12

سیاحت حسنِ فطرت: حمید علی

27 ستمبر کو دنیا بھر میں سیاحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض سیر و تفریح کی اہمیت اجاگر کرنے کا موقع نہیں، بل کہ انسان، فطرت، تہذیب اور معیشت کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی دعوت بھی ہے۔ سیاحت دراصل کسی مقام کو دیکھنے کا نام نہیں، بل کہ اسے محسوس کرنے، وہاں کے لوگوں سے ملنے، اس کی تہذیب کو جاننے اور اس کے قدرتی حسن کو اپنے اندر اتارنے کا سفر ہے۔ آج دنیا کے کئی ممالک نے سیاحت کو اپنی معیشت کا اہم ستون بنا لیا ہے، جب کہ پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ہمارے پاس بلند پہاڑ ہیں، برف پوش چوٹیاں ہیں، سرسبز وادیاں ہیں، شفاف جھیلیں ہیں، بہتے دریا ہیں، وسیع صحرا ہیں اور سمندر کی بے کراں وسعتیں بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس قدرتی خزانے کو پہچانیں، محفوظ رکھیں اور دنیا کے سامنے اس انداز میں پیش کریں کہ پاکستان کا اصل حسن عالمی منظرنامے پر نمایاں ہو سکے۔

پاکستان کا جغرافیہ گویا قدرت کی ایک کھلی ہوئی کتاب ہے جس کے ہر صفحے پر حسن کی ایک نئی داستان لکھی ہے۔ شمالی پہاڑی علاقوں سے لے کر جنوبی ساحلوں تک اور کشمیر کی وادیوں سے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک، ہر خطہ اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہی تنوع پاکستان کو سیاحت کے لیے غیر معمولی امکانات کا حامل ملک بناتا ہے۔ اگر سیاحت کو محض تفریح کے بجائے ایک منظم معاشی اور سماجی شعبے کے طور پر دیکھا جائے تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کر سکتی ہے، بل کہ دور دراز علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے۔

کشمیر کا ذکر آئے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے حسن کے تمام رنگ ایک ہی خطے میں جمع کر دیے ہوں۔ آزاد کشمیر کی وادیاں، بلند پہاڑ، گھنے جنگلات، بہتے چشمے، جھرنے اور شفاف جھیلیں آنکھوں کو ہی نہیں، دل کو بھی اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ نیلم ویلی میں بہتے دریا کی آواز، وادیٔ لیپہ کی خاموش فضا، بنجوسہ جھیل کے پرسکون پانی اور مظفرآباد کے گرد پھیلے پہاڑی مناظر انسان کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں وقت جیسے کچھ دیر کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔ کشمیر کی خوب صورتی کا کمال یہ ہے کہ یہاں فطرت محض دکھائی نہیں دیتی، محسوس ہوتی ہے۔ کہیں پہاڑ خاموش کھڑے صدیوں کی کہانیاں سناتے ہیں تو کہیں دریا اپنی روانی میں زندگی کا فلسفہ بیان کرتا محسوس ہوتا ہے۔

کشمیر کی وادیوں میں موسم بھی اپنی ایک الگ زبان رکھتا ہے۔ بہار آتی ہے تو پہاڑوں کے دامن میں رنگ بکھر جاتے ہیں، گرمیوں میں سبزہ اپنی پوری رعنائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے، خزاں درختوں کے پتوں پر سنہری اداسی لکھ دیتی ہے اور سردیوں میں برف پوری وادی کو سفید چادر اوڑھا دیتی ہے۔ یہی بدلتے موسم کشمیر کو بار بار دیکھنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں۔ مگر اس حسن کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی وابستہ ہے؛ ہمیں اس قدرتی ماحول کو آلودگی، بے ہنگم تعمیرات اور غیر ذمہ دارانہ سیاحتی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ہوگا۔

خیبر پختونخوا کی وادیٔ کمراٹ بھی پاکستان کے ان مقامات میں شامل ہے جہاں قدرت نے اپنے حسن کی ایک منفرد تصویر بنائی ہے۔ بلند پہاڑوں کے درمیان دیودار کے گھنے جنگلات، سرسبز میدان، ٹھنڈے چشمے اور دریائے پنجکوڑہ کی شفاف روانی کمراٹ کو خواب ناک منظر میں بدل دیتی ہے۔ صبح کے وقت جب دھند درختوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری وادی نے سفید چادر اوڑھ لی ہو۔ سورج کی پہلی کرن جب پہاڑوں کے سینے پر اترتی ہے تو سبزہ، پانی اور چٹانیں ایک نئی روشنی میں نہا جاتی ہیں۔ شام ڈھلے جب پہاڑوں پر سنہری روشنی پھیلتی ہے تو کمراٹ کا منظر کسی مصور کے شاہکار سے کم نہیں لگتا۔

کمراٹ کی اصل کشش صرف اس کا حسن نہیں، بل کہ اس کی خاموشی بھی ہے۔ شہر کے شور اور زندگی کی مسلسل دوڑ سے تھکا ہوا انسان جب ان جنگلات کے درمیان پہنچتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ فطرت اب بھی انسان سے گفتگو کرنا جانتی ہے۔ درختوں کی سرسراہٹ، دریا کی روانی اور پہاڑی ہوا کی ٹھنڈک انسان کے اندر ایک ایسی تازگی پیدا کرتی ہے جو کسی مصنوعی تفریح سے حاصل نہیں ہو سکتی۔

پاکستان میں سیاحت کا فروغ مقامی آبادی کے لیے معاشی خوش حالی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، مقامی دست کاری، ٹور گائیڈز، کیمپنگ اور دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً پہاڑی اور دور دراز علاقوں کے نوجوان اپنے ہی خطے میں باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ مقامی لوگوں کی دست کاری، روایتی کھانے اور ثقافتی ورثہ بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔ یوں سیاحت صرف قدرتی مقامات کی رونق نہیں بڑھاتی، بل کہ مقامی معیشت کو بھی متحرک کرتی ہے۔

تاہم سیاحت کے فروغ کے لیے صرف قدرتی حسن کافی نہیں۔ محفوظ سڑکیں، بہتر سفری سہولیات، معیاری رہائش، صفائی، طبی مراکز، ریسکیو سروسز، مواصلاتی نظام اور سیاحوں کی رہنمائی کے مؤثر انتظامات بھی ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ ماحول کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ سیاحتی مقامات پر پھینکا جانے والا ایک معمولی سا کچرا بھی آنے والے برسوں میں ایک بڑے ماحولیاتی مسئلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دریاؤں، جھیلوں اور جنگلات کو آلودگی سے بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیوں کہ قدرتی حسن صرف ہماری ملکیت نہیں، آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔

پاکستان کو عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں کرنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ سے بھی بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ کشمیر، کمراٹ، ہنزہ، اسکردو، سوات، چترال، ناران، کاغان، گوادر، موہن جو دڑو اور ٹیکسلا جیسے مقامات کو جدید انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ خوب صورت تصاویر، معیاری دستاویزی فلمیں اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل تشہیر پاکستان کے قدرتی اور ثقافتی حسن کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ مگر تشہیر کے ساتھ سہولیات اور تحفظ کا انتظام بھی ضروری ہے، کیوں کہ سیاح کو صرف خوب صورت منظر نہیں، محفوظ اور باوقار تجربہ بھی درکار ہوتا ہے۔

سیاحت انسان کو سفر کے ساتھ ساتھ اپنے اندر جھانکنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ کسی بلند پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر بہتے دریا کی آواز سننا، کسی جنگل میں ہوا کی سرسراہٹ محسوس کرنا یا کسی خاموش وادی میں ڈوبتے سورج کو دیکھنا انسان کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف مصروفیات اور مادّی دوڑ کا نام نہیں۔ فطرت کی خاموشی میں بھی ایک گہری گفتگو پوشیدہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سفر انسان کی سوچ کو وسعت دیتا اور اسے زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

سیاحت کا عالمی دن ہمارے لیے محض ایک عالمی دن نہیں، بل کہ اپنے ملک کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ہے۔ کشمیر کی وادیوں سے کمراٹ کے گھنے جنگلات تک پاکستان نے قدرت کے حسن کے بے شمار چراغ اپنے دامن میں سجا رکھے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان چراغوں کو بے احتیاطی سے بجھنے نہ دیں۔ سیاحت کو بہتر منصوبہ بندی، مقامی آبادی کی شمولیت، ماحول کے تحفظ اور جدید سہولیات کے ساتھ فروغ دیا جائے تو یہ شعبہ پاکستان کی معیشت، روزگار اور عالمی شناخت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہمیں اپنے پہاڑوں، دریاؤں، جھیلوں اور وادیوں کو صرف دیکھنے کی چیز نہیں، ایک قومی امانت سمجھنا ہوگا، کیوں کہ قدرت کا حسن جتنا خوب صورت ہے، اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں