8

انصاف اور قانون کی بالادستی پر چیف جسٹس آف آزادکشمیر کا زور

میرپور (بیورورپورٹ ) چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ میں نئے انرول ہونے والے وکلاء ضابطہ اخلاق اور پیشہ ورانہ مہارت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں، وکلاء عدالتوں کی شان اور نظام انصاف کا اہم ستون ہیں، وکالت صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ معاشرے میں محبت، ہمدردی، برداشت اور انسانی خدمت کا عملی مظہر ہے۔ جب وکلاء قانون، ضابطہ اخلاق اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں تو وہ معاشرے کے لیے مثال بنتے ہیں اور اسی بدولت انصاف کی فراہمی کا عمل مزید مستحکم اور مؤثر ہوتا ہے۔ وکالت ایک مقدس، باوقار اور خدمتِ خلق سے وابستہ پیشہ ہے، جس کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور معاشرے میں امن، رواداری اور انسانی اقدار کا فروغ ہے۔ بینچ اور بار کا چولی دامن کا رشتہ ہے، دونوں کے باہمی اعتماد، احترام اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی سے ہی نظام عدل مضبوط اور عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ نوجوان وکلاء مستقبل کے معمار ہیں اور ان سے توقعات وابستہ ہیں، انصاف ہر چیز پر مقدم ہے اور وکلاء کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف کی سربلندی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان اور جج سپریم کورٹ جسٹس چوہدری خالد یوسف کے ہمراہ سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر میں نئے انرول ہونے والے وکلاء کی لائسنس انرولمنٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل آزاد جموں و کشمیر راجہ ندیم خان بھی موجود تھے۔تقریب میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے سینئر جج جسٹس رضا علی خان اور جسٹس چوہدری خالد یوسف کے ہمراہ نئے انرول ہونے والے وکلاء گل ادریس ایڈووکیٹ، ماجد علی ایڈووکیٹ، محمد رضا الحق ایڈووکیٹ، نیاز احمد بشیر ایڈووکیٹ، سید وجاہت کاظمی ایڈووکیٹ، اسد نواز جرال ایڈووکیٹ، محترمہ طاہرہ محمود ایڈووکیٹ، محمد جمیل ایڈووکیٹ، محمد اجمل ایڈووکیٹ، جنید ملک ایڈووکیٹ، محترمہ عاصمہ مجید ایڈووکیٹ اور ارسلان جاوید ایڈووکیٹ کو سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے اور انہیں سپریم کورٹ میں انرولمنٹ پر مبارکباد دی، چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ منکسرالمزاج، ضابطہ اخلاق کے پابند اور اصول پسند وکلاء ہی حقیقی معنوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، نوجوان وکلاء کو چاہیے کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ سفر میں کبھی بھی پیشہ ورانہ اقدار اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں۔ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی جدوجہد میں وکلاء نے تاریخ ساز کردار ادا کیا، تحریک آزادی کی اَن گنت داستانوں میں وکلاء کی خدمات سنہری حروف سے لکھی گئی ہیں۔ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی ایک مہذب اور مثالی معاشرے کی ضمانت ہیں، ایک مضبوط اور فعال نظام عدل ہی عوام کے حقوق کا حقیقی محافظ ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائل کو بروقت انصاف کی فراہمی اسی وقت ممکن ہے جب وکلاء تحمل، بردباری، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ وکلاء کا کردار انہیں دیگر شعبہ ہائے زندگی سے ممتاز بناتا ہے، معاشرے میں وکلاء کی ذمہ داریاں انتہائی اہم پیشہ ورانہ نوعیت کی حامل ہوتی ہیں جو خدمتِ خلق کی بنیاد بنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکلاء سیکھنے کے عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ وکالت ایسا شعبہ ہے جہاں علم اور تجربے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ صبر، تحمل، شائستگی اور مثبت رویہ ہی کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر کامل توکل اور خدمتِ خلق کو اپنا مشن بنانے والے افراد کے لیے کامیابی کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے نئے انرول ہونے والے وکلاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ قانون، ضابطہ اخلاق اور اعلیٰ پیشہ ورانہ روایات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتے ہوئے انصاف کی فراہمی، قانون کی بالادستی اور نظام عدل کی مضبوطی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں