اقتدار کی کرسی بظاہر مضبوط دکھائی دے سکتی ہے، مگر اس کی اصل طاقت عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب عوام کسی حکومت اور اس کے سربراہ پر اعتماد کرتے ہیں تو اقتدار مضبوط رہتا ہے، لیکن جب یہی اعتماد آہستہ آہستہ کم ہونے لگے تو بڑے سے بڑا سیاسی قلعہ بھی اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے سے آج یہی سوال شدت کے ساتھ اٹھ رہا ہے کہ کیا وہ عوامی اعتماد کھو رہے ہیں؟
چند روز قبل کاکروچ پارٹی کا کامیاب احتجاج بھارتی سیاسی منظرنامے میں اسی بدلتی ہوئی کیفیت کی ایک نمایاں جھلک ہے۔ یہ احتجاج محض سڑکوں پر جمع ہونے والے افراد کا ایک ہجوم نہیں، بل کہ اس کے پیچھے موجود سیاسی بے چینی اور عوامی اضطراب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب لوگ اپنے مسائل، تحفظات اور احساسات کے اظہار کے لیے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آتے ہیں تو اسے محض سیاسی مخالفت کہہ کر نظر انداز کرنا کسی بھی حکومت کے لیے دانش مندی نہیں۔
نریندر مودی نے بھارتی سیاست میں ایک طویل عرصے تک مضبوط سیاسی گرفت برقرار رکھی ہے۔ ان کی شخصیت بھارتی سیاست میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے اور ان کی جماعت نے بھی ملک کے سیاسی منظرنامے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ مگر سیاست کا مزاج مستقل نہیں ہوتا۔ عوام کے جذبات بدلتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ وہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں جن کا جواب حکمرانوں کو دینا پڑتا ہے۔
آج بھارت میں عوامی مسائل کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ عام آدمی روزگار، مہنگائی، معاشی دباؤ اور مستقبل کے خدشات سے دوچار ہے۔ نوجوان بہتر مواقع کے منتظر ہیں، کسان اپنے مسائل کے حل کی امید رکھتے ہیں اور معاشرے کے مختلف طبقات اپنے اپنے مطالبات کے ساتھ حکمرانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر عوامی بے چینی بڑھتی ہے تو اسے صرف سیاسی مخالفت کا نام دے دینا مسئلے کی اصل نوعیت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
حکومتیں صرف تقریروں سے عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرتیں۔ اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عام شہری کو محسوس ہو کہ اس کی آواز سنی جا رہی ہے، اس کے مسائل کو اہمیت دی جا رہی ہے اور اس کے مستقبل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ کمزور ہو جائے تو اقتدار اور عوام کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا ہونے لگتی ہے جسے بعد میں پُر کرنا آسان نہیں رہتا۔
کاکروچ پارٹی کے حالیہ احتجاج کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ایک احتجاج اپنے اندر بہت سی آوازیں سموئے ہوتا ہے۔ کچھ آوازیں بلند ہوتی ہیں، کچھ خاموش رہتی ہیں اور کچھ دلوں میں دب جاتی ہیں؛ مگر جب یہ احساسات ایک اجتماعی شکل اختیار کر لیں تو انکار مشکل ہو جاتا ہے۔ احتجاج کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوامی اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کا جواب طاقت یا الزام نہیں، بل کہ سنجیدہ غور و فکر اور مکالمہ ہونا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر احتجاج کو پورے ملک کے عوامی مزاج کا مکمل آئینہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مگر ہر احتجاج کو غیر اہم سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ سمجھ دار قیادت اپنے مخالفین کی آواز میں بھی وہ پیغام تلاش کرتی ہے جو اس کی اپنی اصلاح کا سبب بن سکے۔ جو حکمران صرف تعریف سننا چاہے اور اختلاف کی ہر آواز کو دشمنی سمجھنے لگے، وہ آہستہ آہستہ اپنے اور عوام کے درمیان موجود حقیقت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
نریندر مودی کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ عوامی جذبات کو کس حد تک سمجھ پاتے ہیں۔ سیاست میں مقبولیت ایک مستقل اثاثہ نہیں ہوتی؛ اسے ہر دور میں کارکردگی، اعتماد اور عوامی رابطے کے ذریعے برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ جو قیادت اپنے عوام کے دکھ، اضطراب اور سوالات کو سمجھنے میں کامیاب رہتی ہے، وہ مشکل حالات میں بھی اپنا راستہ نکال لیتی ہے؛ لیکن جو قیادت عوام کی آواز کو نظر انداز کر دے، اس کے لیے مشکلات بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
بھارت ایک وسیع اور متنوع ملک ہے۔ یہاں مختلف طبقات، زبانیں، علاقے اور سیاسی رجحانات موجود ہیں۔ ہر طبقے کے مسائل یکساں نہیں، اس لیے ایک ہی سیاسی بیانیے سے سب کے احساسات کو مطمئن کرنا ممکن نہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرے، تنقید کو سنے اور عوامی مطالبات کو محض سیاسی سازش قرار دینے کے بجائے ان کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
عوامی اعتماد کا تعلق صرف حکومت کے اقدامات سے نہیں، بل کہ حکمرانوں کے رویّے سے بھی ہوتا ہے۔ ایک عام شہری یہ دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھ کس لہجے میں بات کی جا رہی ہے، اس کی شکایت کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کے مسائل کے حل کے لیے کتنی سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے۔ کبھی ایک حکومتی فیصلہ اعتماد پیدا کرتا ہے اور کبھی ایک غلط رویہ برسوں کی محنت سے قائم ہونے والا اعتماد کمزور کر دیتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی خاموشی ہمیشہ اطمینان کی علامت نہیں ہوتی۔ کبھی خاموشی کے پیچھے بے بسی ہوتی ہے، کبھی انتظار اور کبھی بڑھتی ہوئی بے چینی۔ جب یہی بے چینی احتجاج کی صورت میں سامنے آتی ہے تو حکمرانوں کے لیے اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
کاکروچ پارٹی کا کامیاب احتجاج اسی لیے اہم ہے کہ اس نے ایک سوال کو نمایاں کر دیا ہے: کیا بھارتی عوام کے ایک حصے میں حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے اعتماد کا بحران پیدا ہو رہا ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا، مگر اسے نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ حکومتیں آتی ہیں، حکومتیں جاتی ہیں، مگر عوام باقی رہتے ہیں۔ عوام ہی کسی قیادت کو اقتدار تک پہنچاتے ہیں اور عوام ہی وقت آنے پر اپنا فیصلہ بدلنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی وزیراعظم کے لیے سب سے قیمتی چیز اقتدار نہیں، عوام کا اعتماد ہے۔
نریندر مودی کے سامنے بھی یہی اصل امتحان ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوامی بے چینی کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں یا اسے ایک ایسے پیغام کے طور پر لیتے ہیں جس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔
کاکروچ پارٹی کا حالیہ احتجاج شاید ایک آغاز ہو، شاید ایک تنبیہ اور شاید بدلتے ہوئے عوامی مزاج کی ایک جھلک۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ جب عوام سوال کرنے لگیں تو حکمرانوں کو جواب دینے کی تیاری کرنی چاہیے۔
کیوں کہ جمہوریت میں اقتدار کی بنیاد طاقت نہیں، اعتماد ہوتا ہے؛ اور جب اعتماد متزلزل ہونے لگے تو اقتدار کی مضبوط دیواریں بھی سوالوں کی زد میں آ جاتی ہیں۔











