مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں دوست اور دشمن کی روایتی تعریفیں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ سعودی عرب، جو کئی دہائیوں سے خطے میں امریکی شراکت داری، مضبوط دفاعی تعلقات اور اپنی معاشی طاقت کے باعث ایک اہم علاقائی قوت سمجھا جاتا رہا ہے، آج اپنے گرد بدلتے ہوئے تزویراتی حالات کو غیر معمولی توجہ سے دیکھ رہا ہے۔ یمن، بحیرۂ احمر، حوثی حملوں اور عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے مفادات نے ریاض کے لیے یہ سوال زیادہ اہم بنا دیا ہے کہ مشکل وقت میں اس کے حقیقی اتحادی کون ہیں اور کون اپنے مفادات کی تکمیل کے بعد پیچھے ہٹ سکتا ہے۔
واشنگٹن نے یمن کو یقین دلایا ہے کہ وہ سعودیہ حوثی تنازع سے دور رہے گا اور اس طرح امریکہ نے حوثیوں سے ڈیل کرکے بحیرہ احمر میں اپنی شپنگ لائن اور تجارت کی راہ ہموار بھی کرلی۔امریکی یقین دہانی کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملے تیز کردیئے ہیں۔سعودی عرب کے لیے یہ احساس اہم ہے کہ جس طاقت پر اس نے طویل عرصے تک دفاعی شراکت داری کے حوالے سے اعتماد کیا، وہ اپنے عالمی اور معاشی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے بعض علاقائی تنازعات سے فاصلہ اختیار کر چکا ہے۔
یمن کا بحران سعودی عرب کے لیے نیا نہیں، لیکن اس بحران کی نوعیت ضرور بدل رہی ہے۔ ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی نے جغرافیائی فاصلے کی اہمیت کم کردی ہے۔ ماضی میں سرحدوں، فضائی طاقت اور جدید دفاعی نظام کو کافی سمجھا جاتا تھا، مگر آج کم لاگت کے ڈرون اور میزائل کسی بھی ملک کے حساس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات، پائپ لائنیں، بندرگاہیں اور فوجی مراکز صرف ملکی اثاثے نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر ہونے والا کوئی بھی بڑا حملہ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
بحیرۂ احمر کی صورتحال نے اس پیچیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس سمندری راستے میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات نے دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ عالمی تجارت محض معاشی معاہدوں سے محفوظ نہیں رہتی، بل کہ اس کے پیچھے مضبوط بحری اور علاقائی سلامتی کا نظام بھی ضروری ہے۔ اگر سعودی عرب کے لیے مغربی اور مشرقی سمتوں سے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے تو یہ محض ایک دفاعی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ قومی معیشت، برآمدات، سرمایہ کاری اور عالمی ساکھ سے جڑا ہوا معاملہ بن جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سعودی عرب کے مبینہ ’’اکیلے پن‘‘ کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہاں اکیلے پن سے مراد یہ نہیں کہ سعودی عرب کے دنیا کے ساتھ تعلقات ختم ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاض کے متعدد ممالک کے ساتھ سیاسی، معاشی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کسی بڑے علاقائی بحران کی صورت میں کون سا اتحادی کس حد تک عملی دفاعی ذمہ داری قبول کرے گا۔ سفارتی بیانات، سیاسی حمایت اور حقیقی عسکری تعاون میں فرق ہوتا ہے، اور بحران کے وقت یہی فرق سب سے نمایاں ہو جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ مکہ سے منسوب دفاعی معاہدے کو اگر وسیع تر باہمی دفاعی شراکت کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی اصل اہمیت صرف مقدس مقامات کے تحفظ تک محدود نہیں رہتی۔ مقدس مقامات کی حفاظت یقیناً ایک غیر معمولی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، لیکن سعودی عرب کا دفاع اس سے کہیں وسیع مسئلہ ہے۔ سعودی سرزمین، اس کا فضائی حدود، سمندری راستے، توانائی کا انفراسٹرکچر اور اہم فوجی و معاشی تنصیبات بھی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کیا یہ دفاعی معاہدہ مقدس مقامات کے علاوہ پورے سعودی عرب کے لیے ایک حقیقی دفاعی ڈھال بن سکے گا؟ اس سوال کا جواب صرف معاہدے کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کی عملی نوعیت، طے شدہ ذمہ داریوں، کمانڈ کے طریقۂ کار، انٹیلی جنس تعاون، فضائی دفاع، فوجی تربیت اور کسی ممکنہ حملے کی صورت میں دونوں ممالک کے عملی ردِعمل سے ملے گا۔ دفاعی معاہدے کی طاقت کاغذ پر موجود شقوں سے زیادہ اس وقت سامنے آتی ہے جب بحران حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم معاشی شراکت دار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ تاہم موجودہ دور میں کسی بھی دفاعی شراکت داری کو جذبات سے زیادہ واضح حکمتِ عملی، باہمی مفادات اور عملی صلاحیتوں کی بنیاد پر دیکھنا ہوگا۔ سعودی عرب کو ایسی شراکت داری درکار ہے جو اسے صرف مشکل وقت میں سیاسی اطمینان نہ دے بلکہ اس کے دفاعی ڈھانچے کو حقیقی طور پر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو۔
دوسری طرف سعودی عرب کی اپنی حکمتِ عملی بھی اہم ہے۔ جدید فضائی دفاع، ڈرون شکن نظام، سائبر سکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون، بحری نگرانی اور حساس تنصیبات کا تحفظ اب کسی ایک ملک کے سہارے ممکن نہیں۔ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ متوازن بنانے اور مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ چین، روس، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ روابط اسی وسیع تر سفارتی تنوع کا حصہ سمجھے جا سکتے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک مکمل طور پر کسی ایک طاقت کی چھتری تلے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر سعودی عرب کے لیے مستقبل کی سلامتی شاید اسی میں ہے کہ وہ اپنی دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی کو متعدد شراکت داروں تک پھیلائے۔ چوں کہ خطے کے خطرات بھی کثیرالجہتی ہو چکے ہیں، اس لیے ان کا جواب بھی کثیرالجہتی ہونا ضروری ہے۔
سعودی عرب کے لیے موجودہ بحران ایک آزمائش ضرور ہے، مگر یہ آزمائش ایک نئے تزویراتی راستے کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔ اگر ریاض اپنے دفاع کو مضبوط بنانے، علاقائی شراکت داری بڑھانے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو اپنے قومی مفاد کے مطابق متوازن رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے تو آج کا احساسِ تنہائی مستقبل کی خود انحصاری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ سعودی عرب کا دفاع کون کرے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ سعودی عرب آنے والے برسوں میں اپنی سلامتی کے لیے کتنی مضبوط، متوازن اور قابلِ عمل ڈھال خود تعمیر کرتا ہے۔











