پٹرول مہنگا ہو، خزانے پر دباؤ ہو، بجٹ مشکل حالات سے گزر رہا ہو اور ریاست کو اپنے اخراجات کم کرنے کی بات ہو تو کفایت شعاری یقیناً وقت کی ضرورت ہے مگر کفایت شعاری آخر کس چیز کا نام ہے؟ اصل معنی کیا ہے ؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے پٹرول مہنگا ہونے کا بوجھ پہلے ہی عام آدمی اٹھا رہا ہے۔ کرایے بڑھ رہے ہیں، روزمرہ کی چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں اور گھر کا بجٹ مزید مشکل ہو رہا ہے۔ پھر اسی بچت کے نام پر طلبہ اور تعلیمی اداروں سے بھی قربانی مانگی جاتی ہے۔ آزاد کشمیر میں تعلیمی اداروں کے لیے پانچ روزہ ہفتہ کیا گیا۔ لیکن یہ ہمارے لیے کوئی حیران کن بات نہیں، کیونکہ گزشتہ کئی سال سے معاشی، معاشرتی اور سیاسی عدم استحکام کے اثرات ہر شعبے تک پہنچ رہے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہو یا کوئی اور بحران، سب سے پہلے قربانی کا رخ وہیں جاتا ہے جہاں سے قوم کے معمار تیار ہونے ہیں۔
اس سیاسی اور اقتداری ڈگڈگی کے کچھ کردار ایسے بھی ہیں جو ہر حکومتی فیصلے کے دفاع میں آگے آ جاتے ہیں، حکومت کو داد دیتے ہیں اور عوام کی مشکلات کو پسِ پشت ڈال کر سرکاری مؤقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک جملہ یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہ پٹرول اگر پچاس روپے مہنگا کیا گیا ہے تو سو روپے بھی کر دیتے، عوام کیا کر لیتی؟ بھلا عوام کا حکومت سے کیا مقابلہ ہو سکتا ہے؟ بدقسمتی ہے عوام کی تکلیف کے جواب میں طنز و طعنہ سننے کو ملتے ہیں، یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اقتدار کے نشے میں ڈوبی ہوئی اس کیفیت کا اظہار ہے جہاں عوام کی تکلیف اور انسانی جان سے زیادہ اپنے اختیار کا دفاع عزیز ہو جاتا ہے۔ عہدے کی لالچ میں ذمہ داری کا احساس مٹا دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک کے دوران حالات اس حد تک کشیدہ کر دیے جہاں معمولاتِ زندگی متاثر، تصادم اور انسانی جانوں کا نقصان ہوا، پونچھ اور سدھنوتی کی کئی نشستوں پر لوگ حقِ رائے دہی استعمال نہ کر سکے اور انتخابات مکمل ہوئے بغیر ہی نئی حکومت قائم ہو گئی۔ مسئلہ صرف احتجاج کا نہیں، ریاست کے ردِعمل کا بھی ہے۔ انتظامیہ راولاکوٹ میں پرامن دھرنے کو تعلیمی نقصان کی وجہ قرار دے رہی ہے، جبکہ مظاہرین کہ مطابق انٹرنیٹ بندش، تشدد اور جبر سے طلبہ کی حقیقتاً پڑھائی متاثر ہوئی۔ دونوں طرف الزام تراشی اور اپنے اپنے دلائل جاری ہیں مگر کوئی حل طلب راستہ نہیں نکل رہا۔ ایسے حالات میں مزید عوامی نقصان کا خدشہ برقرار ہے۔ دوسری طرف پٹرول اور ایندھن کی بچت کے نام پر تعلیمی اداروں کے ہفتہ وار نظام میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ ترجیحات کا یہ تضاد سمجھ سے بالاتر ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام قربانیوں کی ایک طویل فہرست اپنے دامن میں لیے کھڑے ہیں مگر فیصلہ سازوں میں ان قربانیوں کا احساس کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان میں بھی سیاسی اختلافات و ذاتی مفادات کے کالے سائے تلے عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہونے والے احتجاجوں میں حالات کی شدت، گرفتاریاں اور معاشی و جانی نقصان سامنے آتا رہا ہے۔ لیکن ایسے حالات کے بعد ضرورت احساس، سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کی تھی تاکہ سیاسی عمل آگے بڑھتا۔ اس کے بجائے 27 ستمبر کے احتجاج کو روکنے کے لیے کئی ٹوپیاں سجائے وزیرِ داخلہ کی جانب سے ’’ہر ممکن طریقے‘‘ سے کارروائی کی بات آنا بھی افسوسناک ہے جبکہ یہ کہہ دینا احتجاج اپنے اپنے شہروں اور صوبوں میں کیے جائیں، پُرامن احتجاج کے حق کو بھی تسلیم کیا جائے، ایک درست عمل ہے۔ میرے نزدیک طاقت، عجلت، تلخی، تنقید، دباؤ، تشدد اور جبر کے بجائے تحمل، مکالمے اور راستہ نکالنے کی صلاحیت کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو اپنی زندگی، روزگار اور سکون داؤ پر لگا کر سڑکوں پر آنے کی نوبت نہ آئے۔
اصل بات صرف اخراجات کم کرنے اور تعلیم کو محدود کرنے کا نام کفایت شعاری نہیں بلکہ فیصلوں میں احساس اور ذمہ داری کا نام بھی ہے۔ کفایت شعاری کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم، عوام اور کسان سے قربانی مانگی جائے جبکہ غیر ضروری اخراجات، پروٹوکول، حکومتی اجلاسوں کے غیر ضروری دورے، مراعات اور شاہانہ طرزِ زندگی جوں کے توں برقرار رہیں۔ ضروری پروٹوکول اور ناگزیر سرکاری ذمہ داریوں کے علاوہ غیر ضروری دوروں اور نمائشی سرگرمیوں میں واضح کمی ہونی چاہیے۔ حکومتی اجلاس بھی ضرورت، نتیجے اور عوامی مفاد کی بنیاد پر ہوں تاکہ محض دکھاوے اور سرکاری وسائل کے استعمال کا ناجائز ذریعہ نہ بنیں۔
اسی طرح مریم نواز کے زیرِ استعمال سرکاری جہاز اور پاکستان ائیرلائن PIA کی خرید و فروخت سے لے کر سرکاری وسائل کے ہر غیر شفاف استعمال تک، مالی بدعنوانی کے خلاف کھلی، بلاامتیاز اور سخت سزاؤں کا نظام قائم ہونا چاہیے۔ عوام سے قربانی مانگنے والی حکومت اگر اپنے اخراجات، مراعات اور مالی معاملات میں احتساب و شفافیت نہیں دکھاتی تو اس کی کفایت شعاری محض ایک نعرہ رہ جاتا ہے۔ سرکاری وسائل ہوں یا حکومتی منصوبے، ہر معاملے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں اور بدعنوانی ثابت ہونے پر عہدہ، جماعت یا تعلق کسی کے لیے رعایت کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ تعلیم، عوام اور کسان کی ضروریات کو نظرانداز کر کے بچت کا بوجھ صرف کمزور طبقے پر ڈالنا کفایت شعاری نہیں بلکہ ناانصافی ہے۔ کیونکہ اصل مسئلہ صرف پٹرول کی قیمت نہیں بلکہ احساس کی قیمت ہے۔
میرِ کشمیر واحد اعجاز میر کا یہ عوامی مقبول اور مشہورِ زمانہ شعر احساس کی پوری دنیا اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے:
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ!
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے…!
واحد اعجاز میر کی شاعری میں روحانی و رحمانی فکر، انسانی احساس، غزل کی نزاکت، رومانوی رنگ اور مزاحمت کی آواز ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ شاید اسی لیے شعر کہ نزدیک احساس محض ایک لفظ نہیں بلکہ انسان کی بنیادی پہچان ہے۔ احساس ہی انسان کو انسان بناتا ہے اور جو شخص منصب پر فائز ہو کر بھی عوام کے دکھ، مشکلات اور ضروریات کا احساس نہ رکھے، وہ عہدے کا اہل نہیں بلکہ اختیار کے لباس میں چھپی ہوئی جہالت، سنگ دلی اور بے حسی کی علامت ہوتا ہے۔ ایسا شخص منصب کی بلندی پر بیٹھ کر بھی انسانی شعور کی پستی میں مبتلا رہتے ہوئے انسانی رویوں کی تذلیل اور مستقبل کو تباہ کرتا ہے کیونکہ عہدہ انسان کو کبھی بڑا نہیں بناتا بلکہ انسانیت، علم اور احساس اسے بڑا بناتے ہیں۔ حکمرانی ستاروں کی نہیں، انسانوں کی ہوتی ہے۔ اس لیے فیصلوں میں سب سے پہلے انسان اور اس کے احساس کو جگہ ملنی چاہیے۔ جب احساس سستا ہو جائے تو پٹرول مہنگا ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔











