19

گڈ بوائے سے گڈ بائے تک

​خیبر پختونخواہ کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سے غیر متوقع اور ڈرامائی موڑوں سے بھری رہی ہے لیکن حالیہ سیاسی تحرک اور صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے ایک نیا بحث و مباحثہ چھیڑ دیا ہے۔ اس پورے سیاسی ڈرامے کے بنیادی کردار محمد سہیل خان آفریدی ہیں، جنہیں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پاکستان تحریک انصاف کی نچلی سطح کی سیاست سے اٹھا کر، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبر پختونخواہ کی سب سے بڑی آئینی کرسی پر بٹھایا گیا، جہاں ان کا انتخاب پارٹی کے بانی عمران خاں کی ہدایت پر عمل میں لایا گیا اور یوں 13 اکتوبر 2025 کو خیبر پختونخواہ اسمبلی سے 90 ووٹوں کی اکثریت حاصل کر کے انہوں نے 15 اکتوبر 2025 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پہلے اور پاکستان کے سب سے کم عمر وزیراعلیٰ بن گئے لیکن بدقسمتی سے، عوام نے جس امید اور توقع کے ساتھ انہیں حکومت کی باگ ڈور سونپی تھی، ان کا یہ دورِ حکومت صوبے کے لیے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا، وہ اپنے تقریباً ایک سالہ دور میں انہوں نے عوام کی بھلائی اور ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں اور صوبے کے وسائل صرف لڑائی جھگڑے، دھرنوں اور مرکزی حکومت سے الجھنے میں ضائع کر دیے۔ اس سے قبل جب ستمبر 2026 کے درمیانی دنوں میں وہ لاہور آئے تھے، تو عوام کی عدم توجہی، لوگوں کی عدم موجودگی اور ساتھ کوئی بھی خاطر خواہ عوامی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے جب انہیں شدید سیاسی ناکامی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، تو انہوں نے اس شرمندگی کو چھپانے کے لیے خود ہی پولیس کی گاڑی میں جا کر بیٹھنے اور اپنے ہی اغوا کا ایک فرضی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی کہ جیسے پولیس نے انہیں اغوا کر لیا ہو، تاکہ اپنی ناکامی پر پردہ ڈال سکیں اور سیاسی ڈرامائی چکر لگا کر گھوم گھما کے واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد بھی انہوں نے مسلسل احتجاجی سیاست کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ستمبر کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کی کال دی اور پھر بالترتیب 4 اکتوبر 2026 کو لکی مروت کے گنڈی چوک اور جنوبی اضلاع کرک اور لکی مروت سے اسلام آباد کی طرف باقاعدہ بڑے لانگ مارچ کے آغاز کا اعلان کیا، جو مختلف علاقوں اور 8 اکتوبر 2026 کو پشاور کی سڑکوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا رہا، جس کے دوران کارکنوں کو اکٹھا کرنے، دھرنوں کی تیاریاں کرنے اور اسلام آباد کی طرف بڑھنے کی تمام تر تفصیلی ہدایات اور آئندہ کا طریقہ کار بالترتیب جاری کیا جاتا رہا۔ اس تمام شور شرابے کے دوران صوبے کے راستے اور عمارتیں زبوں حالی کا شکار رہیں، صحت اور تعلیم کے شعبے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے اور امن و امان کی صورتحال شدید خراب رہی، مگر ان کے ترجیحی کاموں میں عوام کی خدمت کے بجائے صرف احتجاج ہی شامل رہا حالانکہ حکومت اور مرکزی قیادت کی جانب سے انہیں بار بار اور مسلسل بات چیت کی دعوت دی گئی، درجنوں بار گفتگو اور معاملے کو سلجھانے کی پیشکش کی گئی، لیکن وہ اسے بالکل بھی سنجیدہ نہیں لے رہے تھے اور یہ سمجھتے رہے کہ شاید اپنی دھونس، دھرنوں اور لڑائی سے وہ حکومت کو اپنے آگے جھکنے پر مجبور کر دیں گے، مگر یہ ان کی شدید بھول، غلط فہمی اور خوش فہمی ثابت ہوئی۔ جب بات قانون اور ریاست کی حدود سے باہر نکل گئی اور تمام تر بات چیت کی کوششیں ناکام بنا دی گئیں تو بالآخر وفاقی کابینہ کی تجاویز پر صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا باقاعدہ نفاذ کر دیا گیا۔ یاد رہے، سہیل آفریدی جو عمران خاں کی نظر میں”گڈ بوائے” کے طور پر علی امین گنڈا پور کے بعد سامنے آئے تھے لیکن کام کے میدان میں یہ بری طرح ناکام ثابت ہونے، بات چیت کو ٹھکرانے اور مسلسل بدنظمی پھیلانے کے نتیجے میں بالآخر “گڈ بوائے” کی یہ سیاسی کہانی ایک ڈرامائی “گڈ بائے” پر ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک اور خصوصاً خیبر پختونخواہ کے غیور عوام کو امن، سکون اور حقیقی ترقی نصیب فرمائے، صوبے کو اس سیاسی لڑائی اور بدامنی سے نجات ملے اور اقتدار کے ایوانوں میں ایسے مخلص اور لائق رہنما آئیں جو عوام کی حقیقی بھلائی اور بہتری کے لیے کام کرنے کی توفیق پائیں۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں