26

خیبر پختونخوا: ذمہ داری کس کی؟ حمید علی

خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی، امن و امان اور وفاق و صوبے کے باہمی تعلقات کے حوالے سے قومی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ وفاقی حکومت کے ذمہ داران کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف مختص وسائل کے استعمال کی وضاحت طلب کی جا رہی ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بنیادی سوال یہ ہے کہ دہشت گردی جیسے قومی نوعیت کے مسئلے کو محض صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دے کر کیا وفاق اپنی ذمہ داری سے دست بردار ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی صورتِ حال کو صرف ایک حکومت یا ایک ادارے کی ناکامی کے آئینے میں دیکھنا مسئلے کی پیچیدگی کو محدود کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت سے این ایف سی کے تحت دہشت گردی کے خلاف مختص وسائل کے استعمال کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ اگر واقعی صوبے کو دہشت گردی کے مقابلے کے لیے مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں تو عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان وسائل سے پولیس، انسدادِ دہشت گردی کے اداروں، فرانزک سہولیات، جدید نگرانی کے نظام اور دیگر ضروری شعبوں کو کس حد تک مضبوط کیا گیا۔ امن و امان پر خرچ ہونے والی رقم محض بجٹ کی ایک سطر نہیں، بل کہ انسانی جانوں کے تحفظ سے براہِ راست جڑی ہوئی ذمہ داری ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت کو اپنے اخراجات، ترجیحات اور نتائج کے بارے میں واضح جواب دینا چاہیے۔

لیکن سوال صرف پشاور کے اقتدار کے ایوانوں سے نہیں پوچھا جا سکتا۔ اسلام آباد بھی اس سوال سے الگ نہیں ہو سکتا کہ ایک ایسے صوبے کو، جو برسوں سے دہشت گردی کا سب سے بڑا بوجھ اٹھاتا آ رہا ہے، قومی سلامتی کی حکمتِ عملی میں کس قدر مؤثر اور مستقل معاونت فراہم کی گئی۔ سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن، دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی، افغان سرحد سے متعلق معاملات اور وفاقی اداروں کے درمیان رابطہ ایسے شعبے ہیں جو صرف صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔ اگر خطرہ قومی نوعیت کا ہے تو اس کا جواب بھی قومی سطح پر مربوط ہونا چاہیے۔

صوبائی حکومت سے یہ پوچھنا بجا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود سیف سٹی نظام، فرانزک لیبارٹری، گاڑیوں کی مؤثر رجسٹریشن اور جدید انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مطلوبہ سطح تک کیوں نہیں پہنچایا گیا۔ پولیس کسی بھی ریاست کا وہ بازو ہے جو براہِ راست عوام کے تحفظ کے لیے میدان میں موجود ہوتا ہے۔ اگر پولیس اہلکاروں کے پاس جدید اسلحہ، حفاظتی جیکٹس، مواصلاتی آلات، نگرانی کے جدید ذرائع اور مناسب تربیت نہ ہو تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا خمیازہ سب سے پہلے انہی اہلکاروں کو اپنی جانوں سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے صوبائی حکومت کی انتظامی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

مگر اسی مقام پر وفاقی حکومت سے بھی جواب طلبی ضروری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان اگر قومی اتفاقِ رائے سے تشکیل دیا گیا تھا تو اس پر عمل درآمد بھی کسی ایک صوبے کی ذمہ داری نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، انٹیلی جنس شیئرنگ، بارڈر مینجمنٹ، مالی معاونت اور قومی سطح پر پالیسی کا تسلسل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی صوبے میں مسلسل دہشت گردی ہو رہی ہے تو وفاقی حکومت کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی قومی سلامتی کی پالیسی زمینی سطح پر کس حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ اکثر سیاسی بیان بازی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایک حکومت دوسری حکومت کو ذمہ دار قرار دیتی ہے، ایک ادارہ دوسرے ادارے کی طرف انگلی اٹھاتا ہے اور سیاسی کشمکش کے درمیان اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ دہشت گردی کسی جماعت، حکومت یا سیاسی گروہ کا مسئلہ نہیں؛ یہ ریاست اور معاشرے کے وجود سے جڑا ہوا چیلنج ہے۔ اس لیے اس کے حل کے لیے الزام تراشی سے زیادہ ادارہ جاتی سنجیدگی، مشترکہ حکمتِ عملی اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔

گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات کا ذکر بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایسے غیر معمولی انتظامی اقدامات کے سیاسی اور آئینی اثرات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن دہشت گردی کے مسئلے کا بنیادی حل صرف حکومت کی تبدیلی نہیں۔ اگر انتظامی ڈھانچہ، پولیس کی استعداد، انٹیلی جنس رابطہ، سرحدی نگرانی اور انسدادِ دہشت گردی کے ادارے مطلوبہ معیار تک نہ پہنچیں تو محض سیاسی انتظام بدلنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت اس نظام کو مضبوط کرنے کی ہے جو شہریوں کو مستقل تحفظ فراہم کر سکے۔

خیبر پختونخوا کے عوام طویل عرصے سے دہشت گردی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کے گھروں سے جنازے اٹھے، بازار متاثر ہوئے، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے جانیں دیں اور معمول کی زندگی بارہا خوف کی زد میں آئی۔ ایسے ماحول میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ صوبائی حکومت کو اپنے انتظامی فیصلوں اور وسائل کے استعمال کا حساب دینا چاہیے، جب کہ وفاقی حکومت کو قومی سلامتی کے وسیع تر انتظام، سرحدی صورتِ حال اور اپنی پالیسیوں کی مؤثریت پر جواب دہ ہونا چاہیے۔

وقت آ گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مسئلے کو وفاق بمقابلہ صوبہ بنانے کے بجائے ریاست بمقابلہ دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ صوبائی حکومت اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے، وفاق اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لے اور دونوں حکومتیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی تشکیل دیں۔ عوام کو بیانات نہیں، نتائج درکار ہیں؛ انہیں ایک دوسرے پر الزامات نہیں، بل کہ محفوظ راستے، مضبوط ادارے اور پُرامن مستقبل چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبہ ایک دوسرے کے مدِمقابل نہیں، ایک ہی ریاست کے دو انتظامی بازو ہیں۔ اگر دونوں اپنی ذمہ داری ایک دوسرے پر منتقل کرتے رہے تو نقصان کسی حکومت کا نہیں، پاکستان کے شہریوں کا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں