محترم قارئین، جرگہ کبھی پشتون معاشرے میں اجتماعی مشاورت، باہمی رضامندی، تنازعات کے حل اور قومی معاملات پر غوروفکر کا ایک معتبر ادارہ سمجھا جاتا تھا؛ ایک ایسا فورم جسے پشتون اپنی اجتماعی دانش، پشتونولی، روایات اور دینی تصورات کے تناظر میں قوم کی آواز تصور کرتے تھے۔ مگر پچھلے چالیس برس کی تاریخ پر ایک تنقیدی نظر ڈالی جائے تو یہ سوال پوری شدت سے سامنے آتا ہے کہ جرگہ کیا تھا اور کیا بن گیا؟ ناقدین کے نزدیک 1979 کے بعد افغانستان اور خطے میں جنگ، مداخلت اور اقتدار کی کشمکش کے دوران جرگے کے نام اور تصور کو متعدد مرتبہ سیاسی جواز پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ایسے مواقع بھی آئے جب فیصلہ پہلے سے طے شدہ دکھائی دیتا تھا، وسائل، رہائش، گاڑیاں، میڈیا اور انتظامی سہولتیں بیرونی یا ریاستی سرپرستی سے فراہم ہوتی تھیں اور جرگہ بظاہر اجتماعی رضامندی کی علامت بن کر رہ جاتا تھا۔ یوں وہ ادارہ جو قوم کی مرضی کا اظہار ہونا چاہیے تھا، بعض حالات میں سیاسی فیصلوں کی توثیق کا وسیلہ بننے کا الزام اپنے سر لیتا رہا۔روس اور کمیونسٹ دور کے حوالے سے یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ 1979 میں سوویت مداخلت کے بعد کابل میں منعقد ہونے والے سرکاری اجتماعات اور لویہ جرگوں کو عوامی تائید اور قومی رضامندی کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ملک میں جنگ پھیلتی گئی اور لاکھوں افغانوں کی جانیں ضائع ہوئیں، بے شمار خاندان بے گھر ہوئے اور پشتون علاقوں سمیت افغانستان کے وسیع حصے تباہی سے دوچار ہوئے۔ ناقدانہ بیانیے میں اسی دور کو اس سوال کی بنیاد بنایا جاتا ہے کہ اگر قوم کی حقیقی مرضی موجود تھی تو پھر اتنی وسیع مزاحمت، ہجرت اور تباہی کو کس طرح نظرانداز کیا گیا؟ جرگے کی اصل روح اجتماعی رضامندی تھی، محض سرکاری فیصلے کے لیے ہاتھ اٹھانا نہیں۔1989 کے بعد مجاہدین کے نام پر جنگی سرداروں، مختلف گروہوں اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کیا۔ پشاور سے قندھار، کُنڑ سے وزیرستان تک مختلف حلقوں میں جہاد، اقتدار، مذہب اور قبائلی وفاداری کے الگ الگ تصورات سامنے آتے رہے۔ ایک گروہ کے لیے جو فیصلہ حلال اور قومی مفاد تھا، دوسرے کے لیے وہی فیصلہ حرام یا غداری قرار پاتا رہا۔ نتیجتاً پشتون معاشرہ ایک مشترک قومی سمت کے بجائے مختلف مسلح، سیاسی اور علاقائی دھڑوں میں تقسیم ہوتا چلا گیا۔ یہاں جرگے کا بنیادی سوال پھر وہی تھا، کیا وہ واقعی قوم کے درمیان اتفاق پیدا کر رہا تھا یا طاقتور فریقوں کے فیصلوں کو اجتماعی مہر فراہم کر رہا تھا؟2001 کے بعد امریکہ اور نیٹو کی مداخلت کے دور میں بھی یہی بحث نئے انداز سے سامنے آئی۔ بون کانفرنس سے کابل کے مختلف لویہ جرگوں، آئینی مباحث اور سیاسی فیصلوں تک جرگے کو کبھی قومی اتفاقِ رائے کی علامت اور کبھی بیرونی طاقتوں کے ساتھ ریاستی سمجھوتوں کی توثیق کے ادارے کے طور پر پیش کیا گیا۔ امریکی اڈوں، سلامتی کے معاہدوں، ڈرون حملوں، رات کے چھاپوں، چیک پوسٹوں اور عسکری کارروائیوں کے تناظر میں پشتون علاقوں کے عوام نے جس جنگ اور بے دخلی کا سامنا کیا، اس نے جرگے کی نمائندگی پر بنیادی سوالات اٹھائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ہونے والے بعض رسمی اجلاسوں کو ’’قوم کی مرضی‘‘ کہا گیا، جبکہ اصل پشتون آبادی وزیرستان، سوات، باجوڑ، تیراہ اور دوسرے علاقوں میں جنگ، نقل مکانی اور عدم تحفظ کی قیمت ادا کرتی رہی۔یہ مسئلہ صرف افغانستان تک محدود نہیں۔ ایوب، ضیاء اور مشرف کے ادوار سے لے کر کابل کے مختلف حکومتی ادوار تک، جرگے کو کبھی ریاست اور قبائل کے درمیان پل، کبھی انتظامی ضرورت اور کبھی سیاسی جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ فاٹا میں طویل عرصے تک نافذ رہنے والے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے بارے میں بھی یہ سوال موجود رہا کہ کیا اسے واقعی قبائلی روایت کی نمائندگی حاصل تھی یا اسے ’’روایت‘‘ کے نام پر برقرار رکھا گیا۔ اسی طرح زمین، سرحد، وسائل اور سیاسی معاہدوں کے بارے میں ’’مشران نے دستخط کیے‘‘ کا جملہ کئی مرتبہ استعمال ہوا، لیکن اصل سوال یہ رہا کہ وہ مشران کس حد تک بااختیار، نمائندہ اور آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے والے تھے۔چالیس سالہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ پشتون معاشرے نے بارہا جنگ، ہجرت، سیاسی تقسیم اور بیرونی مداخلت کا بوجھ اٹھایا، جبکہ ’’جرگہ‘‘ کا نام مختلف طاقتوں کے لیے رضامندی کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ ایک طرف لاکھوں خاندان افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں مہاجر ہوئے، دوسری طرف اصلی قومی جرگے اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے جرگے ایک ہی نام سے پکارے گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جرگے کی تقدیس اور اس کے سیاسی استعمال میں بنیادی فرق واضح ہوتا ہے۔کہ روس نے ٹینک سے، امریکہ نے ڈالر اور عسکری طاقت سے، کمیونسٹوں نے نظریے سے، جبکہ مختلف علاقائی طاقتوں نے اپنے اپنے مفادات سے افغانستان اور پشتون خطوں کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے؛ مگر ہر دور میں اصل سوال یہ رہا کہ ان فیصلوں کو پشتون قوم کی اجتماعی رضامندی کا سرٹیفکیٹ کس نے دیا۔ اگر جرگہ واقعی قوم کا ادارہ تھا تو اسے قوم کی آزاد آواز بننا چاہیے تھا، کسی آمر، قابض طاقت یا سیاسی اقتدار کا دفتر نہیں۔ جرگے کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ طاقتور کے فیصلے پر ہاتھ اٹھائے؛ اس کی عظمت اس میں ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے قوم کی آواز بن کر کھڑا ہو۔ جب جرگہ قوم کا ہو تو وہ اختلاف کو مشاورت میں بدلتا ہے، اور جب جرگہ اقتدار کا بن جائے تو مشاورت کو محض مہرِ تصدیق بنا دیتا ہے۔ یہی فرق گزشتہ چالیس برس کی اس ’’سیاہ کتاب‘‘ کا سب سے بڑا سوال ہے۔
17











