71

ریٹائرڈ بابے سایہ دار درخت ! ( قلم اور قانون)محمد شفیق بھلوالیہ

قانون فطرت ہے کہ انسان بچپن جوانی اور بڑھاپے کی مختلف منازل طے کرتے ہوئے بے شمار تجربات سے گزرتا ہے اس کی محنت، بصیرت، دانائی دور اندیشی اور تجربہ نئی نسل کے لیے سرمایہ عظیم ہوتا ہے جسے کوئی ذی شعور جھٹلا نہیں سکتا کسی بھی معاشرے کے بزرگ تہذیبی اخلاقی اور فکری میراث کے حقیقی امین اور علمبردار ہوتے ہیں ان کے تجربات اور رہنمائی سے خاندان اور نسلیں سنورتی ہیں، معاشرے حتیٰ کہ اداروں میں استحکام پیدا ہوتا ہے اسی تناظر میں ملازمت سے ریٹائرڈ بزرگ اپنی قوم اور کمیونٹی کے لیے نہ صرف قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں بلکہ ان کا کردار ایک سایہ دار درخت کی مانند ہوتا ہے جو خود دھوپ سہہ کر دوسروں کو ٹھنڈک کی آسودگی اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔

زیر نظر تحریر آج کےنوجوان طبقہ اور نئی نسل کے لیے ایک آئینہ ثابت ہوگی جو سوشل میڈیا اور نجی محافل میں اپنے شعبہ کے بزرگ ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین پر تنقید کرتے ہوئے تھکتے نہیں کہ یہ” ریٹائرڈ بابے “ہم پر مسلط کیوں ہیں ہمیں اپنا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنے بوڑھے والدین سےاور اپنے قرب و جوار میں رہنے والے بزرگوں سے گستاخی کریں یہاں تک کہ اسلام میں اف تک کہنے کی اجازت نہیں ہے۔

کیا کوئی با شعور اولاد اپنے بوڑھے باپ کو اس جواز پر گھر سے نکال سکتی ہے کہ اب آپ ملازمت سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں آپ کی یہ عمر ضعیفی ہمارے لیے بوجھ اورکسی کام کی نہیں رہی لہذا گھر سے بے دخل ہو جائیں؟ اگر ایسے ہے تووہ بد نصیب اولاد ہوگی۔اسی طرح ہمارے بزرگ اساتذہ قائدین کے لیے یہ تنظیمیں گھر کی حیثیت رکھتی ہیں یہ ان کا مسکن بھی ہیں بلکہ ان کے ہاتھوں کا لگایا ہوا گلشن بھی ،جس کی رونق سے آج کا ہر نوجواں ٹیچر مستفید ہو رہا ہے جنہوں نے اپنے خون جگر سے ان تنظیموں کی آبیاری کی، ملازمتوں سے معطل اور برطرف ہوئے قید و بند کی صعبتوں سے دوچار ہوئے اپنی ملازمتوں کو خطرات میں ڈالے رکھا کئی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا بھی کیا اپنی جوانی کو اساتذہ کے مستقبل کے لیے قربان کیا آج انہیں “ریٹائرڈ بابے “کے طنزیہ القاب لگا کر تنقید کا نشانہ بنانا کیا معنی رکھتا ہے؟
یاد رکھیں قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والا کوئی بھی سرکاری ملازم یا ٹیچر محکمانہ رولز کے مطابق سرکاری ملازمت سے تو ریٹائرڈ ہو سکتا ہے لیکن انسانیت کی خدمت سے دنیا کا کوئی قانون اور تہذیب اسے ریٹائر نہیں کر سکتی۔
یہاں پر میں اپنی زندگی کے حوالے سے کچھ کہنا مناسب سمجھوں گا کہ ہمارے والد گرامی 85 سال کی عمر پاکر 2018 میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے بہت فہم و فراست رکھنے والی شخصیت تھے ہم سب بھائیوں کو علاقائی معاملات میں یا دیگر زندگی کے مشکل ترین مسائل پر جب ناکامی کا سامنا ہوتا یا مایوسی نظر آتی تو ہم سب بھائی اپنے والد محترم کے پاس بیٹھ کر مشورہ لیتے تو وہ ایسی ترکیب اور تدبیر بتاتے جس سے ہماری مشکل حل ہو جایا کرتی تھی حالانکہ ہم خود اس وقت اپنے بوتے،پوتیوں کے دادا بھی بن چکے تھے ہر مسئلے کا وہ ایسا حل یوں نکالتے کہ ہم خود حیران ہو کر رہ جاتے تھے اور یہی ہماری کامیابی کا زینہ ہے اسی طرح اپنے سے سینئر قائدین سے قیادت کے گر اور سلیقے سیکھے ہیں آج 65 سال کی عمر پر بھی میں اپنے بزرگ اساتذہ کے مکتب کا ایک طفل ہوں لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ جس طرح کسی باپ کو اپنی اولاد اور دادا کو اپنے پوتے اور نواسے پیارے ہوتے ہیں وہ ان کا کوئی دکھ اور غم برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح اپنے شعبہ سے ریٹائرمنٹ حاصل کرنے والے بزرگ قائدین بھی اپنی جونیئر کمیونٹی جوکہ انھیں اپنی اولاد کی طرح عزیز ہوتی ہے ان کی مشکلات اور مسائل کو برداشت نہیں کر سکتے اور وہ میدان عمل میں رہنا اس لیے پسند کرتے ہیں۔
جاری ہے

بڑھاپا کمزوری نہیں تدبر کی روشنی ہے
ہر سفید بال میں ایک عمر کی روشنی ہے

یوں تو میرا قلم اللہ کی عطا سے “ریٹائرڈ بابے سایہ دار درخت” کے عنوان پر ایک مکمل کتاب لکھنے کی دسترس رکھتا ہے لیکن انسانی مصروفیت کے تقاضوں کے پیش نظر اس مختصر تحریر پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔ 15 اور 16 جون 2026 کا آگ برساتا سورج ،ناقابل برداشت گرمی اور شدید دھوپ میں پنجاب اسمبلی کے سامنے دیے جانے والے دھرنے میں سب سے زیادہ متحرک وہ” ریٹائرڈ بابے ” تھے جن کی عمر 60 سال سے 70 سال تک پہنچ چکی تھی ہم نے 15 جون اور بعد ازاں 16 جون کو جب گہری نظر سے جائزہ لیا تو ہمارے مشاہدے میں یہ امر نقش ہوا کہ دونوں اطراف کے اگیگا گروپس میں شامل 55 سے 70 سال کی عمر کے بابوں کی تعداد 65 فیصد کے قریب تھی جو اس بات کی دلیل ہے کہ بزرگ اساتذہ کے اندر جوانوں سے زیادہ جوش و خروش اور جذبہ موجود ہے ۔یہ بھی باور کرتا چلوں کہ طب کی دنیا میں 45 سال سے زیادہ عمر کے فرد کو جوان تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ اسے بوڑھا قرار دیا جاتا ہےان حقائق کی بنیاد پر 16 جون 2026 کو اگیگا 1 اور اگیگا 2 دونوں گروپس کے بیک وقت پنجاب اسمبلی کے سامنے اس تاریخی احتجاج میں حاضر سروس عمر رسیدہ اور ریٹائرڈ افراد کے چہرے نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔
راقم الحروف خود اپنی زندگی کی 65 بہاریں دیکھ چکا ہے اس کے باوجود نوجوان اساتذہ کمیونٹی کے ساتھ جواں اور توانا جذبوں سے لبریز اساتذہ کے حقوق کے لیے فرنٹ لائن میں کھڑا تھا یہ بھی واضح کرنا چاہوں گا کہ اس تحریک میں شریک ایسی ریٹائرڈ شخصیات بھی تھیں جن کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے ہے اور وہ معاشی اعتبار سے آسودہ حال بھی ہیں انھیں لیو انکیشمنٹ اور پینشن کٹ جیسے مالی نقصان سے کوئی فرق نہیں پڑتا اپنی ذاتی پا کٹ سے اخراجات برداشت کرتے ہوئے دور دراز کا سفر طے کر کے آنے والے ان بزرگان اساتذہ یعنی “بابوں “؛کو سلوٹ پیش کرتا ہوں.سلب شدہ لیو انکیشمینٹ اور پینشن نہ بڑھنے سے میری ذاتی زندگی پر بھی کوئی فرق اور اثر نہیں پڑتا تا ہم صرف اپنی مظلوم اساتذہ برادری کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اس کے نتیجے میں کسی داد و تعریف یا اپنے حق میں تالیاں بجوانے کے ہم شائقین بھی نہیں ہیں۔
دوران ملازمت 2 مرتبہ میں نے تنظیمی سیاست اور خدمت سے دستبردار ہونے کا ارادہ کیا تھا لیکن حالات پھر مجبور کر دیتے اساتذہ کی بے بسی اور لاچارگی کو دیکھ کر ضمیر گوارا نہ کرتا کہ انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے بلکہ اپنی خداد صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے اس قسم کےحالات واقعات رونما ہو جاتے کہ مجبوراً اساتذہ کی پکار پر لبیک کہنا پڑتا اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تہیہ کر لیا تھا کہ اب سکون کی زندگی بسر کروں گا لیکن اپنی کمیونٹی کے افراد نے ہی جب پکارا اور کہا کہ تعلیمی دفاتر میں فوت شدگان اساتذہ اور ملازمین کی فائلیں غائب کر دی جاتی ہیں اساتذہ کو چکر پر چکر لگوا کر ذلیل کیا جارہا ہے کسی ٹیچر کی درخواست گم کر دی جاتی یا اسے دبا دیا جاتا ہے جب ہر طرف سے مایوسی ہوئی تو انھوں نے مجھ سے رابطہ کرنا شروع کردیا یوں ان کے بار بار اسرار کرنے پر کافی سوچ بچار کے بعد اس سسٹم کو للکارتے ہوئے میدان عمل میں پھر سے کود پڑا اور کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
ضلع اٹک کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی ایک ماہر تعلیم بزرگ شخصیت پروفیسر ڈاکٹر حکمداد صاحب اکثر اپنے لیکچر اور تقریر میں مولانا رومی کے ایک قول کا تذکرہ کرتے ہوئے ماحول کو خوب گرماتے ہیں مولانا جلال الدین رومی کا قول ہے کہ ہر فرد کو اللہ تعالی نے ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور اس مقصد کے حصول کی خواہش پہلے سے ہی اس کے دل میں رکھ دی جاتی ہے یہی وجہ ہے انسان زندگی کے بعض معاملات سے دور نہیں رہ سکتا یہ قدرت کے فیصلے ہیں بشری تقاضوں اور رجحان کے مطابق اس کو جو ذمہ داریاں اور کام سونپ دیے جاتے ہیں اگر وہ ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہے بھی تو فطرت اپنے قانون اور دستور کے مطابق اس فرد کو اسی ڈگر پر چلنے کے لیے مجبور کر دیتی ہے ہم پر اللہ کا یہ خاص انعام ہے کہ زندگی میں بزرگوں کا ادب و احترام کرنا سیکھا ہے۔

ضعیف پیری کو نہ سمجھ فقط آثار زوال
یہ بصیرت کا خزینہ یہ خود کا ہے جمال
سایہ شاخ شجر ہیں میرے گھر کے بزرگ
دھوپ جتنی بھی کڑی ہو بنتے ہیں ڈھال۔

اشہب زمانہ کی اس سرپٹ دوڑ میں دوسروں کے لیے وقت نکالنا سب سے دشوار اور مشکل عمل ہے آپ کسی فرد یا کمیونٹی کی فلاح و بہبود کی خاطر اپنی پاکٹ سے فوراً رقم نکال کر وقف تو کرسکتے ہیں لیکن 24 گھنٹوں میں سے 60 منٹ کسی مجبوراور مظلوم پر قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے زیر نظر تحریر میں چند بزرگ اور ریٹائرڈ اساتذہ قائدین کا ذکر نہ کرنا میرے قلم کی خیانت ہوگی جو اپنی پیرانہ سالی میں بھی نہ صرف سرگرم عمل رہتے ہیں بلکہ نوجوان اساتذہ کے لیے فکر مند بھی ہیں۔
خطہ پوٹھوہار راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے بزرگ لیڈر ڈاکٹر چودھری صغیر عالم مئی 2016 میں اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوئے اپنی 70 سالہ کبر سنی میں بھی اساتذہ کمیٹی بالخصوص بزرگ پینشنرز ،فوت شدگان ملازمین اور مختلف بیماریوں کے شکار ریٹائرڈ پرسنز کو واجبات دلوانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں روزانہ کی بنیاد پر تمام تعلیمی دفاتر میں جانا ،اکاؤنٹس آفس راولپنڈی تک فائلوں کا بوجھ اٹھائے سفر کرنا اور پھر مسائل حل کروا کے دم لینا ان کا طرہ امتیاز ہے ہمیشہ نوجوان قیادت سے زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام تر اخراجات اپنی پاکٹ سے برداشت کرتے ہیں خدمت کا جواں جذبہ ان کے خمیر میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے دھوپ دیکھتے ہیں نہ سردی کی پرواہ کرتے ہیں راقم الحروف کا جب بھی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس راولپنڈی میں جانا ہوا تو ڈاکٹر صغیر عالم “ریٹائرڈ بابے ” کو وہاں پر موجود پاتا ہوں ان کے کئی ہم عصر داغ مفارقت دے چکے ہیں ڈاکٹر صغیر عالم پنجاب ٹیچرز یونین ضلع راولپنڈی کے صدر بھی رہ چکے ہیں شعبہ تعلیم راولپنڈی کی تاریخ میں ان کا نام بہت بلند رہا ہےاس”بابے” کی خدمات ریٹائرمنٹ کے بعد بھی لائق تحسیں ہیں.

تاریخ کے اوراق میں نواب زادہ نصر اللہ خان (مرحوم ) کا شمار سیاست کی دنیا کے ممتاز راہنماؤں میں ہوتا ہے جو سیاسی افق کے درخشندہ آفتاب بھی تھے اور انھیں بابائے جمہوریت کے نام سے یاد کیا جاتا رہا ہے پاکستان کی تمام نامور سیاسی جماعتوں کو جب بھی جمہوریت کے حوالے سے کسی بحران یا خطرے کا گمان پیدا ہوتا تو نوجوان قیادت بابائے جمہوریت کا سہارا لیتی اور پھر اپنا لائحہ عمل طے کرتی تاریخ گواہ ہے کہ سیاست کی دنیا کی بڑی بڑی قدآور شخصیات ان کے وسیع تجربے، عمیق بصیرت ،مدبرانہ افکار اور دانش و تدبر کے سائے میں پناہ ڈھونڈا کرتی تھیں اور پھر “اس بابے” کے پیش کردہ حل ہی کامیابی کے ضمانت بن جایا کرتے۔

تنظیمی دنیا کے بابائے اساتذہ راجہ فضل الحق (مرحوم) ضلع راولپنڈی کسی تعریف کے محتاج نہیں،ان کی عملی جدوجہد ہمیشہ جرات ،بہادری اور استقامت سے معمور رہی جن پر ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے انھوں
نے جوانی سے لے کر بعد از ریٹائرمنٹ
بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔نڈر اور بے باک شخصیت جن کی مثال شعبہ تعلیم راولپنڈی میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی اپنی ذاتی زمینوں کو فروخت کرکے محض اساتذہ حقوق کی جہد مسلسل پر خرچ کرتے رہے زندگی بھر کبھی کسی دوسرے فرد کی پاکٹ پر نظر اٹھا کر نہیں دیکھا انھیں پنجاب ٹیچر یونین کا” مرد حر “قرار دیا جاتا ہے۔

اسی طرح پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب کے پلیٹ فارم پر بھلوال کی سرزمین پر جنم لینے والی شخصیت راجہ مظفر علی جو کہ اس تنظیم کے مرکزی سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے ہیں اساتذہ حقوق کی خاطر ان کی ان تھک کاوشیں تاریخ کے سنہری حروف میں رقم ہو چکی ہیں 2006 میں ریٹائر ہوئے 80 سالہ حیات قریب الموت میں بھی اپنے بستر ضعیفی پر اساتذہ کی ہمت اور حوصلہ بڑھاتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں صحت و تندرستی والی عمر دراز عطاء فرمائے راجہ مظفرعلی میرے تعلیمی استاد بھی ہیں اور تنظیمی سیاست کے رہبر بھی۔ میں نے ان کے سائے کے نیچے بہت کچھ سیکھا ہے ان جیسی مثبت اور مدبرانہ سوچ میری زندگی میں دیگر قائدین کے اندر دیکھنے میں نہیں آئی۔
ضلع لیہ سے پنجاب ایس ای ایس ٹیچرزایسوسی ایشن پنجاب کے سابق مرکزی صدر رانا سلطان محمود اختر 2017 میں ریٹائر ہوئے عمر 70 سال ہو چکی ہے ہمیشہ اساتذہ مسائل کے پہاڑوں سے ٹکراتے نظر آئے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی عمر ضعیفی میں بھی ایک چٹان بن کر کھڑے ہیں اور ضلع لیہ کے رفاع عامہ کے کام کروانے میں ہراول دستہ ہیں ۔پنجاب کے گرم ترین علاقے ضلع ملتان کی سرزمین پر ابھرنے والے رانا ولایت حسین جو اس وقت 68 سال عمر تک پہنچ چکے ہیں آج بھی اپنی تحریروں اور اخباری بیانات کے ذریعے سے نوجوان طبقہ اور بزرگ پینشنرز کے خون کو خوب گرماتے رہتے ہیں اور ان کے حقوق کی بھر پور ترجمانی اپنی گرجدار آواز میں کر رہے ہیں ملتان ہی کی گرم فضاؤں میں پروان چڑھنے والی شخصیت رانا دلشاد نے اپنی ملازمت کا نصف دورانیہ اساتذہ حقوق کی بازیابی کے لیے عدالتی جنگ لڑتے گزار دی ان کی خدمات بھی سنہری حروف میں لکھی جا چکی ہیں۔

پنجاب کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو بزرگ قائدین اساتذہ کی ایک طویل فہرست بنتی ہے جو کہ عمر پیرانہ میں بھی اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ان میں سینئر سٹاف ایسوسی ایشن پنجاب کے سابق صدر حافظ عبدالناصر فیصل آباد بھی شامل ہیں جو کہ فہم و فراست، تدبر اور حکمت کا سر چشمہ ہیں 2021 میں ریٹائر ہوئے۔
66 سالہ عمر میں اپنی صدائے حق
کو بلند رکھے ہوئے ہیں عملی طور پر ہر احتجاجی مظاہرے میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔سید ظہور حسین شاہ راولپنڈی اور پی ٹی یو پنجاب کے مایہ ناز سپوت اللہ بخش قیصر (مرحوم) شاہینوں کا شہر سرگودھا بھی ریٹائرمنٹ کے بعد مرتے دم تک اساتذہ کی خاطر شاہین کی طرح حکومتی ایوانوں سے جھپٹے پلٹتے رہے اور ٹکراتےرہے ہیں
حاجی عبدالمناف جن کا تعلق ضلع ہری پور ہزارہ سے ہے 2022 میں اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوئے اور اس وقت 61 سال کی عمر میں اساتذہ اور دیگر تمام شعبہ جات کے ملازمین کے لیے ہمہ تن گوش رہتے ہیں۔ لاہور سے پینشنرز ایسوسی ایشن پنجاب کے چئیر مین ڈاکٹر اسحاق رحمانی ، گجرات سے منیر چغتائی اور منڈی بہاوالدین سے چودھری بشیر وڑائچ جیسے” بابے” میدان عمل میں دکھائی دیتے ہیں یاد رکھیں بزرگ اور ریٹائرڈ شخصیات فہم و فراست ،دانش و حکمت اور بصیرت کا روشن مینار ہوتی ہیں ان کے تجربات نئی نسل کی رہنمائی کا سر چشمہ ہوتے ہیں اپنے تدبر سے پیچیدہ اور مشکل ترین مسائل کا موثر حل بھی نکالتے ہیں۔
ضرب المثل ہے کہ
با ادب با مراد، بے ادب بے مراد۔

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی۔

( قلم اور قانون)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں