17

اقتدار کے مزے، تحفظات کا شور حمید علی

پاکستان کی سیاست میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر اختلاف کی چادر اوڑھے رکھتے ہیں، مگر اندر سے اقتدار کی ایک ہی بساط پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی سیاسی قربت بھی کچھ ایسی ہی محسوس ہوتی ہے۔ دونوں جماعتیں بظاہر الگ سیاسی شناخت رکھتی ہیں، اپنے اپنے منشور اور سیاسی بیانیے پیش کرتی ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر ان کے مفادات، شراکت داری اور پاور شیئرنگ کے معاملات انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آتے ہیں۔ عوام کے سامنے کبھی اختلافات کی گرد اڑتی ہے، کبھی تحفظات کا شور بلند ہوتا ہے، مگر اقتدار کی تقسیم اور مراعات کے معاملے میں دونوں کے درمیان ایک قابلِ ذکر ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے۔

آج سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سیاسی طور پر ایک دوسرے کی حریف ہیں تو پھر اقتدار کے ایوانوں میں ان کی شراکت داری اتنی مضبوط کیوں ہے؟ اگر ایک جماعت وفاقی حکومت کی حمایت کر رہی ہے اور دوسری جماعت حکومت چلا رہی ہے تو پھر عوام کے سامنے ہونے والی یہ سیاسی نوک جھونک آخر کس لیے ہے؟ کیا یہ حقیقی اختلاف ہے یا محض سیاسی نورا کشتی، جس کا مقصد عوام کو یہ تاثر دینا ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ دونوں جماعتوں نے اقتدار کی تقسیم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ صدرِ مملکت سمیت اہم آئینی اور ریاستی عہدوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودگی، چیئرمین سینیٹ کا منصب، صوبوں میں گورنر کے اہم عہدے اور دیگر آئینی و انتظامی مناصب اس پاور شیئرنگ کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں بھی اس کی حکمرانی موجود ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی اقتدار کے نظام سے باہر کھڑی کوئی بے اختیار جماعت نہیں، بل کہ وفاقی سیاست سے لے کر صوبائی اور آئینی سطح تک اقتدار کے کئی اہم مراکز میں اس کی شراکت موجود ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اقتدار کے اتنے دروازے کھلے ہوں، حکومتی فیصلوں میں شراکت ہو، اہم آئینی عہدے پاس ہوں اور پاور شیئرنگ کا باقاعدہ نظام موجود ہو تو عوام کے سامنے بار بار یہ تاثر کیوں دیا جاتا ہے کہ ہم بڑے پریشان ہیں، ہمیں بڑے تحفظات ہیں اور ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے؟ کیا اقتدار میں شراکت داری اور عوام کے سامنے تحفظات کا اظہار ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو پھر عوام کو اس سیاسی حکمتِ عملی کی اصل نوعیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔

حالیہ کشمیر کے انتخابات نے اس سیاسی طرزِ عمل کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انتخابی نتائج پاکستان پیپلز پارٹی کی توقعات کے مطابق نہ آئے تو انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار شروع ہو گیا اور نتائج کو قبول کرنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ اگر واقعی انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو ان کی نشاندہی اور قانونی طریقے سے احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انتخابی نتائج صرف اس وقت قابلِ اعتراض ہوتے ہیں جب وہ کسی جماعت کے حق میں نہ ہوں؟

جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی کامیابی کو عوام کا فیصلہ سمجھیں تو شکست کو بھی عوام کے فیصلے کے طور پر قبول کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ اگر کوئی جماعت سمجھتی ہے کہ اس کے ساتھ انتخابی عمل میں ناانصافی ہوئی ہے تو اسے ٹھوس شواہد سامنے لانے چاہییں اور آئینی و قانونی فورمز سے رجوع کرنا چاہیے۔ محض عوامی جذبات کو ابھارنے کے لیے تحفظات کا شور مچانا جمہوری عمل کو مضبوط نہیں کرتا۔ جمہوریت صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں، بل کہ اختلافِ رائے اور شکست کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی جمہوری رویے کا بنیادی حصہ ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوں تو جمہوریت مضبوط، انتخابات شفاف اور نظام قابلِ اعتماد دکھائی دیتا ہے، لیکن جب اقتدار کے کسی حصے میں کمی محسوس ہو یا انتخابی میدان میں شکست کا سامنا کرنا پڑے تو وہی نظام مشکوک، انتخابات متنازع اور ادارے قابلِ اعتراض بن جاتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار عوام کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے اور جمہوری نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان موجود سیاسی شراکت داری کو دیکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی سیاسی ضرورت بھی ہیں اور اقتدار کی ساتھی بھی۔ ایک طرف وفاق میں مفاہمت اور پاور شیئرنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے، دوسری طرف عوام کے سامنے اختلافات کی ایسی تصویر پیش کی جاتی ہے جیسے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں۔ یہی وہ سیاسی نورا کشتی ہے جس نے پاکستانی سیاست میں ’’حقیقی اختلاف‘‘ اور ’’مفاداتی اختلاف‘‘ کے درمیان فرق تقریباً مٹا دیا ہے۔

عوام اب یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حمایت سے اقتدار میں شریک ہیں، اہم عہدوں پر ان کی نمائندگی ہے اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں تو پھر یہ مسلسل تحفظات کس کے لیے ہیں؟ عوام کے لیے یا سیاسی کارکنوں کے جذبات کو قابو میں رکھنے کے لیے؟ اگر اختلاف حقیقی ہے تو پھر اس کی حدود بھی واضح ہونی چاہییں اور اگر شراکت داری سیاسی ضرورت ہے تو اسے عوام کے سامنے صاف الفاظ میں تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے؟

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقتدار کے مزے لوٹنا اور ساتھ ہی عوام کے سامنے شکووں اور تحفظات کا دفتر کھول دینا ہماری سیاسی جماعتوں کی پرانی روایت رہی ہے۔ اقتدار میں شراکت بھی چاہیے، عہدے بھی چاہییں، اختیارات بھی چاہییں، لیکن جب سیاسی نقصان ہو تو خود کو مظلوم بھی پیش کرنا ہے۔ یہ طرزِ سیاست عوام کو زیادہ دیر تک دھوکا نہیں دے سکتا۔ عوام اب نعروں سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے عملی کردار کو دیکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔

پاکستانی عوام کو اب نورا کشتی نہیں، صاف اور دو ٹوک سیاست چاہیے۔ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اتحادی ہیں تو کھل کر اس حقیقت کو تسلیم کریں۔ اگر دونوں کے درمیان اصولی اختلاف ہے تو وہ بھی واضح کیا جائے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ کون حکومت میں ہے، کون اپوزیشن میں ہے، کون فیصلوں کا حصہ ہے اور کون صرف سیاسی بیانات دے رہا ہے۔ سیاست میں ابہام جتنا بڑھے گا، عوام کا اعتماد اتنا ہی کم ہوتا جائے گا۔

جمہوریت میں اختلاف ضرور ہونا چاہیے، مگر اختلاف حقیقی ہو؛ تحفظات ضرور ہونے چاہییں، مگر اصولی ہوں؛ مفاہمت ضرور ہو، مگر عوامی مفاد کے لیے ہو۔ اقتدار کی میز پر شراکت داری اور عوام کے سامنے مصنوعی محاذ آرائی کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے، مگر سیاسی کردار اور عوامی یادداشت دیرپا ہوتی ہے۔ آج کے فیصلے ہی کل کی سیاسی تاریخ کا حصہ بنتے ہیں۔

کیوں کہ عوام سب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ کون اقتدار میں ہے، کون اقتدار کا حصہ ہے اور کون اقتدار کے ثمرات سے فیض یاب ہو رہا ہے۔ اس لیے اب صرف تحفظات کا شور کافی نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے لیے اقتدار سے زیادہ اہم اصول، جمہوریت اور عوام کا اعتماد ہے۔ اگر واقعی کوئی انتخابی یا آئینی ناانصافی ہوئی ہے تو اسے دلیل، ثبوت اور قانون کے ذریعے سامنے لایا جائے، تاکہ اعتراض سیاسی شور کے بجائے ایک سنجیدہ جمہوری مقدمہ بن سکے۔

ورنہ تاریخ یہی لکھے گی کہ یہاں سیاست کے نام پر نورا کشتی بھی جاری رہی، اقتدار کے مزے بھی لوٹے گئے اور عوام کے سامنے تحفظات کا واویلا بھی ہوتا رہا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست کو اس مصنوعی کشمکش سے نکال کر حقیقی اصول پسندی کی طرف لایا جائے، کیوں کہ عوام کو اب ایسی سیاست درکار ہے جس میں اقتدار کی شراکت اور اختلافِ رائے دونوں کھلے اور واضح ہوں، نہ کہ پردے کے پیچھے مفاہمت اور سامنے محض تحفظات کا شور۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں