بھارت کے شور شرابے میں ایک بار پھر دعووں کی عمارت کھڑی کی گئی، مگر یکم اکتوبر کی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس بریفنگ نے اس عمارت کی بنیاد ہی پر سوال اٹھا دیے۔ بھارتی فوج اور میڈیا کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے کوراگ میں ایک مبینہ دہشت گرد کو ’’پاکستان سے منسلک‘‘ قرار دے کر ہلاک کرنے کے دعوے کے جواب میں پاکستان نے نہ صرف اس مؤقف کو مسترد کیا بلکہ ایسا شخص بھی میڈیا کے سامنے پیش کر دیا جسے بھارتی بیانیے کے لیے ایک اہم سوال کے طور پر پیش کیا گیا۔ یوں ایک مرتبہ پھر اصل معرکہ میدان میں نہیں بلکہ بیانیے کے محاذ پر دکھائی دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوے کو ایک ’’فالس فلیگ‘‘ اور سیاسی و عسکری ڈرامے سے تعبیر کیا۔ یہ پاکستان کا مؤقف ہے، تاہم اس مؤقف کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب پریس بریفنگ میں سابق حوالدار محمد آصف کو پیش کیا گیا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق آصف کی موجودگی بھارتی حکام کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس بیانیے پر بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ کوراگ میں ہلاک ہونے والا شخص پاکستان سے منسلک دہشت گرد تھا۔ یوں بھارتی دعوے کے مقابلے میں پاکستان نے محض تردید نہیں کی بلکہ ایک مخصوص فرد اور واقعے سے متعلق وضاحت بھی سامنے رکھی۔
یہاں سوال صرف ایک مبینہ آپریشن کا نہیں بلکہ اس طریقۂ کار کا ہے جس میں کسی بھی واقعے کو فوری طور پر ایک بڑے سیاسی اور عسکری بیانیے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے کسی کارروائی کو کامیابی قرار دینا اپنی جگہ، لیکن ایسے دعووں کی آزادانہ اور قابلِ تصدیق شواہد سے جانچ ناگزیر ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ موجودہ واقعے میں بھی حقائق کو ایک مخصوص سیاسی و عسکری بیانیے کے مطابق پیش کیا گیا۔ اگر کسی دعوے کی بنیاد ہی متنازع ہو جائے تو اس سے پیدا ہونے والی پوری کہانی بھی سوالات کے گھیرے میں آ جاتی ہے۔
پاک بھارت تعلقات کی تاریخ میں بیانیے کی جنگ کوئی نئی بات نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے واقعات اکثر محض سکیورٹی واقعات نہیں رہتے بلکہ چند ہی گھنٹوں میں سیاسی بیانات، میڈیا کوریج اور سفارتی مؤقف کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بھی واقعے کی فوری تشریح اور ذمہ داری کا تعین انتہائی حساس معاملہ بن جاتا ہے۔ ایک طرف سرکاری دعوے ہوتے ہیں، دوسری طرف ان دعووں کے شواہد پر سوالات اٹھتے ہیں، اور پھر سوشل میڈیا انہیں چند لمحوں میں عوامی جذبات کا حصہ بنا دیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ کا ایک نمایاں پہلو یہی تھا کہ بھارتی دعوے کو محض لفظی تردید کے ذریعے نہیں چھوڑا گیا۔ پاکستانی فوج نے اپنے مؤقف کے حق میں محمد آصف کو سامنے لا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ بھارتی دعوے کی بنیاد کو براہِ راست چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اب اس معاملے میں اصل اہمیت اسی سوال کی ہے کہ بھارتی دعوے کے پاس کیا قابلِ تصدیق شواہد موجود ہیں اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی آزادانہ جانچ کس حد تک ممکن ہے۔
دہشت گردی کے معاملے پر بھی پاکستان نے اپنا مؤقف دہرایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز ملک میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہیں پاکستان بیرونی پشت پناہی سے منسلک قرار دیتا ہے۔ یہ بھی ایک ریاستی مؤقف ہے جسے شواہد اور متعلقہ واقعات کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ تاہم اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان کی سلامتی، معیشت اور داخلی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
پریس بریفنگ میں ملکی سیاست سے متعلق سوالات کا جواب بھی خاص اہمیت رکھتا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بیان اس لیے قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں سیاسی معاملات پر فوج کے کردار کے حوالے سے مسلسل بحث جاری رہتی ہے۔ فوجی ترجمان کا مؤقف اس بحث میں ادارے کی جانب سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے طور پر سامنے آیا۔
بھارتی بیانیے کے حوالے سے سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ہر سکیورٹی واقعے کو فوری طور پر پاکستان سے جوڑ دینا کسی مسئلے کا حل ہے؟ اگر کسی دعوے کے پیچھے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہیں تو انہیں سامنے لایا جا سکتا ہے، اور اگر شواہد موجود نہیں تو محض الزام تراشی خطے میں بداعتمادی کو مزید گہرا کرتی ہے۔ پاکستان کی پریس بریفنگ نے اسی سوال کو نمایاں کیا ہے۔
فالس فلیگ کا الزام معمولی الزام نہیں۔ کسی مخصوص واقعے کو اس اصطلاح سے تعبیر کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ موجودہ معاملے میں ’’فالس فلیگ‘‘ کی اصطلاح پاکستان کے فوجی ترجمان نے استعمال کی ہے، لہٰذا اس دعوے کو بھی اسی نسبت سے دیکھا جانا چاہیے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ بریفنگ میں پیش کیے گئے شواہد نے بھارتی دعوے کو بلا سوال قبول کرنے کے بجائے اس کی بنیاد، شناخت اور پیش کردہ کہانی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ خطے میں بندوق کی آواز سے زیادہ خطرناک وہ بیانیے ہو سکتے ہیں جو بغیر مکمل تصدیق کے عوامی ذہن کا حصہ بن جائیں۔ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی قوتیں ہیں؛ اس لیے کسی بھی واقعے کی غلط تشریح یا جلد بازی میں قائم کیا گیا نتیجہ محض میڈیا کی خبر نہیں رہتا بلکہ اس کے سفارتی اور سلامتی کے اثرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
یکم اکتوبر کی بریفنگ نے کم از کم ایک بات واضح کر دی کہ پاکستان بھارتی دعووں کو خاموشی سے قبول کرنے کے بجائے ان کے سامنے اپنا مؤقف، اپنے شواہد اور اپنے سوالات رکھے گا۔ اب اصل امتحان دعووں کا نہیں، شواہد کا ہے۔ اگر بھارت کے پاس اپنے مؤقف کے ناقابلِ تردید شواہد ہیں تو انہیں سامنے آنا چاہیے، اور اگر پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب موجود ہے تو وہ بھی حقائق کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ خطے کو نعروں کی نہیں، سچ کی ضرورت ہے؛ اور سچ آخرکار دعووں سے نہیں، شواہد سے ثابت ہوتا ہے











