78

تختِ فرعون اور بھوک سے نڈھال عوام احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، قانون ہم لکھتے ہیں، اور یہ پورا ملک ہماری ذاتی جاگیر ہے۔ حکمران طبقے کی یہ وہ سوچ ہے جس نے ریاست کو عوامی فلاح کے بجائے چند اشرافیہ کی ذاتی ملکیت بنا دیا ہے۔ ایک کلو آٹے کی قیمت ہماری خودداری سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، کیونکہ مہنگائی کے اس طوفان میں غریب کی عزتِ نفس کو بری طرح روند دیا گیا ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں مگر نظام کی بے حسی نے انہیں بھوک اور کسمپرسی کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ حکمران طبقہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو یہ درس دیتا ہے کہ نماز پڑھو، زکوٰۃ دو، حج کرو، لیکن حاکم کے نظام میں دخل نہ دو کیونکہ اطاعت ہی عبادت ہے۔ یہ مذہب کی روح کے سراسر منافی ایک ایسا نظریہ ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے ہر حق کو پامال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دین کو صرف ذاتی عبادات تک محدود کر کے ظلم پر خاموشی کو فرض قرار دیا جا رہا ہے تاکہ طاقتور طبقہ بلا روک ٹوک اپنے اقتدار کو طول دے سکے۔ بل بھریں یا بچوں کو روٹی کھلائیں؟ اب جینا بھی جرم بن چکا ہے۔ گھر کا ماہانہ بجٹ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ یوٹیوب بلز اور بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنا ناممکن ہو گیا ہے، اور عوام اپنے ہی وطن میں مجرموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ممبر سے صرف صبر کا درس جانا چاہیے، تاکہ ان کا دھیان ہمارے خزانوں پر نہ جائے۔ مساجد اور مذہبی پلیٹ فارمز کو منظم طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو صبر کا جھوٹا دلاسا دے کر حکمرانوں کی کرپشن اور لوٹ مار سے غافل رکھا جا سکے۔ ایک طرف عربوں کا عیش و عشرت، دوسری طرف غریب کا کیچڑ اور اندھیرا۔ یہ اس طبقاتی تضاد کا منہ بولتا ثبوت ہے جہاں ایک طرف شاہانہ طرزِ زندگی اور پروٹوکول کے مزے لوٹے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف پس ماندہ بستیوں کے باسی بنیادی سہولتوں سے محروم تاریکی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ قانون کی لاٹھیاں اور فصیلیں صرف غریب کا راستہ روکنے کے لیے ہیں۔ انصاف کے ادارے اور حکومتی رٹ صرف کمزوروں کے حقوق سلب کرنے کے لیے متحرک ہوتی ہے جبکہ طاقتور قانون کی گرفت سے ہمیشہ آزاد رہتے ہیں۔ یہ بجلی کا بل، یہ بھوک تمہاری آزمائش ہے۔ حکمران غریبوں کی اس ناگفتہ بہ حالت کو الہی آزمائش کا نام دے کر اپنی نااہلی اور ظلم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اور مشورہ دیتے ہیں کہ خاموشی سے نماز پڑھو اور صبر کرو۔ یہ ہماری آزمائش نہیں، یہ ان کی ڈکیتی ہے۔ عوام نے اب اس فریب کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ ان کی غربت کوئی آسمانی عذاب نہیں بلکہ ان ظالم حکمرانوں کی منظم لوٹ مار اور ڈکیتی کا نتیجہ ہے۔ اب بہت ہو چکا ہے اور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ خاموشی کا وقت ختم، اب ہم اس جھوٹے نظام کو تسلیم نہیں کریں گے۔ استحصال کی اس چکی میں پسنے والے عوام نے اب بغاوت کا علم بلند کر دیا ہے اور اس جبر کے تسلسل کو توڑنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ انہیں روکو! مزید فتوے جاری کرو! فصیلیں بند کرو! حکمران طبقہ عوامی طاقت کے اس سیلاب کو دیکھ کر خوفزدہ ہو چکا ہے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے ہر ممکنہ ہتھکنڈہ استعمال کر رہا ہے، فتوے دیے جا رہے ہیں اور راستے مسدود کیے جا رہے ہیں۔ دین کے نام پر بیچنے والے جھوٹ، اب بیدار عوام کو نہیں روک سکتے کیونکہ مذہب کی آڑ میں لوٹ مار کرنے والوں کا مکروہ چہرہ اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ جب مظلوم ایک ساتھ سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو ظالم کے ایوان کپکپاتا ہے۔ عوامی اتحاد اور یکجہتی وہ طاقت ہے جو کسی بھی آمرانہ اور ظالم نظام کی بنیادیں ہلا دیتی ہے اور تخت و تاج کو زمین بوس کر دیتی ہے۔ حق کا آفتاب طلوع ہو چکا ہے، ظلم کا یہ نظام اب باقی نہیں رہے گا اور روشنی کی یہ کرن ظلم کی تاریکی کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر ایک نئے اور منصفانہ دور کا آغاز کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں