دنیا اس وقت بظاہر امن، عالمی تعاون، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی بات کر رہی ہے، مگر عالمی سیاست کی گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو ایک مختلف منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتی ہیں اور مقابلہ بھی، مگر اس پورے کھیل کے پسِ پردہ قومی مفادات، معاشی برتری، عسکری طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کی کشمکش نمایاں ہے۔ امریکا، چین، روس، بھارت، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان اور دیگر بااثر ممالک اپنی اپنی طاقت کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یوں دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت صرف میزائل، ٹینک اور فوج کا نام نہیں رہی، بل کہ معیشت، ٹیکنالوجی، تجارت، توانائی، معلومات، مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیت اور سفارتی اثر و رسوخ بھی طاقت کے بڑے ہتھیار بن چکے ہیں۔
طاقت کی سب سے خطرناک شکل اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی ریاست اپنی قوت کو صرف دفاع تک محدود رکھنے کے بجائے عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا ذریعہ سمجھنے لگتی ہے۔ طاقتور ممالک بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی حمایت ضرور کرتے ہیں، مگر جب کوئی معاملہ ان کے بنیادی مفادات سے ٹکرا جائے تو انہی اصولوں کی تشریح مختلف دکھائی دینے لگتی ہے۔ ایک ہی نوعیت کا اقدام ایک ریاست کے لیے سلامتی کا مسئلہ قرار پاتا ہے تو دوسری ریاست کے لیے جارحیت۔ یہی دوہرا معیار عالمی سیاست میں اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا عالمی قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا اس کی حیثیت طاقت کے مطابق بدل جاتی ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ اس نئے عالمی نظام کی نمایاں مثال ہے۔ یہ کشمکش صرف تجارت تک محدود نہیں، بل کہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، جدید صنعت، خلائی ٹیکنالوجی، سمندری راستوں، عالمی منڈیوں اور سفارتی اثر و رسوخ تک پھیل چکی ہے۔ امریکا اپنی دیرینہ عالمی حیثیت اور اتحادی نظام کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جب کہ چین اپنی بڑھتی ہوئی معاشی اور تکنیکی قوت کے ذریعے عالمی نظام میں زیادہ مؤثر کردار چاہتا ہے۔ یوں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بل کہ یہ بھی ہے کہ مستقبل کی دنیا کے اصول، ترجیحات اور طاقت کا توازن کون تشکیل دے گا۔
روس بھی عالمی طاقت کے اس کھیل کا اہم کردار ہے۔ اپنی عسکری قوت، وسیع جغرافیے، توانائی کے وسائل اور سلامتی کے تصورات کے ذریعے روس عالمی سیاست میں اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف مغربی ممالک روسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں جانب اپنے اپنے مفادات اور سلامتی کے دلائل موجود ہیں، مگر اس کشمکش کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بڑی طاقتوں کی حکمتِ عملی کا بوجھ اکثر عام انسان اٹھاتا ہے۔ جنگیں سرحدوں پر لڑی جاتی ہیں، مگر ان کے اثرات گھروں، بازاروں، معیشتوں اور نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
یورپ بھی اس طاقت کی کشمکش سے الگ نہیں۔ برطانیہ اور فرانس اپنی تاریخی، سفارتی اور عسکری حیثیت کے باعث عالمی سیاست میں اہم کردار رکھتے ہیں، جب کہ جرمنی یورپ کی بڑی معاشی قوتوں میں شامل ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا ٹیکنالوجی، صنعت اور عالمی تجارت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بھارت اپنی بڑی آبادی، بڑھتی ہوئی معیشت، دفاعی صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت کے ذریعے عالمی سیاست میں اپنا کردار وسیع کر رہا ہے۔ اس طرح دنیا میں طاقت کا کوئی ایک مرکز نہیں رہا، بل کہ متعدد طاقت کے مراکز ایک دوسرے کے مفادات کو متاثر اور محدود کر رہے ہیں۔
یہ مقابلہ اب روایتی جنگ سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ آج کسی ریاست کو دباؤ میں لانے کے لیے فوج بھیجنا ضروری نہیں۔ معاشی پابندیاں، تجارتی رکاوٹیں، ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کرنا، مالیاتی نظام کا استعمال، معلوماتی جنگ، سائبر حملے اور عالمی منڈیوں پر اثر و رسوخ بھی جدید طاقت کے ذرائع ہیں۔ ایک ملک اگر جدید ٹیکنالوجی میں سبقت حاصل کرتا ہے تو دوسرا اسے روکنے کے لیے برآمدی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ کوئی ریاست اپنی دفاعی صلاحیت بڑھاتی ہے تو دوسری اسے خطرہ سمجھ کر مزید اسلحہ حاصل کرتی ہے۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں ہر ملک اپنی سلامتی کے نام پر دوسرے کے خوف میں اضافہ کرتا ہے۔
یہی دراصل طاقت کا نشہ ہے۔ جب طاقت کسی ریاست کے لیے ذریعہ نہیں رہتی، بل کہ مقصد بن جاتی ہے تو پھر طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے مزید طاقت درکار ہوتی ہے۔ ایک میزائل کے جواب میں دوسرا میزائل، ایک دفاعی اتحاد کے مقابلے میں دوسرا اتحاد، ایک تجارتی راستے کے مقابلے میں دوسرا راستہ اور ایک عالمی اتحاد کے مقابلے میں نئی صف بندی وجود میں آتی ہے۔ یوں دنیا امن کی ضمانت کے نام پر مسلسل جنگ کی تیاری کرتی رہتی ہے۔ سب اپنے اقدامات کو دفاع کہتے ہیں، مگر مجموعی نتیجہ عدمِ تحفظ میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اس حقیقت کی ایک پیچیدہ مثال ہے۔ تیل، گیس، سمندری راستے، جغرافیائی محلِ وقوع اور علاقائی سلامتی نے اس خطے کو طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا رکھا ہے۔ سعودی عرب، ایران، ترکی اور اسرائیل سمیت علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے ساتھ موجود ہیں، جب کہ امریکا، روس، چین اور یورپی ممالک کے معاشی اور تزویراتی مفادات بھی اس خطے سے جڑے ہیں۔ نتیجتاً ایک علاقائی تنازع بھی اکثر عالمی طاقتوں کے وسیع تر مفادات سے جڑ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ قیمت پھر عام شہری ادا کرتے ہیں، جن کے لیے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مطلب جنگ، بے یقینی، مہنگائی، ہجرت اور مستقبل کا خوف بن جاتا ہے۔
طاقت کا یہ کھیل کمزور ریاستوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ چھوٹی اور کمزور ریاستیں اکثر بڑی طاقتوں کے مفادات کے درمیان توازن قائم کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ انہیں کبھی معاشی امداد، کبھی دفاعی تعاون، کبھی تجارتی معاہدوں اور کبھی سفارتی دباؤ کے ذریعے کسی نہ کسی طاقت کے قریب لایا جاتا ہے۔ بظاہر انتخاب ان کا اپنا ہوتا ہے، مگر عالمی طاقت کے غیر مساوی ڈھانچے میں ان کے اختیارات ہمیشہ مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمی سیاست کے خوب صورت دعوے اور زمینی حقیقت ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
اصل المیہ یہ ہے کہ طاقتور ممالک دنیا کو اپنے اپنے مفادات کے چشمے سے دیکھتے ہیں۔ جو اقدام ان کے مفاد میں ہو، اسے استحکام، سلامتی یا قومی خود مختاری کا نام دیا جاتا ہے، جب کہ مخالف ریاست کے اسی اقدام کو خطرہ یا عدمِ استحکام قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس رویے نے عالمی سیاست کو اصولوں سے زیادہ مفادات کا کھیل بنا دیا ہے۔ جب قانون کی قوت اس بات سے مشروط ہو جائے کہ سامنے والی ریاست کتنی طاقتور ہے تو انصاف کا تصور کمزور پڑنے لگتا ہے۔
لیکن تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ کوئی طاقت ہمیشہ طاقتور نہیں رہتی۔ سلطنتیں اپنے عروج کے بعد زوال سے گزری ہیں اور عالمی طاقت کا توازن کئی مرتبہ تبدیل ہو چکا ہے۔ آج جو ریاست ناقابلِ شکست دکھائی دیتی ہے، وقت کے ساتھ اس کی حیثیت بھی بدل سکتی ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک کون ہے، بل کہ یہ ہے کہ طاقت رکھنے والی ریاستیں اپنی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ طاقت اگر امن کے تحفظ، انسانی جانوں کے دفاع، معاشی ترقی اور عالمی تعاون کے لیے استعمال ہو تو نعمت ہے۔
لیکن اگر یہی طاقت برتری کے نشے میں دوسروں کو دبانے کا ذریعہ بن جائے تو تباہی کا راستہ کھول دیتی ہے۔ دنیا کو ایسی طاقت کی ضرورت نہیں جو خوف پیدا کرے؛ دنیا کو ایسی طاقت درکار ہے جو خوف کم کرے۔ کیونکہ تاریخ میں طاقت کا نشہ ہمیشہ باقی نہیں رہتا، مگر اس نشے میں کیے گئے فیصلوں کے زخم نسلوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔ آج کی طاقتور ریاستوں کے سامنے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ دنیا کو اپنی طاقت کے تابع بنانا چاہتی ہیں یا اپنی طاقت کو دنیا کے امن کے تابع کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔











