14

بیٹی…ایک سوال جو معاشرے کے دروازے پر کھڑا ہے از قلم: ایمان جاوید اقبال

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں کہ انسان نے ظلم کرنا سیکھ لیا ہے؛ المیہ یہ ہے کہ ظلم دیکھنے کے بعد بھی اسے معمول سمجھنے لگا ہے۔ خصوصاً جب ظلم کی زد میں کوئی بیٹی ہو تو معاشرہ چند لمحوں کے افسوس، چند جملوں کی مذمت اور چند رسمی آنسوؤں کے بعد اپنی روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ جیسے کسی بیٹی کا خواب ٹوٹنا، کسی کی آواز دب جانا، کسی کی مرضی چھین لی جانا، کسی کی عزتِ نفس کو روند دیا جانا، ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے کوئی مستقل سوال ہی نہ ہو۔
ہم نے بیٹی کو صدیوں سے “رحمت”کہا ہے، مگر شاید اسے انسان سمجھنے میں آج بھی تردد ہے۔
بیٹی پیدا ہوتی ہے تو مبارک باد دی جاتی ہے۔ اس کے ننھے ہاتھوں میں دعائیں رکھ دی جاتی ہیں، اس کے مستقبل کے لیے خواب دیکھے جاتے ہیں، مگر اسی کے بچپن سے اس کے گرد غیر محسوس پابندیوں کا حصار کھینچنا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ کہاں بیٹھنا ہے، کیسے بولنا ہے، کس لہجے میں ہنسنا ہے، کس بات پر خاموش رہنا ہے اور کس خواب کو خواب ہی رہنے دینا ہے۔
پھر ایک دن وہ بڑی ہو جاتی ہے اور ہم حیران ہوتے ہیں کہ اس کے اندر اتنی خاموشی کہاں سے آ گئی۔
یہ خاموشی اچانک پیدا نہیں ہوتی۔
یہ برسوں کے ان جملوں سے جنم لیتی ہے جنہیں ہم تربیت کا نام دیتے ہیں۔
“لوگ کیا کہیں گے؟”
لڑکی ہو، اتنا نہیں بولا کرو۔”
“تمہارا گھر تو کل بدل جانا ہے۔”
“یہ خواب تمہارے کس کام کا؟”
اپنی مرضی سے فیصلے کرنا لڑکیوں کو زیب نہیں دیتا۔”
ایسے جملے بظاہر معمولی ہوتے ہیں، مگر انسان کے اندر ایک پوری دنیا تعمیر یا مسمار کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر ظلم شور کے ساتھ نہیں آتا۔ بعض مظالم خاموش قدموں سے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ بیٹی کی تعلیم روک دینا بھی ظلم ہے، اس کے خواب کا مذاق اڑانا بھی ظلم ہے، اس کی رائے کو ہمیشہ کمتر سمجھنا بھی ظلم ہے، اس کی زندگی کے فیصلے اس کی مرضی کے بغیر کرنا بھی ظلم ہے۔ اور جب کسی عورت کو صرف اس لیے برداشت کرنے پر مجبور کیا جائے کہ ’’رشتہ بچانا ہے‘‘ تو کبھی کبھی ہم رشتہ نہیں بچا رہے ہوتے، ہم ظلم کو عمر عطا کر رہے ہوتے ہیں۔
افسوس تو اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب ظلم کرنے والا کوئی اجنبی نہیں بلکہ وہی شخص ہو جسے بیٹی اپنی پناہ سمجھتی ہے۔
باپ، جو اس کے لیے دنیا کا سب سے مضبوط سہارا ہونا چاہیے، اگر اس کے خوابوں کا دروازہ بند کر دے تو وہ کس دروازے پر دستک دے؟
بھائی، جو اس کی حفاظت کا دعوے دار ہے، اگر اس کی آزادی کو قید سمجھنے لگے تو وہ کس سے انصاف مانگے؟
اور وہ معاشرہ جو ہر حادثے کے بعد بیٹی کے کردار، لباس، وقت اور فیصلوں پر بحث شروع کر دیتا ہے، وہ کب اپنے رویوں کا احتساب کرے گا؟
ہمیں ایک عجیب عادت پڑ چکی ہے۔ جب کوئی بیٹی ظلم کا شکار ہوتی ہے تو ہم اس کے زخم گننے سے پہلے اس کی غلطیاں گننا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں: “وہ وہاں کیوں گئی؟”
“اس نے منع کیوں نہیں کیا؟”
“اس نے پہلے بتایا کیوں نہیں؟”
مگر بہت کم لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ ظلم کرنے والے نے ظلم کیوں کیا؟
یہ سوال ہمارے معاشرے کی اصل کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔
ہم مظلوم کے کردار کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے عادی ہیں، ظالم کے کردار کو نہیں۔
بیٹی کو ہمیشہ سمجھوتے کا درس دیا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ گھر بسائے، رشتے نبھائے، برداشت کرے، خاموش رہے۔ مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ رشتہ صرف ایک انسان کی قربانی سے کیوں قائم رہنا چاہیے؟ اگر ایک گھر کو آباد رکھنے کے لیے ایک بیٹی کی روح مسلسل زخمی ہوتی رہے تو کیا وہ گھر واقعی آباد ہے؟
گھر وہ نہیں جہاں صرف دیواریں سلامت ہوں۔
گھر وہ ہے جہاں انسان محفوظ ہو۔
بیٹی کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہر ظلم برداشت کرنا سکھایا جائے۔ مضبوط بیٹی وہ ہے جو اپنے حق اور باطل کے درمیان فرق پہچان سکے۔ جو تعلیم کو اپنا حق سمجھے۔ جو اپنی رائے رکھ سکے۔ جو ضرورت پڑنے پر “نہیں” کہہ سکے۔ جو مدد مانگنے میں شرمندگی محسوس نہ کرے۔ اور جو یہ جانتی ہو کہ عزت کا مطلب اپنی ذات کو مٹا دینا نہیں۔
ہم بیٹوں کی تربیت میں بھی ناکام ہو رہے ہیں۔
ہم نے انہیں یہ تو سکھایا کہ بہن کی حفاظت کرنی ہے، مگر یہ کم سکھایا کہ بہن کی مرضی کا احترام بھی کرنا ہے۔ ہم نے انہیں یہ بتایا کہ گھر کی عورتوں کی عزت ان کی ذمہ داری ہے، مگر یہ نہیں بتایا کہ عورت کوئی ملکیت نہیں جس کی عزت کا مالک مرد ہو۔ وہ اپنی عزت کی خود بھی مالک ہے۔
بیٹی کو محفوظ معاشرہ دینے کے لیے صرف بیٹیوں کو نصیحتیں کافی نہیں، بیٹوں کی تربیت بھی ضروری ہے۔
انہیں طاقت کے ساتھ ذمہ داری، اختیار کے ساتھ اخلاق اور مرد ہونے کے ساتھ انسان ہونے کا شعور بھی دینا ہوگا۔
کیونکہ معاشرے اس وقت نہیں بدلتے جب ہم خوب صورت نعرے لکھتے ہیں؛ معاشرے اس وقت بدلتے ہیں جب ہمارے گھروں کے رویے بدلتے ہیں۔
ہمیں اپنی بیٹیوں سے ایک وعدہ کرنا ہوگا کہ ان کی آواز ہمارے لیے بغاوت نہیں ہوگی۔ ان کے سوال ہماری توہین نہیں ہوں گے۔ ان کے خواب ہمارے لیے بوجھ نہیں ہوں گے۔ ان کے فیصلوں پر اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ان کی انسانیت پر نہیں۔
اور شاید سب سے پہلے ہمیں اپنے گھروں میں یہ سوال اٹھانا چاہیے…کیا ہماری بیٹی ہم سے ڈرتی ہے؟
اگر جواب “ہاں”ہے تو پھر ہمیں دنیا سے شکایت کرنے سے پہلے اپنے گھر کے دروازے پر رک جانا چاہیے۔
کیونکہ بیٹی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیشہ باہر کے دروازے پر پہرہ نہیں چاہیے ہوتا؛ کبھی کبھی گھر کے اندر موجود ذہنوں پر پہرہ ضروری ہوتا ہے۔
بیٹی رحمت ہے یا نہیں، اس بحث سے آگے بڑھنے کا وقت آ چکا ہے۔
وہ پہلے انسان ہے۔
اس کے خوابوں کا بھی ایک آسمان ہے، اس کے وجود کی بھی ایک حرمت ہے، اس کی خاموشی کے پیچھے بھی ایک پوری داستان ہے۔
اور اگر ہم نے اب بھی اس داستان کو پڑھنے سے انکار کیا تو آنے والی نسلیں شاید ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی:
“جب بیٹیاں ظلم سہہ رہی تھیں، جب ان کی آوازیں دیواروں میں دفن ہو رہی تھیں، جب ان کے خواب روایتوں کے نیچے کچلے جا رہے تھے، تب تم کہاں تھے؟”
یہ سوال شاید کسی عدالت میں نہ پوچھا جائے، مگر تاریخ کے حافظے میں ضرور محفوظ رہے گا۔
کیونکہ ظلم صرف وہ نہیں جو ظالم کرتا ہے۔
کبھی کبھی ظلم وہ بھی ہوتا ہے جو دیکھنے والے خاموش رہ کر ہونے دیتے ہیں۔
اللہ پاک تمام بیٹیوں کے نصیب اچھے کریں۔
آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں