17

نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟ حمید علی

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونیں جنگ لڑی ہے۔ اس جنگ میں افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ دہشت گردی کے کئی بڑے مراکز ختم کیے گئے، انتہا پسندوں کے نیٹ ورک توڑے گئے اور ملک میں امن کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ اسی پس منظر میں دسمبر 2014ء کے سانحۂ آرمی پبلک اسکول کے بعد قومی اتفاقِ رائے سے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا۔ اس کا مقصد صرف دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا نہیں تھا، بل کہ دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کے ان تمام اسباب کا خاتمہ تھا جو ریاست اور معاشرے کے لیے مستقل خطرہ بن چکے تھے۔

نیشنل ایکشن پلان دراصل ایک جامع قومی حکمتِ عملی تھی جس میں بیس نکات شامل تھے۔ اس میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کا خاتمہ، نفرت انگیز تقریروں اور مواد کی روک تھام، دہشت گردوں کی مالی معاونت بند کرنا، مدارس کی رجسٹریشن اور اصلاحات، افغان مہاجرین کے معاملات، عدالتی نظام میں بہتری اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مؤثر رابطے جیسے اہم اقدامات شامل تھے۔ مقصد یہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف بندوق اور گولی تک محدود نہ رکھا جائے، بل کہ ریاستی اداروں، عدلیہ، پولیس، تعلیم، معیشت، میڈیا اور معاشرے کو بھی اس قومی کوشش کا حصہ بنایا جائے۔

لیکن آج سوال یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟ اگر یہ ایک مستقل قومی پالیسی تھی تو پھر اس کے بیشتر نکات وقت گزرنے کے ساتھ قومی ترجیحات کی فہرست سے کیوں اوجھل ہوتے گئے؟ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران جب حملوں میں کمی آئی تو کیا ہم نے یہ سمجھ لیا کہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا ہے؟ اگر ایسا سمجھا گیا تو یہ ہماری سب سے بڑی غلط فہمی تھی۔ دہشت گردی محض چند افراد کا مسئلہ نہیں ہوتی، اس کے پیچھے نظریاتی، مالی، سماجی اور سرحدی عوامل بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایک نیٹ ورک ختم ہونے کے بعد دوسرا نیٹ ورک اسی خلا سے جنم لے سکتا ہے۔

آج خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کا چیلنج ایک مرتبہ پھر ریاستی توجہ کا تقاضا کر رہا ہے۔ سکیورٹی اہل کاروں اور شہریوں کی جانوں کا ضیاع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ایسے حالات میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ سکیورٹی ادارے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے غیر عسکری حصے پر کتنی سنجیدگی سے عمل ہوا؟ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، نفرت انگیز بیانیے کا مقابلہ کرنے، انتہا پسندانہ سوچ کے خاتمے، پولیس کو مضبوط بنانے اور مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہماری رفتار کیا رہی؟

نیشنل ایکشن پلان کی ایک بنیادی روح یہ تھی کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف دوغلی پالیسی اختیار نہیں کرے گی۔ کسی بھی گروہ کو اس لیے رعایت نہیں دی جائے گی کہ وہ وقتی طور پر ریاست کے لیے مفید دکھائی دیتا ہے۔ دہشت گردی دہشت گردی ہے، خواہ اس کا نشانہ کوئی بازار ہو، مسجد ہو، اسکول ہو، پولیس چوکی ہو یا فوجی تنصیب۔ ریاست کی طاقت کی اصل علامت یہی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو۔ اگر کسی ایک گروہ کے خلاف کارروائی ہو اور دوسرے کے لیے خاموشی اختیار کی جائے تو قومی ایکشن پلان اپنی روح کھو دیتا ہے۔

اسی طرح نفرت انگیز تقریروں اور انتہا پسندانہ مواد کا مسئلہ بھی انتہائی اہم ہے۔ دہشت گردی صرف پہاڑوں، سرحدی علاقوں یا بندوق بردار گروہوں سے نہیں جنم لیتی۔ اس کی ایک شکل وہ سوچ بھی ہے جو انسان کو دوسرے انسان کی جان، عقیدے یا رائے کا دشمن بنا دیتی ہے۔ اگر تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، سوشل میڈیا اور عوامی پلیٹ فارموں پر نفرت کے بیانیے کو روکنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی موجود نہ ہو تو دہشت گردی کے خلاف جنگ ادھوری رہتی ہے۔ ہمیں بندوق اٹھانے والے ہاتھ کے ساتھ اس ذہن کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو بندوق کو جائز سمجھتا ہے۔

اس معاملے میں سیاسی استحکام بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ قومی سلامتی کے بنیادی معاملات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، مگر ریاست کی سلامتی مستقل ذمہ داری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کا منصوبہ نہیں تھا۔ یہ پوری ریاست کا قومی عہد تھا۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف پالیسی بھی حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے عوام کو صرف سکیورٹی آپریشنز کے زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ جہاں غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، بنیادی سہولتوں کا فقدان اور احساسِ محرومی موجود ہو، وہاں ریاست کو سکیورٹی کے ساتھ ترقی اور انصاف بھی پہنچانا ہوگا۔ خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ان کے مستقبل کی بھی محافظ ہے۔ محرومی کا ہر مسئلہ دہشت گردی نہیں ہوتا، لیکن محرومی کو نظر انداز کرنا مسائل کو پیچیدہ ضرور کر دیتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو محض ایک پرانی دستاویز سمجھ کر فائلوں میں نہ رکھا جائے، بل کہ اسے موجودہ حالات کے مطابق دوبارہ فعال کیا جائے۔ اس کے ہر نکتے کا جائزہ لیا جائے، معلوم کیا جائے کہ کون سے اہداف مکمل ہوئے، کون سے ادھورے ہیں اور کن شعبوں میں ناکامی ہوئی۔ پارلیمان، حکومت، عسکری قیادت، عدلیہ، پولیس، انٹیلی جنس اداروں، صوبائی حکومتوں، مذہبی علما، تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ قومی فریم ورک میں لانا ہوگا۔

پاکستان کو آج کسی نئے نعرے سے زیادہ ایک واضح، مستقل اور بلاامتیاز قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ اگر نیشنل ایکشن پلان واقعی قومی ایکشن پلان تھا تو پھر اس کا عمل بھی قومی ہونا چاہیے اور اس کی ذمہ داری بھی سب پر عائد ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف چند آپریشنز یا چند گرفتاریاں نہیں، بل کہ ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں قانون طاقت ور اور کم زور دونوں کے لیے برابر ہو، جہاں نفرت کو پنپنے کا موقع نہ ملے، جہاں دہشت گردی کی مالی اور نظریاتی بنیادیں ختم ہوں اور جہاں شہری خود کو ریاست کے سائے میں محفوظ محسوس کریں۔

سوال آج بھی وہی ہے: نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟ شاید اس کا سب سے درست جواب یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہیں غائب نہیں ہوا، ہماری قومی ترجیحات میں اس کی جگہ ضرور کم ہوتی گئی ہے۔ہم اپنے مسائل بھول کر دنیا کی ثالثیوں میں پڑھ گئے ہیں۔ اب وقت ہے کہ اسے دوبارہ کاغذ سے نکال کر عملی میدان میں لایا جائے، کیوں کہ دہشت گردی کو وقتی کارروائیوں سے نہیں، مسلسل قومی عزم سے شکست دی جا سکتی ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں بہت خون دیا ہے؛ اب اس قربانی کا تقاضا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، پُرامن اور مضبوط پاکستان دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں