29

عوامی مشکلات کا احساس، وزیراعظم کا فیول ریلیف پیکیج ایک بروقت اقدام تحریر: محمد فیصل ندیم

موجودہ عالمی حالات میں جب دنیا بھر کی معیشتیں مختلف نوعیت کے چیلنجز سے دوچار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث عالمی سطح پر تیل کی منڈیوں میں دباؤ برقرار ہے ایسے وقت میں پاکستان کے عام شہری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم کی جانب سے خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا آغاز ایک اہم اقدام ہے۔ یہ اسکیم اس حکومتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ مشکل حالات میں ریاست کی ذمہ داری صرف مسائل کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ عام آدمی کو عملی سہولت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا بھی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں معمولی سی تبدیلی بھی عام شہری کے ماہانہ بجٹ پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک مزدور دکاندار سرکاری ملازم نجی ادارے کا کارکن طالب علم یا چھوٹا کاروبار کرنے والا شخص روزانہ آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل یا چھوٹی گاڑی استعمال کرتا ہے۔ ایسے میں ایندھن کے اخراجات میں کمی صرف چند روپے کی بچت نہیں ہوتی بلکہ گھر کے مجموعی بجٹ پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ اسی تناظر میں خصوصی فیول ریلیف اسکیم عام شہری کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کے ذریعے ایسے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے جو روزمرہ سفر کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک کی موٹر کاروں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر پٹرول کی سہولت رکھی گئی ہے۔ اس پروگرام کا نمایاں پہلو فی لیٹر 100 روپے کی رعایت ہے۔ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو 5 لیٹر کے ٹوکن پر 500 روپے جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والے شہریوں کو 10 لیٹر کے ٹوکن پر 1000 روپے تک کی رعایت حاصل ہو سکتی ہے۔ خصوصی فیول ریلیف اسکیم کو مرحلہ وار نافذ کیا گیا تاکہ اس کے تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کو منظم انداز میں فعال کیا جا سکے۔ پہلے مرحلے میں ملک بھر میں ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا اور شہریوں کو صرف ایک مرتبہ رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں 14 اور 15 ستمبر 2026 کی درمیانی شب اسلام آباد کی حدود میں ٹوکن کے اجرا اور استعمال کی سہولت فعال کی گئی جبکہ 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب اس پروگرام کو ملک بھر تک توسیع دی گئی۔ اس اسکیم میں رجسٹریشن کا طریقہ کار بھی موبائل فون کے ذریعے آسان رکھا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو غیرضروری دفتری مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔ رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو 9771 پر مطلوبہ معلومات کے ساتھ ایس ایم ایس بھیجنا ہوگا۔ مقررہ طریقہ کار کے مطابق پیغام میں REG شناختی کارڈ نمبر گاڑی کا رجسٹریشن نمبر رجسٹرڈ صوبے کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن تاریخ درج کرنا ضروری ہے۔ رجسٹریشن صرف ایک مرتبہ کی جائے گی۔ رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد پٹرول پمپ جانے سے پہلے TOK لکھ کر 9771 پر ایس ایم ایس بھیجنے سے ٹوکن حاصل کیا جا سکتا ہے۔ موصول ہونے والے پیغام میں ٹوکن نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، پٹرول کی مقدار اور ٹوکن کی میعاد سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ پٹرول پمپ پر آپریٹر موبائل ایپ کے ذریعے ٹوکن کی تصدیق کرے گا، جس کے بعد شہری کو رعایتی قیمت پر پٹرول فراہم کیا جائے گا۔ موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 5 لیٹر کے ٹوکن جاری کیے جائیں گے جن کی مدتِ استعمال سات دن ہوگی۔ اس کیٹیگری میں ایک ہفتے کے دوران ایک ٹوکن حاصل کیا جا سکے گا جبکہ ماہانہ حد 20 لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 10 لیٹر کے ٹوکن ہوں گے جن کی میعاد دس دن ہوگی۔ اس کیٹیگری میں ہر دس دن کے دوران ایک ٹوکن حاصل کیا جا سکے گا اور ماہانہ حد 30 لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس پروگرام میں ڈیجیٹل نظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایس ایم ایس رجسٹریشن ٹوکن کے اجرا اور پٹرول پمپ پر تصدیق کے لیے مربوط نظام تیار کیا گیا ہے۔ قومی شناختی کارڈ سے منسلک رجسٹریشن کے ذریعے دہری رجسٹریشن اور ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس نظام کو ملک بھر سے موصول ہونے والی بڑی تعداد میں ایس ایم ایس درخواستوں کو سنبھالنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ اہل شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس پورے عمل میں مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وزارتِ خزانہ، پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، پی ٹی اے، پی ڈی اے، اسٹیٹ بینک، ضلعی انتظامیہ، این آئی ٹی بی، نادرا اور ٹیلی کام آپریٹرز سمیت متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے اسکیم کے انتظامی اور تکنیکی مراحل کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ ایک ملک گیر عوامی ریلیف پروگرام کی کامیابی کے لیے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، بروقت کارروائی اور مسلسل نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ شہریوں کی رہنمائی اور مسائل کے حل کے لیے متعلقہ نظام میں کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں پروگرام کی نگرانی اور موصول ہونے والی شکایات کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ شہریوں کے لیے 9771، پٹرول پمپ مالکان کے لیے 9772 اور واٹس ایپ بوٹ نمبر 03498041526 فراہم کیا گیا ہے، تاکہ رجسٹریشن، ٹوکن یا تصدیق سے متعلق مسائل میں رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے شہریوں کو رجسٹریشن کے دوران چند اہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ جس سم سے رجسٹریشن کی جائے وہ اسی شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔ صوبے سے مراد وہ صوبہ ہوگا جہاں گاڑی رجسٹرڈ ہے۔ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر درج کرتے وقت اسپیس استعمال نہیں کرنی جبکہ تمام معلومات درست اور مکمل درج کرنا ضروری ہے۔ غلط معلومات کی صورت میں رجسٹریشن یا ٹوکن کے حصول میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ کسی بھی عوامی فلاحی پروگرام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی معلومات زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں تک پہنچیں۔ بہت سے افراد سہولت کی موجودگی سے لاعلمی غلط طریقہ کار یا نامکمل معلومات کے باعث فائدہ حاصل نہیں کر پاتے۔ اس لیے شہریوں کو رجسٹریشن، ٹوکن کے حصول رعایت کی مقدار اور مقررہ شرائط سے آگاہ کرنا نہایت اہم ہے۔ عوامی سطح پر درست معلومات کی فراہمی سے نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم ہو سکتی ہیں بلکہ پروگرام کے شفاف اور مؤثر استعمال میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے روزانہ آمدورفت کے اخراجات ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے افراد میں مزدور، طلبہ چھوٹے دکاندار، نجی ملازمین اور مختلف شعبوں سے وابستہ کارکن شامل ہیں۔ ان افراد کے لیے پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کی رعایت ماہانہ اخراجات میں کمی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹی گاڑی رکھنے والے شہریوں کے لیے بھی مقررہ حد کے اندر رعایتی پٹرول ایک اضافی مالی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ اس اسکیم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ریلیف کی فراہمی کے لیے موبائل فون اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ اس سے شہریوں کو گھر بیٹھے رجسٹریشن اور ٹوکن کے حصول کی سہولت ملتی ہے۔ تاہم اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ایس ایم ایس سروس موبائل ایپ پٹرول پمپ کی تصدیق اور شکایات کے ازالے کا عمل مسلسل فعال رکھا جائے۔ شہریوں کو بروقت جواب ملنا اور تکنیکی مسائل کا فوری حل پروگرام پر اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا بنیادی مقصد عام شہری کے ایندھن کے اخراجات میں براہِ راست کمی لانا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ تمام اہل افراد کو یکساں مواقع فراہم ہوں رجسٹریشن کا عمل شفاف رہے اور رعایت مقررہ اصولوں کے مطابق مستحق شہریوں تک پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ پروگرام کی کارکردگی عوامی شکایات اور عملی نتائج کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے تاکہ جہاں کہیں خامی یا دشواری سامنے آئے، اسے بروقت دور کیا جا سکے۔ عوامی ریلیف صرف اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے عملی فوائد عام شہری تک پہنچنا بھی ضروری ہیں۔ اس حوالے سے حکومتی اداروں پٹرول پمپ انتظامیہ ٹیلی کام کمپنیوں اور شہریوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ شہری درست معلومات کے ساتھ رجسٹریشن مکمل کریں، مقررہ طریقہ کار پر عمل کریں اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں متعلقہ ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔ دوسری جانب متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظام کو آسان، شفاف اور قابلِ رسائی بنائیں۔ خصوصی فیول ریلیف اسکیم کو موجودہ حالات میں عوامی سہولت کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پٹرول کے اخراجات میں کمی سے ان افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو روزانہ سفر کے لیے موٹر سائیکل،
رکشہ یا چھوٹی گاڑی استعمال کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں براہِ راست رعایت، ڈیجیٹل رجسٹریشن، ٹوکن نظام اور پٹرول پمپ پر تصدیق جیسے عناصر شامل ہیں، جن کا مقصد ریلیف کی فراہمی کو منظم بنانا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکیم کے بارے میں آگاہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے شہریوں کو درست طریقہ کار سمجھایا جائے اور متعلقہ ادارے عوامی شکایات کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ اگر رجسٹریشن کا عمل آسان نظام شفاف اور رعایت کی فراہمی بروقت ہو تو یہ پروگرام اہل شہریوں کے لیے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ عوامی فلاح کا اصل مقصد یہی ہے کہ مشکل حالات میں عام شہری کو سہولت اور سہارا فراہم کیا جائے۔خصوصی فیول ریلیف اسکیم اسی مقصد کے تحت ایک منظم پروگرام کے طور پر سامنے آئی ہے جس میں حکومتی اداروں کے باہمی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں تک رعایت پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب اس پروگرام کی مؤثر تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اہل شہری درست طریقے سے رجسٹریشن کروا کر اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں