26

امریکا ایران مذاکرات میں اہم پیش رفت، قطر کے ذریعے واشنگٹن کا جواب تہران پہنچ گیا

تہران ، واشنگٹن( نیوزایجنسیاں ) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے سات روزہ اعتماد سازی منصوبے پر واشنگٹن کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ قطری ثالثوں سے دوحہ میں ملاقات کے بعد عراقچی اس معاملے پر تہران میں ایرانی قیادت سے مشاورت کریں گے۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے باخبر ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ عباس عراقچی نے منگل کی رات دوحہ میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی جہاں انہیں ایران کی جانب سے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے پر امریکی مؤقف سے آگاہ کیا گیا۔ عراقچی آج تہران پہنچ کر اس جواب پر بات کریں گے۔ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف منصوبے پر عمل درآمد کی ترتیب سے متعلق ہے۔ سات روزہ منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنا اور جون میں طے پانے والی امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو مزید بہتر شکل میں دوبارہ نافذ کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ایران نے اس سے قبل قطر کے ذریعے امریکا کو ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت تہران نے شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور اس کے بعد وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔ایرانی وزیر خارجہ کا مؤقف رہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایرانی تجویز کو مسترد قرار دیا تھا تاہم قطر کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔تازہ رابطوں میں قطر اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ قطری حکام کے مطابق دوحہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس پورے عمل میں آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور مستقبل کے جوہری مذاکرات سمیت کئی معاملات زیر بحث ہیں۔جبکہ امریکا نے ایران کو ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی ترسیل روکنے کی کوششوں کے تحت ایران کے ایک اور روس کے دو اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا نشانہ ایران کی ساہا ایئرلائنز، روسی طیارہ ساز کمپنی یاکوولیو اور روسی شپنگ کمپنی ایم جی فلوٹ بنی ہیں۔امریکی حکام کے مطابق یاکوولیو نے ایران کو یاک-130 جنگی تربیتی طیارے اور متعلقہ سامان فراہم کیا، جبکہ ایم جی فلوٹ کے زیرِ انتظام بحری جہاز ایران سے روس کو بیلسٹک میزائلوں کی منتقلی میں ملوث رہے۔محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ ساہا ایئرلائنز ایران کیلئے ہتھیاروں اور متعلقہ فوجی سازوسامان کی منتقلی میں ملوث رہی ہے۔امریکا کے مطابق یہ اقدامات ایران پر اقوام متحدہ کی بحال شدہ پابندیوں کی حمایت میں کئے گئے ہیں اور ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا حصہ ہیں۔امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کے ہتھیاروں کی ترسیل کے نیٹ ورک کو محدود کرنا اور اس سے منسلک اداروں پر مالی و تجارتی دباؤ بڑھانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں