دہشت گردی محض چند مسلح افراد کی کارروائیوں کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو ریاست کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا، معاشرے میں خوف پھیلاتا اور قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان برسوں سے اس عفریت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس جنگ میں ہمارے فوجی جوانوں، پولیس اہل کاروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، مگر افسوس کہ یہ زخم وقفے وقفے سے دوبارہ تازہ ہو جاتا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے بعض علاقوں میں دہشت گردی کی نئی لہر نے ایک مرتبہ پھر قومی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مختلف کالعدم تنظیمیں اور مسلح گروہ پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کا مقصد صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں، بل کہ ملک میں خوف، انتشار اور بے یقینی کی ایسی فضا پیدا کرنا بھی ہے جس سے ریاست کی گرفت کم زور دکھائی دے۔
خصوصاً بلوچستان میں پیش آنے والے بعض واقعات نے دہشت گردی کے ایک انتہائی خطرناک رخ کو نمایاں کیا ہے۔ شناخت اور زبان کی بنیاد پر پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پنجابی مزدور ہوں، فوجی جوان ہوں یا پولیس کے اہل کار، انہیں صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا دراصل پوری پاکستانی قوم کے خلاف حملہ ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں دہشت گردوں کی اصل حکمتِ عملی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ ایک متحد پاکستان کو کم زور کرنا آسان نہیں، اس لیے وہ پاکستانیوں کے درمیان نفرت کے بیج بونا چاہتا ہے۔ کہیں زبان کے نام پر، کہیں قومیت کے نام پر اور کہیں علاقے کے نام پر فاصلے پیدا کیے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کی گولیاں صرف جسموں کو زخمی نہیں کرتیں، بل کہ ان کے پیچھے چھپا ہوا نظریہ معاشرے کی روح کو بھی زخمی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافتوں کا ایک خوب صورت گلدستہ ہے۔ پنجابی، بلوچ، پشتون، سندھی، سرائیکی، کشمیری اور دیگر تمام پاکستانی اس وطن کے برابر کے وارث ہیں۔ کسی ایک پاکستانی کا خون دوسرے سے کم قیمتی نہیں۔ جو شخص زبان، نسل یا علاقے کی بنیاد پر کسی انسان کی جان لیتا ہے، وہ صرف ایک فرد کا قاتل نہیں، بل کہ قومی وحدت کا دشمن بھی ہے۔
بلوچستان کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جغرافیائی محلِ وقوع، قدرتی وسائل اور دفاعی اعتبار سے یہ صوبہ پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دشمن ہمیشہ اس خطے میں بدامنی کو ہوا دینے کے مواقع تلاش کرتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی صرف ایک صوبائی مسئلہ نہیں، بل کہ پورے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کا معاملہ ہے۔
خیبر پختون خوا کے عوام بھی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ اس خطے نے بے شمار جنازے اٹھائے، خاندان اجڑے اور عام زندگی طویل عرصے تک خوف کے سائے میں رہی۔ پاکستان نے بڑی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد امن کی فضا قائم کی، مگر اگر دہشت گرد عناصر دوبارہ منظم ہو رہے ہیں تو یہ صورتِ حال فوری اور سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔
اب ریاست کو محض ردِعمل کی پالیسی سے آگے بڑھنا ہو گا۔ کسی ایک حملے کے بعد چند گرفتاریاں یا محدود کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے پورے ڈھانچے کو سمجھا جائے اور اس کے خلاف جامع، مربوط اور فیصلہ کن حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور منصوبہ سازوں تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔
ریاست کی رِٹ ہر صورت قائم رہنی چاہیے۔ جہاں ریاست کی گرفت کم زور پڑتی ہے، وہاں قانون شکن عناصر اپنے لیے جگہ پیدا کر لیتے ہیں۔ دہشت گردوں کے معاملے میں اب کسی ابہام، مصلحت یا غیر ضروری تاخیر کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ جو عناصر پاکستان کی سرزمین پر بے گناہوں کا خون بہا رہے ہیں، ان کے خلاف قانون اور ریاستی طاقت کے مطابق بلا تفریق کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ کارروائی کسی مخصوص قوم، زبان یا علاقے کے خلاف نہیں، بل کہ صرف دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ہونی چاہیے۔ بلوچستان کے عوام کو چند مسلح گروہوں کے اعمال سے جوڑنا بھی ایک سنگین غلطی ہو گی۔ اسی طرح خیبر پختون خوا کے عوام کو دہشت گردی سے منسلک کرنا بھی ناانصافی ہے۔ ان علاقوں کے عام لوگ خود دہشت گردی کے سب سے بڑے متاثرین ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف ایک بڑے اور مؤثر آپریشن کی ضرورت اس لیے بھی محسوس ہوتی ہے کہ یہ مسئلہ اب محض چند دور دراز علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ جب دہشت گرد ریاستی اہل کاروں، مزدوروں اور عام شہریوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانے لگیں تو یہ واضح اشارہ ہے کہ ان کے عزائم صرف خوف پھیلانے تک محدود نہیں، بل کہ وہ قومی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
اس جنگ میں فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور سول انتظامیہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں، بل کہ درست معلومات، مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت فیصلوں سے بھی کیا جاتا ہے۔ ریاست کو جدید تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہو گا تاکہ دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔
سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی اس موقع پر بہت اہم ہے۔ دہشت گردی جیسے قومی مسئلے کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کے معاملے پر پوری سیاسی قیادت کو ایک صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔ دشمن کے خلاف سب سے مضبوط پیغام قومی اتحاد ہوتا ہے۔
عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ دہشت گرد صرف بندوق اور بارود سے حملہ نہیں کرتے، بل کہ افواہوں، جھوٹے پروپیگنڈے اور نفرت انگیز بیانیے کے ذریعے بھی معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں ایک غیر مصدقہ خبر بھی خوف اور انتشار کو جنم دے سکتی ہے، اس لیے ہر شہری کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
خصوصاً ہمیں زبان اور قومیت کے نام پر پھیلائی جانے والی نفرت سے ہوشیار رہنا ہو گا۔ بلوچستان میں کسی پنجابی کا قتل صرف پنجابیوں کا مسئلہ نہیں، بل کہ پورے پاکستان کا سانحہ ہے۔ اسی طرح کسی بلوچ، پشتون، سندھی یا کسی دوسرے پاکستانی کو شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا پوری قوم کے خلاف جرم ہے۔ ہمارا دکھ مشترک ہے اور ہماری سلامتی بھی مشترک ہے۔
پاکستان کی طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔ ہماری مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی شناختیں ہماری کم زوری نہیں، بل کہ ہماری قومی خوب صورتی ہیں۔ دشمن اسی تنوع کو اختلاف میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، مگر ہمیں اس سازش کو سمجھنا اور ناکام بنانا ہو گا۔ پاکستان کسی ایک قومیت کا نہیں، بل کہ ان تمام لوگوں کا مشترکہ گھر ہے جو اسے اپنا وطن کہتے ہیں۔
آج ضرورت ایک نئے قومی عزم کی ہے۔ ایسا عزم جس میں ریاست پوری قوت کے ساتھ دہشت گردوں کا تعاقب کرے، سیاسی قیادت قومی مفاد کو مقدم رکھے اور عوام نفرت و تقسیم کے ہر بیانیے کو مسترد کر دیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی وقتی نہیں، بل کہ ایسی ہونی چاہیے جو اس ناسور کی جڑوں تک پہنچے۔
ہمارے فوجی جوان، پولیس اہل کار اور عام شہری اس ملک کے امن کے لیے بڑی قربانیاں دے چکے ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کو دوبارہ پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ بہت سی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، بہت سے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھا اور بہت سے گھر ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔
اب مزید مصلحت کی گنجائش نہیں۔ ریاست کو دہشت گردوں اور ان کے پورے نیٹ ورک کے خلاف بلا تفریق، بلا تاخیر اور مکمل عزم کے ساتھ کارروائی کرنی چاہیے۔ جو لوگ پاکستان کے امن کو تباہ کرنے اور پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں قانون کے مطابق اپنے انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔
یہ جنگ صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں، یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ اگر ہم زبان، نسل اور علاقے کے نام پر تقسیم ہونے سے انکار کر دیں اور ایک پاکستانی قوم کی حیثیت سے کھڑے ہو جائیں تو دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہتھیار ناکام ہو جائے گا۔
پاکستان کو آج ایک مضبوط، پُرامن اور متحد ریاست کے طور پر آگے بڑھنا ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ریاستی عزم، قومی اتحاد اور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے۔ کیوں کہ یہ وطن ہم سب کا ہے، اس کا امن ہم سب کی ضرورت ہے اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ امن کے دشمنوں کو واضح پیغام دیا جائے کہ پاکستان کو خوف اور نفرت کے ذریعے کم زور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قوم اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور متحد ہو کر دہشت گردی کے ہر اندھیرے کا مقابلہ کرے گی۔ پاکستان کا مستقبل خوف میں نہیں، امن میں ہے؛ تقسیم میں نہیں، اتحاد میں ہے۔











