پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نچلی سطح پر عوام کو اختیارات دینا یعنی بلدیاتی الیکشن کروانا ہمیشہ ہی صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کے درمیان رسہ کشی کا مرکز رہا ہے۔ ہمارے ہاں جمہوریت اور عوامی حقوق کے لمبے لمبے دعوے تو ہر جگہ کیے جاتے ہیں لیکن جیسے ہی اختیارات کو اسلام آباد یا لاہور کے ایوانوں سے نکال کر گلی محلوں اور عام شہری کے ہاتھ میں دینے کی باری آتی ہے تو صوبائی حکومتیں فوراً پیچھے ہٹنے لگتی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہونے والے الیکشن کمیشن کے حالیہ اجلاس نے اسی پرانی اور روایتی کشمکش کو ایک بار پھر سب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی اس درخواست کو صاف رد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کر کے تین مختلف حصوں میں اپریل 2027ء تک لے جائے جائیں۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں معزز ممبران نثار احمد درانی، بابر حسن بھروانہ، جسٹس (ریٹائرڈ) اکرام اللہ خان اور سیکرٹری الیکشن کمیشن سمیت سینئر حکام نے شرکت کی، جہاں صوبائی حکومت کے بہانوں پر گہری ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ پنجاب حکومت نے 14 اکتوبر 2026ء کو اپنے خط میں کہا تھا کہ دسمبر میں سخت سردی اور گہری دھند ہوتی ہے، جبکہ فروری میں مبارک مہینہ رمضان شروع ہو جائے گا، اس لیے الیکشن آگے بڑھائے جائیں لیکن الیکشن کمیشن نے اس عذر کو بالکل ناپائیدار قرار دیا اور واضح کہہ دیا کہ اب کوئی بہانہ نہیں چلے گا اور الیکشن اپنے طے شدہ وقت یعنی 15 دسمبر 2026ء سے 15 جنوری 2027ء کے درمیان ہی ہوں گے۔ اگر تھوڑا پیچھے جا کر دیکھیں تو الیکشنز ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کے درمیان 20 اگست 2026ء کو ہی ساری بات چیت مکمل ہو چکی تھی اور اس وقت صوبائی حکومت نے انہی تاریخوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے پر کھلے دل سے رضامندی دی تھی، یاد رہے اب کچھ ہی دنوں بعد وہی طے کی گئی تاریخیں بدلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ جب صوبائی حکومت کا انتخابات کروانے کا ارادہ ہی نہ ہو تو پھر موسم، دھند اور رمضان جیسے انتظامی بہانے بنانا بے حد آسان ہو جاتا ہے۔ سوال یہ بنتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں سردی، دھند، سموگ یا رمضان المبارک کا مہینہ پہلی بار آ رہا ہے؟ اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موسمی سختی اور رمضان کا بہانہ بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ ہمارے ہاں سخت سردی، دھند اور سموگ کے دنوں میں نہ صرف چھوٹے الیکشن بلکہ ملک کے سب سے بڑے عام انتخابات بھی باآسانی ہو چکے ہیں۔ فروری 1997ء، فروری 2008ء اور حال ہی میں 8 فروری 2024ء کے جنرل الیکشن اس بات کا بڑا ثبوت ہیں کہ پنجاب بھر میں سخت سردی اور شدید دھند کے باوجود کروڑوں لوگوں نے باہر نکل کر ووٹ ڈالا، جبکہ ماضی میں روزے کی حالت اور رمضان کے مہینے میں بھی الیکشن کا عمل کامیابی سے پورا کیا جاتا رہا ہے۔ جب کروڑوں ووٹرز اور پورے ملک کا انتظامی عملہ مل کر ملک کا اتنا بڑا اور مشکل الیکشن شدید سردی، دھند اور رمضان میں کروا سکتا ہے—جس میں لوگوں کو دور دور کا سفر کرنا پڑتا ہے تو پھر بلدیاتی الیکشن کے لیے ان چیزوں کو رکاوٹ بنانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ بلدیاتی الیکشن تو ایک بہت چھوٹا اور مقامی عمل ہوتا ہے، جہاں بندے نے صرف اپنے محلے یا گلی کے پاس قائم قریبی پولنگ اسٹیشن پر جا کر ووٹ ڈالنا ہوتا ہے، اس لیے دھند اور رمضان کو بیچ میں لانا صرف راہ فرار حاصل کرنے کا ایک نیا بہانہ معلوم ہوتا ہے۔ اصل میں موسم اور انتظامی رکاوٹیں تو صرف دکھاوے کا پردہ ہیں، اصل کہانی تو پاور اور ترقیاتی فنڈز پر اپنا قبضہ قائم رکھنے کی ہے کیونکہ صوبائی حکومتیں کبھی نہیں چاہتیں کہ ان کے ایم پی اے کے پاس موجود اربوں روپے کے فنڈز اور طاقت گلی محلوں کے عام نمائندوں کے پاس چلی جائے اور حکمرانوں کو یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ اگر مقامی الیکشن میں نتائج ان کی مرضی کے مطابق نہ آئے تو اس سے صوبائی حکومت کی ساکھ خراب ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ بیوروکریسی کے ذریعے کام چلانے کو ترجیح دی جاتی ہے اور الیکشن کا عملہ مقرر کرنے کے لیے افسران کی فہرستیں مہیا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے، جس پر کمیشن نے اب ایک ہفتے کی آخری مہلت دے دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا ڈرافٹ شیڈول فوراً پیش کرنے کا حکم دے کر اور ساتھ ہی کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن کا حتمی فیصلہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ الیکشن کمیشن کا یہ سخت اور شفاف فیصلہ آئین اور قانون کے بالکل مطابق ہے اور سچی جمہوریت کا حسن بڑی بڑی باتوں یا ایوانوں میں نہیں بلکہ عام انسان کو اپنی گلی، محلے اور یونین کونسل کی سطح پر فیصلے کرنے کا حق ملنے میں ہے۔ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی تمام منطقیں اور عذر مسترد کرتے ہوئے حتمی گیند پنجاب حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پنجاب حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کا احترام کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر افسران کی فہرستیں فراہم کرے گی یا پھر عوامی نمائندگی کے اس حق کو ٹالنے کے لیے تاخیر کا کوئی نیا قانونی راستہ تلاش کرے گی؟ اللہ کریم ہمارے پیارے پاکستان کی حفاظت فرمائے اور اسے آئین و قانون کی حکمرانی کا گہوارہ بنائے۔ آمین
2











