت بنائیں۔ اگر آپ کے پاس سچی بات ہے، حقائق ہیں اور پکا ثبوت ہے، تو آپ کو اونچا بولنے یا چیخنے چلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ آپ کی دلیل کا ایک ایک لفظ ہی سامنے والے کو خاموش کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سیاسی تعصب اور گالی گلوچ چھوڑیں۔ دلیل کا کلچر اپنائیں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کی زبان اور آپ کی گفتگو ہی آپ کی خاندانی تربیت کا اصل اشتہار ہوتی ہے۔ اللہ ہمارے معاشرے کو اخلاقی پستی سے بچائے۔ ہمیں ہمیشہ دلیل اور شرافت کا دامن تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
14











