ریاست اور عوام کا رشتہ محض حکمرانی اور تابع داری کا نہیں بلکہ اعتماد، ذمہ داری اور باہمی احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں جمہوری معاشروں نے یہ اصول تسلیم کر رکھا ہے کہ شہریوں کے مسائل کا دیرپا حل طاقت، ضد اور تصادم سے نہیں بلکہ مذاکرات، مشاورت اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نکالا جاتا ہے۔ اسی طرح عوامی تحریکوں کی کامیابی بھی اس امر سے وابستہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو پرامن، آئینی اور قابلِ عمل طریقے سے آگے بڑھائیں۔ آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتِ حال بھی اسی سنجیدہ غوروفکر کی متقاضی ہے۔آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کے حوالے سے اٹھنے والی آواز نے ابتدا میں ایسے بنیادی مسائل کو اجاگر کیا جن کا براہِ راست تعلق عام آدمی کی زندگی سے تھا۔ آٹا، بجلی، تعلیم، صحت، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مطالبات نے عوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔ بعض معاملات میں ریلیف بھی سامنے آیا، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب عوام اپنے مسائل پر منظم اور پرامن انداز میں آواز اٹھاتے ہیں اور حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سنتی ہے تو معاملات کو تصادم کی طرف جانے کے بجائے گفت و شنید سے حل۔ہیا جا سکتا ہے،تاہم کسی بھی عوامی تحریک کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب ابتدائی مطالبات سے آگے بڑھ کر معاملات آئینی، سیاسی یا ریاستی نوعیت اختیار کرنے لگیں۔ یہاں حکومت اور احتجاج کرنے والوں دونوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کو عوامی مطالبات کو محض دباؤ یا مخالفت سمجھنے کے بجائے ان کے پس منظر، محرکات اور حقیقی نوعیت کو سمجھنا چاہیے، جبکہ احتجاجی قیادت کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاستی نظم، آئینی حدود اور اجتماعی مفاد کو نظرانداز کرکے کوئی تحریک دیرپا کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔آزاد کشمیر اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں مزید کشیدگی کسی بھی صورت عام آدمی کے مفاد میں نہیں۔ خصوصاً راولاکوٹ اور اس سے متاثرہ علاقوں کی صورتِ حال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ فریقین اپنے اپنے مؤقف پر اصرار کرنے کے بجائے مسئلے کے حل کی طرف بڑھیں۔ طویل احتجاج، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ، تعلیمی اور معمولاتِ زندگی کی متاثرہ صورتِ حال اور خوف و بے یقینی کا ماحول آخرکار سب سے زیادہ عام شہری کو متاثر کرتا ہے۔ کسی بھی تحریک کا مقصد اگر عوامی فلاح ہے تو اس کے نتیجے میں عوام کی زندگی مزید مشکل نہیں ہونی چاہیے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاست محض حکومت کا نام نہیں۔ ریاست ایک اجتماعی نظام ہے جس میں عوام، حکومت، سیاسی جماعتیں، ادارے اور معاشرہ سب شامل ہوتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر اس لیے ہے کہ اس کے پاس انتظامی اختیار اور فیصلہ سازی کی طاقت ہوتی ہے۔ اسے طاقت کے استعمال سے پہلے ہر ممکن سیاسی، انتظامی اور مذاکراتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ریاستی رٹ کا قیام ضروری ہے، مگر ریاستی رٹ کا سب سے مضبوط اظہار یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو، عوام کو سنا جائے، شکایات کا ازالہ ہو اور اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے۔ریاست کو ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے تو اس تصور کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے دکھ، اضطراب اور شکایات کو سمجھے۔ ماں اپنے بچوں کے اختلاف کو تصادم میں تبدیل نہیں ہونے دیتی، بلکہ بات سن کر، سمجھا کر اور راستہ نکال کر گھر کا سکون بحال کرتی ہے۔ حکومت کو بھی اسی طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔ اسی طرح عوامی ایکشن کمیٹی اور احتجاجی قیادت کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ احتجاج جمہوری حق ہے، اختلاف رائے ہر شہری حق اور اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانا بھی آئینی و سیاسی عمل کا حصہ ، لیکن یہ حقوق اسی وقت مؤثر رہتے ہیں جب ان کا استعمال قانون اور اجتماعی مفاد کے دائرے میں ہو۔ اگر کسی معاملے کا تعلق آئینی ترمیم یا ریاستی ڈھانچے سے ہے تو اس کا راستہ بھی آئین ہی میں تلاش کرنا ہوگا۔ آئینی معاملات کو سڑکوں کی کشمکش کے ذریعے حل کرنے کی کوشش مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے۔ ایسے معاملات پارلیمانی، قانونی اور آئینی فورمز پر زیر بحث آنے چاہئیں۔اسی طرح بنیادی عوامی مسائل اور فوری نوعیت کے مطالبات کو آئینی تنازعات کے ساتھ اس طرح خلط ملط نہیں ہونا چاہیے کہ اصل عوامی مسائل پس منظر میں چلے جائیں،موجودہ حالات میں کسی بھی فریق کی طرف سے ایسی زبان یا اقدام مناسب نہیں جو فاصلے مزید بڑھائے۔ حکومت اگر صرف سخت کارروائی کی بات کرے اور احتجاجی قیادت صرف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرے تو اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگا۔ طاقت کا استعمال وقتی طور پر راستہ ضرور کھول سکتا ہے، مگر دلوں میں پیدا ہونے والی دوری ختم نہیں کرتا۔ اسی طرح مسلسل احتجاج بھی اس وقت تک مستقل حل نہیں دے سکتا جب تک اسے مذاکرات اور قابلِ عمل فیصلوں کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔آزاد کشمیر کی حساس جغرافیائی اور سیاسی حیثیت اس امر کی متقاضی ہے کہ یہاں کے داخلی معاملات کو دانش، تحمل اور سیاسی بصیرت کے ساتھ حل کیا جائے۔ یہ خطہ تحریک آزادی کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کا امن، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد محض مقامی ضرورت نہیں بلکہ وسیع تر قومی اور علاقائی مفاد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس لیے کسی بھی ایسے عمل سے گریز ضروری ہے جو معاشرے میں مستقل تقسیم، بداعتمادی یا تصادم کو فروغ دے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تمام متعلقہ سیاسی و عوامی حلقوں کو اعتماد میں لے کر ایک جامع مذاکراتی عمل شروع کرے۔ اس عمل میں صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی پیش رفت، فیصلوں کی نگرانی اور عوام کو بروقت آگاہ کرنے کا طریقہ کار بھی موجود ہو، ماضی کے واقعات کو ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ بنانے کے بجائے مستقبل کا راستہ تلاش کیا جائے۔ جن جانوں کا نقصان ہوا، وہ کسی بھی صورت واپس نہیں آسکتیں، لیکن ان واقعات سے سبق ضرور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مزید نقصان روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور احتجاجی قیادت کی بھی۔ کسی بھی مسئلے کا ایسا حل قابلِ قبول نہیں ہوسکتا جس کی قیمت مزید انسانی جانوں، معاشی نقصان اور معاشرتی تقسیم کی صورت میں ادا کرنا پڑے۔آزاد کشمیر کو احتجاج، محاذ آرائی اور بے یقینی سے نکال کر ترقی، تعمیر اور عوامی فلاح کی طرف لے جانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حکومت کو ہٹ دھرمی سے گریز کرتے ہوئے فراخ دلی کے ساتھ مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی اپنی طاقت کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ دونوں فریق اگر اپنے اپنے مؤقف سے ایک قدم آگے بڑھ کر ریاست کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھیں تو بہت سے پیچیدہ معاملات حل ہوسکتے ہیں۔ یہ حقیقت سب کو تسلیم کرنا ہوگی کہ ریاست رہے گی تو سیاست بھی رہے گی، ادارے رہیں گے تو اختلاف بھی ہوگا، امن ہوگا تو احتجاج کا حق بھی استعمال ہوسکے گا اور نظام قائم ہوگا تو عوام اپنے حقوق کے لیے آئینی و جمہوری جدوجہد بھی جاری رکھ سکیں گے۔ اس لیے آج ضرورت کسی فریق کو شکست دینے کی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کو بحران سے نکالنے کی ہے۔ حکومت طاقت سے زیادہ تدبر کا مظاہرہ کرے، سیاسی جماعتیں تماشائی بننے کے بجائے مفاہمت کا پل بنیں۔ آزاد کشمیر کے عوام مزید تصادم نہیں، اپنے گھروں میں امن، اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل اور اپنی ریاست میں ترقی چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اب ہٹ دھرمی نہیں، سنجیدہ مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔
33











