17

شی جنپنگ کا دورہ امریکا ٹائمنگ اہم حمید علی

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنپنگ کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا ایک غیر معمولی سیاسی اور معاشی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایران امریکا کشیدگی، تائیوان کا حساس مسئلہ، عالمی تجارت کی کشمکش اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا مقابلہ اس ملاقات کو محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں رہنے دیتا۔ بظاہر میز پر چند علاقائی اور دوطرفہ معاملات تھے، مگر پسِ پردہ سوال اس سے کہیں بڑا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں طاقت کا نیا توازن کس سمت تشکیل پا رہا ہے۔

امریکا اور چین آج عالمی سیاست اور معیشت کے دو اہم مراکز ہیں۔ واشنگٹن کے پاس وسیع فوجی طاقت، عالمی اتحادی نظام اور مالیاتی اثر و رسوخ ہے، جب کہ بیجنگ نے صنعت، تجارت، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے ذریعے اپنا عالمی کردار مضبوط کیا ہے۔ دونوں کے درمیان مسابقت کئی شعبوں تک پھیل چکی ہے، لیکن ایک دوسرے کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ یہی تضاد اس تعلق کو منفرد بناتا ہے۔ مقابلہ جاری ہے، مگر رابطہ بھی ناگزیر ہے۔

اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو اس کا وقت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عالمی تشویش کا باعث ہے۔ خلیج میں کسی بڑے بحران کے اثرات توانائی کی رسد، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں چینی صدر کا دونوں فریقوں کو کشیدگی ختم کرکے مذاکرات کی طرف واپس آنے کا مشورہ اس ملاقات کو وسیع تر سفارتی تناظر فراہم کرتا ہے۔ بیجنگ کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اس کی توانائی اور تجارتی ضروریات سے بھی جڑا ہوا ہے، جب کہ واشنگٹن کے اپنے اسٹریٹجک مفادات ہیں۔

یہاں ایک اہم تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ چین اب صرف معاشی طاقت کے طور پر نہیں، بل کہ عالمی سفارت کاری میں بھی اپنا کردار نمایاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ایران امریکا کے درمیان مذاکرات کی کوئی گنجائش پیدا ہوتی ہے تو چین اسے اپنے سفارتی اثر و رسوخ کے اظہار کے طور پر بھی دیکھ سکتا ہے۔ تاہم اس کا نتیجہ متعلقہ فریقین کے عملی فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ کسی پیچیدہ تنازع کو صرف ایک ملاقات یا بیان سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

تائیوان اس تعلق کی سب سے حساس گرہ ہے۔ بیجنگ کے لیے یہ قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا مسئلہ ہے، جب کہ واشنگٹن کے لیے اس کی علاقائی حکمتِ عملی اور اتحادی تعلقات اس معاملے سے وابستہ ہیں۔ تائیوان کی اہمیت صرف جغرافیائی نہیں، بل کہ جدید ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر صنعت کے باعث عالمی معیشت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات ایشیا سے نکل کر عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایسے معاملے میں براہِ راست اعلیٰ سطحی رابطہ غلط فہمیوں کو بڑھنے سے روکنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

امریکا چین مسابقت کا ایک بڑا میدان تجارت اور ٹیکنالوجی بھی ہے۔ آج تجارتی برتری محض اقتصادی فائدہ نہیں رہی؛ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، جدید صنعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی مستقبل کی طاقت کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ دونوں ممالک اسی لیے اپنی صنعتی اور تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔ ان کی پالیسیوں میں آنے والی تبدیلیاں عالمی سپلائی چین، سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول کو متاثر کرتی ہیں۔ چنانچہ واشنگٹن اور بیجنگ کا معاشی اختلاف پوری دنیا کے لیے اہم بن جاتا ہے۔

اس صورتِ حال میں پاکستان کے لیے بھی یہ ملاقات معنی رکھتی ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں چین، امریکا اور ایران سمیت متعدد اہم طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ایران امریکا تعلقات میں کشیدگی یا بہتری، چین امریکا تعلقات کی سمت اور عالمی تجارت میں تبدیلیاں پاکستان کے سفارتی اور معاشی ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اسلام آباد کے لیے چیلنج یہ ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی صف بندی میں اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے تمام اہم طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے۔

اس ملاقات کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو دنیا ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے۔ پرانا عالمی نظام اپنی جگہ موجود ہے، مگر طاقت کے نئے مراکز بھی تیزی سے ابھر رہے ہیں۔ معیشت، ٹیکنالوجی، توانائی، تجارت اور سفارت کاری نے طاقت کے مفہوم کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب عالمی اثر و رسوخ صرف فوجی قوت سے متعین نہیں ہوتا۔ جس ملک کے پاس معاشی قوت، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع سفارتی رسائی ہو، وہ عالمی فیصلوں پر اثر ڈالنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی لیے ٹرمپ اور شی جنپنگ کی ملاقات کا اصل وزن کسی فوری معاہدے سے زیادہ رابطے کے برقرار رہنے میں ہے۔ امریکا اور چین کے اختلافات ختم نہیں ہوئے، نہ ہی ایران، تائیوان اور تجارت جیسے مسائل آسانی سے حل ہونے والے ہیں۔ لیکن جب دنیا کی دو بڑی طاقتیں اختلافات کے باوجود مذاکرات کی میز پر آتی ہیں تو کم از کم یہ امکان موجود رہتا ہے کہ مسابقت کو براہِ راست تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

آج کی دنیا کو شاید کسی ایک طاقت کی بالادستی سے زیادہ ایک ایسے توازن کی ضرورت ہے جہاں بڑی ریاستیں اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہوئے عالمی بحرانوں کے لیے سفارتی راستے بھی کھلے رکھیں۔ واشنگٹن کی یہ ملاقات اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ اصل امتحان اب ملاقات کے بعد شروع ہوگا: کیا بیانات عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے ہیں؟ کیا تجارتی کشیدگی میں کمی آتی ہے؟ کیا ایران امریکا کے درمیان مذاکرات کی گنجائش پیدا ہوتی ہے؟ اور کیا تائیوان جیسے حساس معاملے پر رابطہ برقرار رہتا ہے؟

ان سوالات کے جوابات آنے والا وقت دے گا، مگر ایک بات واضح ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والی یہ ملاقات عالمی سیاست کے بڑے منظرنامے میں ایک اہم لمحہ ہے۔ یہاں صرف دو صدور نہیں بیٹھے تھے؛ یہاں عالمی طاقت کے دو بڑے مراکز ایک دوسرے کے سامنے تھے۔ ان کے درمیان پیدا ہونے والی مفاہمت یا کشیدگی کے اثرات آنے والے دنوں میں صرف امریکا اور چین نہیں، بل کہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں