پاکستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک قدم آگے بڑھانے سے پہلے کئی قدم پیچھے دیکھنا ضروری ہے۔ ملک پہلے ہی سیاسی بے یقینی، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی تناؤ کے کئی ادوار دیکھ چکا ہے۔ ایسے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک نیا محاذ کھولنا دانش مندی نہیں، بلکہ پہلے سے موجود بحران کو مزید گہرا کرنے کے مترادف ہوگا۔
18ویں آئینی ترمیم نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ صوبائی خودمختاری کو آئینی تحفظ ملا، وزرائے اعلیٰ کے کردار کو وسعت ملی اور وفاق کے براہِ راست سیاسی اثر و رسوخ کی حدود واضح ہوئیں۔ اب کسی صوبائی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ محض سیاسی خواہش، طاقت یا بیانات کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کی پاس داری ضروری ہے۔
موجودہ سیاسی فضا میں وفاقی وزرا کے بیانات یہ تاثر ضرور پیدا کر رہے ہیں کہ صوبائی حکومت کے حوالے سے کوئی بڑا سیاسی فیصلہ زیرِ غور ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو سوال صرف ایک حکومت کے رہنے یا جانے کا نہیں، بلکہ اس پورے سیاسی عمل کے مستقبل کا ہے۔ پاکستان کو اس وقت حکومتوں کی تبدیلی سے زیادہ سیاسی درجۂ حرارت کم کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔
فریقین ایک دوسرے کی بات سنیں گے اور معاملات تصادم کے بجائے مفاہمت کی طرف جائیں گے۔ مگر سیاست میں بعض اوقات ایک جملہ، ایک بیان یا ایک فیصلہ برسوں کی محنت کو پھر نقطۂ آغاز پر لے آتا ہے۔ آج صورتِ حال کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ وفاق اور صوبے دونوں جانب ایسے عناصر موجود ہیں جو کشیدگی میں اپنا سیاسی فائدہ تلاش کرتے ہیں اور شاید یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی درجۂ حرارت جتنا بلند ہوگا، ان کی اپنی اہمیت اتنی ہی بڑھے گی۔
مگر انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سیاسی آگ کبھی صرف مخالف کے گھر تک محدود نہیں رہتی؛ اس کی لپیٹ میں پورا نظام آ سکتا ہے۔ اس لیے اب وقت ہے کہ گرینڈ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ایسے مذاکرات جن میں صرف حکومت اور اپوزیشن نہیں بلکہ تمام متعلقہ سیاسی قوتیں بیٹھیں، اپنے اپنے تحفظات سامنے رکھیں اور ایک ایسے فارمولے پر اتفاق کریں جو کسی ایک فریق کی فتح نہیں، بلکہ پاکستان کی سیاسی سلامتی کی ضمانت بنے۔
یہاں مقتدر حلقوں کی ذمہ داری سب سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اگر ریاست کے طاقتور مراکز واقعی سیاسی استحکام چاہتے ہیں تو انہیں اس بحران کو محض ایک سیاسی تنازع سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں معاملات کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ، فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ طاقت کا اصل حسن یہ نہیں کہ اسے کب استعمال کیا جائے؛ اصل دانش یہ ہے کہ اسے کب استعمال نہ کیا جائے اور اختلاف کو مکالمے میں تبدیل کر دیا جائے۔
ملک کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو آج کی سرخی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سیاسی استحکام کا راستہ بنیں۔ اگر طاقتور حلقے، وفاقی حکومت اور سیاسی قیادت مل کر بحران کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو آج کی مشکل کل کی سیاسی مفاہمت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ بحث ہے کہ مارچ 2027ء سے قبل صوبائی معاملات کو کسی نہ کسی شکل میں حل کرنے کی خواہش موجود ہے۔
نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ بھی اسی تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کا اس حوالے سے اپنا سیاسی موقف ہے، جبکہ سندھ میں قوم پرست جذبات اور تحریک بھی ایک حساس حقیقت ہے۔ ایسے معاملات کسی دباؤ، جلد بازی یا پسِ پردہ فیصلے کے بجائے کھلی سیاسی مشاورت کا تقاضا کرتے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اپنے طرزِ سیاست پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
لانگ مارچ اور احتجاج سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے روایتی ذرائع ضرور ہیں، لیکن ہر احتجاج کو تصادم کی طرف لے جانا کسی بھی سیاسی جماعت کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی مطالبات کو آئینی اور جمہوری راستے سے آگے بڑھائے۔ عمران خان اس ملک کے سابق وزیراعظم اور قومی ہیرو ہیں۔ وہ ایک بڑے عوامی مینڈیٹ کے حامل سیاسی رہنما رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کا ازالہ ہونا چاہیے۔
لیکن یہ ازالہ سڑکوں پر نہیں، عدالتوں اور آئینی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔ عمران خان کے خلاف مقدمات میں شفاف عدالتی ٹرائل ہونا چاہیے اور کسی معاملے میں ناانصافی نہیں ہونی چاہیے، جس طرح مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے۔ خاندان اور وکلا سے ملاقات کی پابندی، قیدِ تنہائی ہو یا عدالتی حکم کے باوجود ہسپتال منتقل نہ کیا جانا، ایسی صورتِ حال کو محض سیاسی اختلاف قرار نہیں دیا جا سکتا؛ یہ زیادتی ہے اور اس کا ازالہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
تحریک انصاف کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ ریاست سے مسلسل محاذ آرائی کسی منزل تک نہیں پہنچاتی۔ اسی طرح حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی مخالف کو دیوار سے لگانے کی کوشش اکثر اسے مزید طاقتور بنا دیتی ہے۔ جمہوریت میں مخالف کو ختم نہیں کیا جاتا، اسے سیاسی میدان میں جواب دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کو خود پشاور جا کر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کرنی چاہیے۔
براہِ راست رابطہ بہت سے ایسے دروازے کھول سکتا ہے جو بیانات بند کر دیتے ہیں۔ ایک ملاقات تمام اختلافات ختم نہیں کرے گی، مگر یہ پیغام ضرور دے گی کہ وفاق صوبے کو اپنا مخالف نہیں، بلکہ آئینی اکائی سمجھتا ہے۔ پاکستان اس وقت کسی نئے سیاسی طوفان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباؤ اور امن و امان کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔
انہیں ایک اور مارچ، ایک اور دھرنے اور ایک اور سیاسی محاذ آرائی نہیں چاہیے۔ انہیں روزگار چاہیے، امن چاہیے، معیشت چاہیے اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا سیاسی ماحول چاہیے جس میں کل آج سے بہتر ہونے کی امید باقی رہے۔ اس وقت پاکستان کو نعروں سے زیادہ تدبر کی، تصادم سے زیادہ مکالمے کی اور طاقت کے اظہار سے زیادہ سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔
فیصلہ اب صرف حکومت یا اپوزیشن نے نہیں کرنا۔ مقتدر حلقوں کو بھی طے کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ کے اس موڑ پر بحران کے تماشائی بننا چاہتے ہیں یا بحران کے حل کا ذریعہ۔ کیوں کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں، دانش، انصاف اور مکالمے سے بھی بچائی جاتی ہیں۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستان کو اقتدار کی نہیں، تدبر کی سیاست درکار ہے۔











