پاکستان دشمن بیرونی قوتوں نے اپنے وسائل اور ذرائع کو پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لئے بے دریغ استعمال کر رہی ہیں اور اس میں پاکستان میں موجود ان کے سہولت کر بنیادی کردار ادا کرتے رہیں ہیں۔
اب اگر ان بیرونی طاقتوں اور ان کے ایجنڈے کا جائزہ لیتے ہیں تو بدقسمتی سے یہ صورتحال سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے میں بھارت اور اسرائیل کے ایجنڈے پر عمل پیرا کرنے والے پاکستان کے ہمسائے ممالک ایران اور افغانستان شامل تھے اور اب بھی افغانستان ان اسلام دشمن قوتوں کا آلہ کار بن کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں دہشتگردی اور تخریب کاری کی جو کاروائیاں طویل عرصے سے جاری ہیں ان کا بیس کیمپ ایران تھا جہاں پر بھارتی و اسرائیلی ایجنسز دیشت گر گروپوں کو ٹریننگ فراہم کرتے تھے اور ان کی کارروائیوں کے ہر قسم کی ۔مادی، مالی اور جدید اسلحہ کی فراہمی کو یقینی بناتے تھے۔ اسوقت تک افغانستان میں طالبان امریکہ افواج سے جنگ میں مصروف تھے اسلئے ان کی اس طرف توجہ نہیں تھی۔ دوسری طرف پاکستان نے افغان طالبان کی لیڈران کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی خفیہ طور پر اہتمام کر رکھا تھا اسی بناء پر پاکستان کو ” کوئٹہ شوری ” کی سرپرستی کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔
لیکن جب اسرائیل ایجنسز نے بھارت کے زیر اہتمام ایران میں حاصل کردہ سہولیات سے فائدہ آٹھاتے ہوے ایران کی قیادت تک رسائی حاصل کر لی اور ان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا جس سے ایران اپنے اہم قائدین، ملٹری کمانڈرز اور ساہنس دانوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تو ایرانی قیادت کو اس کا علم ہوا۔ ایرانی قیادت نے اس کے بعف اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرنا شروع کر دی اور بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا اور ایران میں قائم ان دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور اسطرح سے ایران سے بلوچستان میں کی جانے والی دہشت گردی میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی اور اس کے بعد پاکستان دشمن قوتوں نے بلوچستان میں تخریب کاری کا مرکز افغانستان کو بنا دیا جو آج بھی پوری طرح متحرک ہے۔
دوسری طرف جب پاکستان نے مئی 2025 کی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور بھارت کو تاریخی عبرتناک شکست فاش دی تو پوری دنیا پاکستان کی مسلح افواج کی صلاحیتوں کی قابل ہو گئی اور ایران نے پاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا شروع کر دیا۔ جس کا نتیجہ حالیہ ایران پر اسرائیلی و امریکی جارحیت کے بعد پاکستان کی ثالثی کو ایران نے قبول کرنے سے ظاہر ہوتی ہے اور اب دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی نئی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔
بلوچستان میں دشت گردی اور تخریب کاری سے نمٹنے کے لیے پولیس، رینجرز اور مسلح افواج بڑی قربانیاں دیں رہی ہیں اور اس میں سول اداروں کی معاونت کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں اور ان اداروں سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ عوام کے تعاون سے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مشن پوری قوت سے جاری و ساری ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے صوبے کے پی کے میں جو دہشت گردی آج عروج پر پہنچ چکی ہے اگرچہ یہ دہشت گردی 2001 میں نیٹو کے افغانستان مگر قبضے کے بعد ہی شروع ہو گئی تھی مگر بعد میں اس میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی تھی کیونکہ افغان طالبان پوری قوت سے نیٹو سے برسر پیکار تھے۔ دوسری طرف پاکستان کی بدقسمتی سے اس دوران ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی قوتوں کو کمزور کرنے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت بنانے کے لیے عمران خان کو لانچ کیا۔ جس کو عوامی سطح پر حمایت دلانے کے لیے میڈیا ہاوسز کا بے دریغ استعمال کیا جاتا تھا اور سارا دن جھوٹ پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ان میڈیا ہاوسز کو استعمال کیا جاتا رہا۔ واضح رہے کہ ان میڈیا ہاوسز کے مالکان کے مالی مفادات اسی اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ رہے ہیں اور بڑے بڑے رہیل اسٹیٹ ڈیلرز ان میڈیا ہاوسز کی اڑ میں کھربوں روپوں کے غیر قانونی فوائد حاصل کرتے رہے ہیں۔ جب پی ٹی آئی کو لانچ کیا جا رہا تھا تو ایجنسز نے اس بات پر بھی توجہ نہیں دی کہ اس میں کون کون اور کس بیک گراؤنڈ کے لوگ اہم پوزیشنیں لے رہے ہیں۔ نتیجتاً پی ٹی آئی میں پاکستان دشمن عناصر بھی اہم پوزیشنیں پر فائز ہو گئے اور ان کو اس میں فیصلہ کن برتری حاصل ہوگئی۔ دیگر افراد کو ایجنسز نے مجبور کر کے دیگر سیاسی جماعتوں سے توڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت پر مجبور کیا اور ساتھ ہی وہ تمام عناصر بھی اس کا حصہ بنا دیے گئے جو ہر دور میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پشت پناہی کرتے رہے تھے۔
یہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی بدقسمتی تھی جس نے پاکستان کے مفادات کو سخت نقصان پہنچایا۔ اور پاکستان کو دیوالیہ پن تک پہنچانے کا اہتمام کر دیا۔ سی پیک کو عملی طور پر ختم کر دیا اور پاکستان میں جاری معاشی ترقی جاند ہوگئی۔ کرپشن بھی اس دور میں مزید بڑھ گئی اور عوام کے مسائل میں شدید اضافہ ہوتا چلا گیا۔
اس صورتحال کو بھانپ کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی سے فاصلہ کرنا شروع کر دیا اوع اس طرح سے یہ حکومت ختم ہو گئی۔ اس دوران پی ٹی آئی میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لاے ہوے افراد الگ ہوتے چلے گئے اور پاکستان دشمن عناصر اپنے عدلیہ و دیگر اداروں میں موجود سہولت کاروں کی مدد سے پاکستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستان میں بغاوت کی کوششیں کرنے لگے۔ اس کے منفی اثرات پاکستان پر مرتب ہوے اور پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ افغانستان میں قائم دہشت گرد گروپوں کے کیمپوں کو افغانستان میں قائم حکومتی سطح پر مکمل سرپرستی حاصل ہے اور یہ اسرائیل و بھارت کے اشاروں پر اور ان کے مادی و فوجی وسائل سے ان دہشت گردی کی کارروائیوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ پاکستان ے سفارتی سطح پر اس مسلئہ کو عالمی سطح پر اٹھایا اور پوری دنیا نے پاکستانی موقف کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے فوجی کارروائی کرتے ہوئے ان دہشت گردی کے لی استعمال ہونے والے کیمپوں کو تباہ بھی کیا ہے۔ مگر کے پی کے کے طویل بارڈر پر ان دہشت گردوں کی دراندازی روکنا ایک مشکل کام ہے اور اس صورتحال میں جب صوبائی حکومت میں شامل لوگ ان دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں تو یہ ناممکن ہے۔ ان حالات میں ان دہشت گردوں کا کنٹرول صوبے کے مختلف علاقوں میں مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور عملی طور پر رات کو صوبے کے بیشتر اضلاع ان کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور وہ نہ صرف عوام سے بھتہ/ ٹیکس وصول کرتے ہیں بلکہ اہم صوبائی وزراء بھی ان کو یہ بھتہ دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پولیس جو کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والی پہلی ڈیفنس لاہن ہوتی ہے وہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے اور رات کو تھانوں کے اندر محصور ہو کر رہ جاتی ہے
اس نازک صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے ہوئے اب وفاق کو فوری طور پر سخت ترین اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب مزید ایک لمحہ بھی تاخیر کی گنجائش موجود نہیں ہے۔
اس لیے وفاق کو آہین کے تحت حاصل اختیارات کے تحت صوبے میں فوری طور پر ایمرجنسی لگا کر صوبے کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے اور صوبائی حکومت کو معطل کر دیا جائے۔ صوبے کو آئین کے تحت گورنر راج کے تحت چلانے کے لیے مختلف پوزیشنوں پر اہل اور محب وطن افراد کی تعیناتی کی جائے۔ پولیس کا اعتماد بحال کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک مربوط اور منظم لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ اس طرح سے نہ صرف عوام بلکہ اداروں کا اعتماد بھی بحال ہو جائے گا جو دہشت گردی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔
امید ہے کہ اب مزید وقت کو ضائع کئے بغیر ان تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے گا اور ادارے اپنی تمام تر توانائیاں کو پاکستان میں انتشا و افراتفری پیدا کرنے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے مختص کریں گئے ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر پاکستان دشمن جھوٹ پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کے خلاف قوانین کے مطابق سخت ترین کاروائی عمل میں لائی جائے گی اور ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ان جھوٹے پراپگنڈہ کو بے نقاب کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
سیاسی قوتوں کو بھی اس نازل صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے وفاق کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکے ۔
واضح رہے کہ آنے والے دنوں دن پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے تمام محب وطن پاکستانیوں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا اور ریاستی اداروں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا تاکہ پاکستان دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا لیے جا سکے ۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی اپنی رحمت سے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو ناکامی سے دوچار کرئے گا۔ ان شاءاللہ۔











