امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ نے صرف مشرقِ وسطیٰ کو ہی نہیں ہلایا، بل کہ اس کے اثرات نے دنیا کے سیاسی، دفاعی اور معاشی منظر نامے کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ میدانِ جنگ میں کس نے کیا حاصل کیا، بل کہ یہ ہے کہ اس جنگ نے دنیا کو کیا سبق دیا اور اس کے بعد ممالک نے اپنی سلامتی کے لیے کون سی نئی راہیں اختیار کیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک ایک نئی صف بندی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ممالک سمجھنے لگے ہیں کہ بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی سلامتی کے لیے مضبوط دوست اور قابلِ اعتماد اتحادی ناگزیر ہو چکے ہیں۔
امریکہ اور ایران کی جنگ نے خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک تلخ حقیقت نمایاں کر دی کہ کسی بیرونی طاقت پر مکمل انحصار ہمیشہ قابلِ اعتماد حفاظتی ضمانت نہیں بن سکتا۔ جنگ کے دوران خلیجی تنصیبات اور خطے کی اہم گزرگاہوں کو لاحق خطرات نے عرب ممالک کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ سعودی عرب سمیت کئی ممالک کے لیے اب یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی سلامتی کے لیے کس حد تک اپنے علاقائی شراکت داروں پر انحصار کر سکتے ہیں۔ حالیہ تجزیوں میں بھی خلیجی ممالک کے اندر امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات اور علاقائی دفاعی تعاون کے بڑھتے رجحان کو نمایاں کیا گیا ہے۔
اسی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے درمیان پاکستان نے ایک اہم سفارتی اور دفاعی پیش رفت کی۔ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کے اصول کو تسلیم کیا اور یہ طے کیا کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ یہ معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون نہیں، بل کہ ایک ایسے وقت میں سامنے آنے والی بڑی علاقائی پیش رفت ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بعد نئی سکیورٹی ترتیب تشکیل پا رہی ہے۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ وہ اب صرف ایک ملک کے ساتھ دفاعی تعاون تک محدود نہیں رہا، بل کہ ترکی اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک کے ساتھ ایک وسیع تر تزویراتی شراکت داری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے پاس ایک تجربہ کار دفاعی نظام اور جوہری صلاحیت ہے، ترکی دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری صنعت میں نمایاں مقام رکھتا ہے، جب کہ سعودی عرب خطے کی بڑی معاشی اور تزویراتی قوت ہے۔ اگر ان تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک منظم اور ذمہ دار فریم ورک میں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں تو یہ تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے اصل کامیابی صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں، بل کہ ایک مضبوط علاقائی بلاک کی تشکیل کا امکان ہے۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب قومیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیتی ہیں تو ان کی اجتماعی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان اگر ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دفاع کے علاوہ معیشت، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور سفارت کاری کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھاتا ہے تو یہ شراکت داری ایک جامع تزویراتی اتحاد میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
تاہم اس اتحاد کو کسی ملک کے خلاف محاذ کے طور پر دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ ترکی نے بھی واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے، بل کہ اس کا مقصد اجتماعی دفاع اور سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہی نقطہ اس معاہدے کی اصل طاقت بھی ہے، کیوں کہ دفاعی اتحاد اگر جارحیت کے بجائے جارحیت کی روک تھام کا ذریعہ بنیں تو وہ خطے میں جنگ کے امکانات کم کر سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کے لیے بھی یہ صورتِ حال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں بھارت کے ساتھ کشیدگی، افغانستان کی صورتِ حال اور بحیرۂ عرب و خلیج کے بدلتے ہوئے حالات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا مضبوط دفاعی اور سفارتی دائرہ اسے کسی بھی ممکنہ دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن فراہم کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان کے ساتھ ترکی اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک کھڑے ہوں تو کسی بھی فریق کے لیے پاکستان کو تنہا سمجھ کر دباؤ ڈالنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
لیکن طاقت کا اصل مقصد جنگ نہیں، جنگ کو روکنا ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان اپنے نئے اتحادوں کو اس اصول کے تحت آگے بڑھاتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا کے امن کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک مضبوط پاکستان، اپنے دوست ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کر سکتا ہے، بل کہ خطے میں طاقت کا ایسا توازن بھی قائم کر سکتا ہے جس میں کسی فریق کے لیے جنگ شروع کرنا آسان نہ رہے۔
آج دنیا میں ایک نیا تصور ابھر رہا ہے۔ قومیں اب صرف اپنے ہتھیاروں کی تعداد نہیں دیکھتیں، بل کہ یہ بھی دیکھتی ہیں کہ مشکل وقت میں ان کے ساتھ کون کھڑا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے بعد خلیجی ممالک علاقائی شراکت داری کو اہمیت دے رہے ہیں اور پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ اسی بڑی تبدیلی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ بعض تجزیوں میں اسے مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کو اب اس موقع کو صرف دفاعی کامیابی سمجھ کر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ اسے اپنی معیشت مضبوط کرنی ہوگی، سفارتی دائرہ وسیع کرنا ہوگا، دوست ممالک کے ساتھ عملی تعاون بڑھانا ہوگا اور خطے میں امن کے لیے اپنی آواز مزید مؤثر بنانی ہوگی۔ مضبوط معیشت کے بغیر دفاعی طاقت دیرپا نہیں ہوتی اور مضبوط سفارت کاری کے بغیر اتحاد مستقل نہیں رہتے۔
اگر پاکستان اسی طرح دانش مندی کے ساتھ اپنے علاقائی تعلقات مضبوط کرتا رہا، نئے شراکت دار بناتا رہا اور موجودہ اتحادوں کو عملی تعاون میں تبدیل کرتا رہا تو وہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اس صورت میں مضبوط اتحاد کسی نئی جنگ کا پیش خیمہ نہیں، بل کہ جنگ کی روک تھام کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کی جنگ نے دنیا کو ایک بار پھر یہ سبق دیا ہے کہ کم زور سکیورٹی نظام اور یک طرفہ انحصار کسی بھی ملک کو بحران سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ مستقبل انہی قوموں کا ہے جو اپنے دفاع کے ساتھ اپنی سفارت کاری، معیشت اور اتحادوں کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔ پاکستان کے سامنے آج ایک ایسا ہی موقع ہے۔ اگر اس نے اس موقع کو حکمت، تدبر اور امن کے اصولوں کے ساتھ استعمال کیا تو نہ صرف اس کی اپنی سلامتی مضبوط ہوگی، بل کہ جنوبی ایشیا کا امن بھی داؤ پر لگنے کے بجائے ایک نئے اور مضبوط علاقائی توازن کے سہارے محفوظ رہ سکے گا۔











