91

چہرے نہیں، پیٹرن پڑھو، سچائی، مفاد اور دوغلے پن کا خفیہ امتحان: احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، سچے اور دوغلے میں فرق صرف بات کا نہیں، پیٹرن کا ہے۔ انسان کی اصل پہچان اس کے وقتی جملوں، مسکراہٹوں یا رسمی دعووں سے نہیں ہوتی بلکہ اس مستقل رویے سے ہوتی ہے جو حالات بدلنے کے باوجود برقرار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص کو سمجھنے کے لیے اس کی زبان سے زیادہ اس کے عمل، مفاد، اختلاف، غیر موجودگی اور دوسروں کی کامیابی کے وقت اس کے رویے کو دیکھنا ضروری ہے۔ بظاہر میٹھی گفتگو ہمیشہ اخلاص کی علامت نہیں، جیسے ہر کڑوی بات دشمنی نہیں ہوتی۔ کردار کا فیصلہ ایک واقعے سے نہیں، مسلسل مشاہدے سے ہوتا ہے۔1. بات سچا، منہ پر کڑوی، پیٹھ پیچھے وہی۔ آپ کو پسند نہ آئے تب بھی وہی بولے گا جو سوچتا ہے۔دوغلا، منہ پر میٹھا، پیٹھ پیچھے زہر۔ آپ کے سامنے آپ کا، آپ کے دشمن کے سامنے اُس کا۔ بات انسان کے مزاج کی پہلی کھڑکی ہے، مگر صرف الفاظ سن لینا کافی نہیں۔ سچا شخص اختلاف کرتے ہوئے بھی اپنی بات میں تسلسل رکھتا ہے؛ وہ آپ کے سامنے کچھ اور اور آپ کی غیر موجودگی میں کچھ اور بننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اس کی صاف گوئی کبھی سخت محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اس میں دو رخی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دوغلا پن خوش گفتاری کے پردے میں چھپا رہ سکتا ہے۔ ایسے شخص کی گفتگو کا رخ اکثر مخاطب کے فائدے، طاقت یا موجودہ تعلق کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ اس لیے میٹھی زبان کو فوراً اخلاص اور تلخی کو فوراً بدتمیزی قرار دینا درست نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بات اور کردار میں مستقل مزاجی موجود ہے؟2 مفاد سچا، مفاد نکل جائے تب بھی رشتہ رکھتا ہے۔ اس کا رویہ آپ سے ہے، آپ کی جیب سے نہیں۔دوغلا، جب تک آپ سے کام ہے فرشتہ۔ کام نکلا، یا آپ کمزور ہوئے، غائب۔ اس کا رشتہ آپ سے نہیں، آپ کی کرسی/پیسے سے ہے۔ رشتوں کی حقیقت اکثر اس وقت سامنے آتی ہے جب فائدہ ختم ہو جائے۔ مخلص تعلق میں انسان صرف ضرورت کے وقت یاد نہیں کیا جاتا بلکہ مشکل، خاموشی اور بے غرض وقت میں بھی تعلق کی قدر باقی رہتی ہے۔ اس کے برعکس مفاد پر مبنی تعلق میں قربت کا درجہ آپ کی حیثیت کے ساتھ بدلتا ہے۔ عہدہ، دولت، اثرورسوخ یا کسی کام کی ضرورت کم ہوتے ہی اگر رویہ اچانک سرد پڑ جائے تو یہ ایک قابلِ غور پیٹرن ہے۔ تاہم ہر فاصلے کو دوغلا پن کہنا بھی درست نہیں؛ زندگی کی مصروفیات، ترجیحات اور حالات بھی تعلقات پر اثر ڈالتے ہیں۔ فیصلہ مجموعی رویے سے ہونا چاہیے۔3غلطی پر سچا، غلطی کرے تو مان لیتا ہے “ہاں یار مجھ سے ہوئی”۔ معافی میں اس کی انا نہیں مرتی۔ دوغلا، غلطی کبھی نہیں مانتا۔ یا تو بہانہ، یا آپ کو ہی قصوروار بنا دے گا۔ معافی مانگے گا بھی تو ڈرامہ۔ غلطی مان لینا کردار کی اہم علامت ہے، کیونکہ اعتراف انسان کو کمزور نہیں بلکہ جواب دہ بناتا ہے۔ سچا شخص اپنی غلطی تسلیم کر کے اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے لیے معافی محض رسمی لفظ نہیں بلکہ آئندہ رویے میں تبدیلی کا وعدہ ہوتی ہے۔ دوسری طرف مسلسل بہانے، الزام کی منتقلی اور ہر معاملے میں خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش تعلق کو تھکا دیتی ہے۔ البتہ کسی ایک دفاعی ردعمل کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وقت کے ساتھ غلطی کے بعد کیا تبدیلی آتی ہے۔4. آپ کی غیر موجودگی میں یہ سب سے بڑا ٹیسٹ ہے، سچا، آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی عزت کی حفاظت کرتا ہے۔ کوئی برا کہے تو روکتا ہے۔دوغلا آپ کی غیر موجودگی میں تماشہ لگاتا ہے۔ آپ کی باتیں بیچ کر دوسروں میں جگہ بناتا ہے۔ کسی انسان کا کردار اس وقت زیادہ واضح ہوتا ہے جب متعلقہ شخص سامنے موجود نہ ہو۔ آپ کی نجی باتوں کو امانت سمجھنا، غیر موجودگی میں بے جا تنقید سے گریز کرنا اور ضرورت پڑنے پر آپ کی عزت کا خیال رکھنا اعتماد کی بنیاد ہے۔ اس کے مقابلے میں ذاتی باتیں پھیلانا، راز کو سماجی مقبولیت کے لیے استعمال کرنا یا محفل میں کسی غیر حاضر شخص کو نشانہ بنانا اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلق کی مضبوطی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ کوئی آپ کے سامنے کیسا ہے، بلکہ اس سے بھی کہ وہ آپ کے پیچھے آپ کے بارے میں کیا کرتا ہے۔ 5حسد سچا، آپ کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، چاہے اندر تھوڑی جلن بھی ہو، مبارکبادی دل سے دیتا ہے۔دوغلا مبارکبادی زبانی دیتا ہے، اندر جلتا ہے۔ آپ کی خوشی کا سنتے ہی اس کی پہلی کوشش آپ میں نقص نکالنا ہوتی ہے – “ہاں پر…” حسد ایک انسانی جذبہ ہو سکتا ہے، اس لیے محض وقتی جلن کسی کو دوغلا ثابت نہیں کرتی۔ فرق رویے میں ظاہر ہوتا ہے۔ مخلص انسان اپنے احساسات پر قابو رکھتے ہوئے دوسرے کی کامیابی کا اعتراف کر سکتا ہے، جبکہ دوغلے پن کا مسئلہ وہاں نمایاں ہوتا ہے جہاں مبارک باد کے فوراً بعد تحقیر، عیب جوئی یا خوشی کو کم کرنے کی کوشش معمول بن جائے۔ کامیابی کے وقت کسی کے چہرے، الفاظ اور بعد کے عمل میں تضاد بھی ایک اشارہ ہو سکتا ہے۔ایک جملے میں پہچان:سچا انسان آپ کو تکلیف دے کر بھی فائدہ دیتا ہے، دوغلا آپ کو خوش کر کے بھی نقصان دیتا ہے۔ انسانی تعلقات میں سچائی اور دوغلے پن کی پہچان ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، کیونکہ ہر شخص اپنے آپ کو مخلص، وفادار اور صاف گو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اصل حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب حالات بدلتے ہیں، فائدہ ختم ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے یا سامنے والا شخص موجود نہیں ہوتا۔ اسی لیے کردار کو سمجھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک لمحے کی گفتگو کے بجائے کئی مواقع پر ظاہر ہونے والے رویوں کو دیکھا جائے۔ ایک اچھا تعلق صرف خوش کن الفاظ کا نام نہیں؛ اس میں اعتماد، احترام، جواب دہی اور مستقل مزاجی بھی شامل ہوتی ہے۔ جو شخص آپ کو ہر حال میں خوش رکھنے کی کوشش کرے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کا خیرخواہ ہو، کیونکہ بعض اوقات خوشامد سچ چھپانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسی طرح جو شخص آپ کو بروقت روک دے، غلطی کی نشاندہی کرے یا تلخ حقیقت بتائے، وہ لازماً مخالف نہیں ہوتا۔ خیرخواہی کا انداز کبھی نرم اور کبھی سخت ہو سکتا ہے، مگر اس کا بنیادی مقصد اصلاح اور بھلائی ہوتا ہے۔ سچے اور دوغلے رویے میں ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ سچا انسان اپنے الفاظ کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے بات واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے ہاں تعلق کا مطلب اندھی حمایت نہیں بلکہ ضرورت کے وقت درست بات کہنا بھی ہے۔ دوغلا پن اکثر اسی جگہ پہچانا جاتا ہے جہاں ایک شخص مختلف لوگوں کے سامنے مختلف اصول اختیار کرے۔ طاقتور کے سامنے عاجزی، کمزور کے سامنے سختی، دوست کے سامنے وفاداری اور مفاد بدلتے ہی وفاداری کا بدل جانا ایسے رویوں کو سمجھنے کے لیے قابلِ توجہ اشارے ہیں۔ تاہم انسان پیچیدہ ہوتا ہے اور ہر تضاد کو فوراً منافقت قرار دینا مناسب نہیں۔ کبھی خوف، دباؤ، غلط فہمی، کمزوری یا حالات بھی رویے میں فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت جلد بازی کے بجائے وقت، تسلسل اور شواہد کو اہمیت دینی چاہیے۔ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں کے ساتھ کیا کرتا ہے، اختلاف میں کیسا رہتا ہے، کمزور شخص سے کیسے پیش آتا ہے، دوسروں کے راز کی حفاظت کرتا ہے یا نہیں، اور اپنی غلطی سامنے آنے پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے کردار کا جائزہ بھی لینا چاہیے، کیونکہ کبھی ہم دوسروں کے دوغلے پن کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں مگر اپنی مصلحتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سچائی کا معیار صرف یہ نہیں کہ دوسرا شخص ہمارے ساتھ کیسا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اصولی طور پر لوگوں کے ساتھ کیسا برتاؤ ہے۔ یہی اصل امتحان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں