18

خاموش چیخیں تحریر: نعیم الحسن نعیم

کچھ لوگ شور نہیں کرتے بس ٹوٹتے رہتے ہیں کچھ لوگ اپنی زندگی میں اتنا شور نہیں کرتے جتنا شور ان کے اندر برپا ہوتا ہے۔ وہ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں لوگوں سے ملتے ہیں اپنے کام کرتے ہیں اور بظاہر بالکل ٹھیک دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے اندر ایک ایسی جنگ جاری ہوتی ہے جس کا کسی کو اندازہ نہیں ہوتا۔ ہم نے انسان کا لباس دیکھنا سیکھ لیا اس کی حیثیت دیکھنا سیکھ لی اس کی کامیابی اور ناکامی کا حساب لگانا سیکھ لیا مگر اس کی آنکھوں میں اترے ہوئے موسم پڑھنا بھول گئے۔ہم کسی کو ہنستا دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ وہ خوش ہے۔ کسی کو خاموش دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی کو کامیاب دیکھ کر خیال کرتے ہیں کہ اس کی زندگی میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر مسکراہٹ خوشی کی علامت نہیں ہوتی اور ہر خاموشی سکون کی نشانی نہیں ہوتی۔
کبھی کسی ایسے شخص کے پاس بیٹھ کر دیکھیے جو ہر وقت دوسروں کو ہنساتا ہے۔ ممکن ہے وہ خود اندر سے سب سے زیادہ اداس ہو. کبھی اس شخص سے پوچھ کر دیکھیے جو ہر ایک کا مسئلہ سنتا ہے کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ شاید وہ پہلی مرتبہ خاموش ہو جائے۔کاش ہم کبھی ان لوگوں سے بھی پوچھیں کہ مضبوط رہنے کی قیمت کیا ہے؟ ہماری زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہیں جنہیں ہم ہمیشہ اپنے قریب سمجھتے ہیں اور اسی لیے ان کی قدر کرنا بھول جاتے ہیں۔ سب سے پہلے ماں۔ ماں صرف ایک لفظ نہیں یہ وہ دنیا ہے جہاں انسان پہلی بار محبت کا مطلب سمجھتا ہے۔ وہ ہماری ایک آواز پر جاگ جاتی ہے ہماری خاموشی سے پریشان ہو جاتی ہے ہمارے چہرے سے ہماری پریشانی پڑھ لیتی ہے، مگر ہم بڑے ہو کر اس کے چہرے کی تھکن پڑھنا بھول جاتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں ابھی وقت نہیں ہے بعد میں بات کریں گے۔اور پھر ایک دن وہ بعد میں کبھی نہیں آتا۔ ماں کو ہماری دولت نہیں چاہیے ہوتی اسے ہمارا وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اسے لمبی لمبی باتیں نہیں چاہئیں اسے بس یہ احساس چاہیے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی اب بھی اس کے قریب ہے۔ہم دنیا کو خوش رکھنے کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں مگر کبھی کبھی گھر میں بیٹھی اس عورت کو چند لمحے نہیں دے پاتے جس نے ہماری پوری زندگی ہمارے نام کر دی۔
اور پھر باپ۔باپ بھی روتا ہے۔ بس اس کے آنسو اکثر گھر والوں سے چھپے ہوتے ہیں۔وہ اپنی پریشانی کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتا ہے۔ اپنی خواہشیں بچوں کی ضروریات پر قربان کر دیتا ہے۔ خود پرانا لباس پہن لیتا ہے مگر بچوں کے لیے نئی چیز خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔باپ کی محبت اکثر الفاظ میں نہیں ہوتی ذمہ داریوں میں ہوتی ہے۔ہم اسے سخت مزاج سمجھتے ہیں اس کی ڈانٹ سے ناراض ہوتے ہیں اس کی خاموشی کو بے حسی سمجھ لیتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اس خاموشی کے پیچھے کتنی فکر کتنی قربانی اور کتنی تھکن چھپی ہوتی ہے۔
زندگی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ جو والدین آج ہمارے ساتھ ہیں ضروری نہیں کہ کل بھی ہمارے پاس ہوں۔ اس لیے ان کے ساتھ بیٹھنے ان کی بات سننے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
غربت بھی انسان کو صرف خالی جیب نہیں دیتی کبھی کبھی وہ اس سے سکون اعتماد اور امید بھی چھین لیتی ہے۔ایک نوجوان ڈگری لے کر گھر سے نکلتا ہے.آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں ہاتھ میں تعلیمی اسناد ہوتی ہیں دل میں کچھ بننے کی خواہش ہوتی ہے مگر دروازے پر سوال کھڑا ہوتا ہے نوکری کہاں ہے؟ وہ ایک دفتر سے دوسرے دفتر جاتا ہے۔ درخواستیں جمع کرواتا ہے، انٹرویو دیتا ہے انتظار کرتا ہے۔ ہر فون کال پر دل دھڑکتا ہے کہ شاید کہیں سے جواب آیا ہو۔ مگر جب جواب نہیں آتا تو وہ آہستہ آہستہ خود سے سوال کرنے لگتا ہے
کیا مجھ میں قابلیت نہیں؟
حالانکہ مسئلہ ہمیشہ قابلیت کا نہیں ہوتا۔ کبھی مواقع کم ہوتے ہیں کبھی راستے مشکل ہوتے ہیں اور کبھی انسان کو اپنی منزل تک پہنچنے میں دوسروں سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ہمیں ایسے نوجوانوں کو طعنہ دینے کے بجائے ان کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ بے روزگار نوجوان صرف اپنی جیب سے نہیں لڑ رہا ہوتا وہ اپنے خوابوں کے زندہ رہنے کی جنگ بھی لڑ رہا ہوتا ہے۔
ہماری موجودہ زندگی کا ایک اور المیہ سوشل میڈیا ہے۔ہم دوسروں کی زندگیوں کی خوبصورت تصویریں دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کو ان تصویروں سے موازنہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی کامیابی نظر آتی ہے ان کی خوشیاں نظر آتی ہیں ان کے سفر، لباس تقریبات اور مسکراہٹیں نظر آتی ہیں، مگر ان کے دکھ نظر نہیں آتے۔ہم بھول جاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر انسان اپنی پوری زندگی نہیں دکھاتا صرف وہ حصہ دکھاتا ہے جو وہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔اسی لیے کسی کی تصویر دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام نہ سمجھیں۔زندگی تصویر سے بڑی ہے۔ انسان پروفائل سے بڑا ہے۔ اور سکون لائکس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
آج ہمارے رشتے بھی ایک عجیب آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے پاس بات کرنے کے لیے موبائل ہیں مگر ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں۔ ہمارے پاس ہزاروں رابطے ہیں مگر دل کی بات سننے والا شاید ایک بھی نہیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ معمولی اختلاف انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ معافی مانگنا کمزوری سمجھا جاتا ہے اور پہل کرنا اپنی توہین۔ہم بھول گئے ہیں کہ ہر رشتہ جیتنے کے لیے نہیں ہوتا، کچھ رشتے بچانے کے لیے ہوتے ہیں۔کبھی کبھی ایک قدم پیچھے ہٹ جانا شکست نہیں بلکہ محبت ہوتی ہے۔کبھی ایک معاف کر دو پورا رشتہ بچا لیتا ہے۔
اور کبھی ایک میں تمہارے ساتھ ہوں کسی انسان کو دوبارہ جینے کی وجہ دے دیتا ہے۔ہمیں لوگوں کے بارے میں فیصلے بہت جلد کرنے کی عادت ہو گئی ہے۔کوئی خاموش ہے تو کہتے ہیں مغرور ہے۔کوئی غصے میں ہے تو کہتے ہیں بدتمیز ہے۔کوئی مل نہیں رہا تو کہتے ہیں بدل گیا ہے۔کوئی کمزور نظر آتا ہے تو کہتے ہیں ہمت نہیں۔مگر ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ شاید وہ کسی ایسی تکلیف سے گزر رہا ہو جس کا ہمیں علم نہیں؟ہر انسان کے اندر ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو دنیا نہیں جانتی۔کسی کے گھر میں بیماری ہو سکتی ہے، کسی کے دل میں جدائی کسی کے ذہن میں مستقبل کی فکر کسی کے کندھوں پر خاندان کی ذمہ داری اور کسی کے اندر ایسی جنگ جس کے بارے میں وہ کسی کو بتانا نہیں چاہتا۔
اس لیے لوگوں کے ساتھ نرم رہیں۔آپ نہیں جانتے کہ آپ کے ایک جملے نے کسی زخمی دل پر کیا اثر ڈالنا ہے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں دوسروں کو نصیحت دینے سے پہلے انہیں سننا سیکھنا چاہیے۔ہر شخص کو مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی۔کبھی کبھی انسان صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے پاس بیٹھ جائے اس کی بات مکمل ہونے دے اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔اگر کوئی آپ کے سامنے رو پڑے تو فوراً یہ نہ کہیں مضبوط بنو۔کبھی اسے رونے دیں۔اسے کہنے دیں کہ وہ تھک گیا ہے۔اسے یہ حق دیں کہ وہ کچھ دیر کے لیے مضبوط نہ رہے۔کیونکہ انسان مشین نہیں ہوتا۔اسے بھی تھکن ہوتی ہے اسے بھی خوف آتا ہے اسے بھی کبھی کبھی کسی کے کندھے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اکثر لوگوں سے پوچھتے ہیں کیسے ہو؟اور جواب سنتے ہی آگے بڑھ جاتے ہیں ٹھیک ہوں۔مگر شاید ہمیں کبھی کبھی دوبارہ پوچھنا چاہیے واقعی ٹھیک ہو؟ ممکن ہے دوسری بار پوچھنے پر آنکھیں نم ہو جائیں۔ممکن ہے کوئی دل کھول کر رو دے۔
ممکن ہے وہ پہلی بار اپنی بات کسی کے سامنے رکھ سکے۔اور شاید آپ کا چند منٹ کا وقت کسی انسان کو ایک بہت بڑی تنہائی سے بچا لے۔زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان کے پاس دولت کم ہو۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس سب کچھ ہو مگر اسے سمجھنے والا کوئی نہ ہو بہت سے لوگ بھیڑ میں رہتے ہوئے بھی تنہا ہوتے ہیں۔گھر بھرے ہوتے ہیں مگر دل خالی ہوتے ہیں۔فون میں سینکڑوں رابطے ہوتے ہیں مگر ضرورت کے وقت کوئی دستیاب نہیں ہوتا۔
اسی لیے اگر آپ کے پاس کوئی ایسا شخص ہے جو آپ سے دل کی بات کرتا ہے تو اس کی قدر کریں۔ اس کی بات کو معمولی نہ سمجھیں۔ اس کے دکھ کو مذاق نہ بنائیں۔ممکن ہے وہ آپ کو اپنی زندگی کا وہ حصہ بتا رہا ہو جو اس نے برسوں سے کسی سے نہیں کہا۔اور آخر میں ہمیں خود سے بھی ایک سوال کرنا چاہیے ہم اپنی زندگی میں آخر چھوڑ کر کیا جائیں گے؟ دولت؟ مکان؟ گاڑیاں؟ عہدے؟ یہ سب وقت کے ساتھ کسی اور کے ہو سکتے ہیں۔ جو چیز انسان کے ساتھ رہتی ہے وہ اس کا کردار ہے۔ اس نے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ اس نے کسی کا دل توڑا یا جوڑا؟
اس نے کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھاما یا نہیں؟ اس نے والدین کو وقت دیا یا نہیں؟ اس نے کسی اداس انسان کو امید دی یا نہیں؟ یہ سوال شاید کسی عدالت میں نہ پوچھے جائیں مگر زندگی کے آخری لمحوں میں انسان خود سے ضرور پوچھتا ہے۔اور اس وقت شاید سب سے زیادہ افسوس انہی چیزوں کا ہوتا ہے جنہیں ہم نے زندگی میں معمولی سمجھا تھا۔ماں کی وہ کال جس کا جواب نہیں دیا۔ باپ کے ساتھ بیٹھنے کا وہ موقع جو ضائع کر دیا۔ دوست کی وہ بات جسے مذاق سمجھ کر ٹال دیا۔. کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کا وہ موقع جسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ پھر کبھی۔ زندگی میں پھر کبھی بہت خطرناک لفظ ہے۔
کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ پھر کبھی آئے گا بھی یا نہیں۔اس لیے اگر کسی سے محبت ہے تو اظہار کریں۔اگر کسی سے ناراض ہیں تو بات کریں۔اگر کسی نے آپ کو دکھ دیا ہے تو ممکن ہو تو معاف کریں۔
اگر والدین زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھیں۔ اگر کوئی دوست خاموش ہے تو اس کا حال پوچھیں۔اور اگر کوئی کہتا ہے میں ٹھیک ہوں تو کبھی کبھی دوبارہ پوچھیں سچ بتاؤ تم واقعی ٹھیک ہو؟
شاید وہ یہی سوال سننے کا انتظار کر رہا ہو۔شاید اس کی آنکھوں میں برسوں سے رکے ہوئے آنسو ہوں۔شاید وہ صرف ایک ایسے انسان کی تلاش میں ہو جو اسے جج نہ کرے، اس کی بات کا مذاق نہ اڑائے اور اسے فوراً نصیحتیں نہ دے۔بس خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جائے اور کہے
رو لو میں یہیں ہوں۔کچھ لوگ واقعی شور نہیں کرتے۔وہ کسی سے لڑتے نہیں۔وہ اپنی تکلیف کا اعلان نہیں کرتے۔وہ مدد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔وہ بس مسکراتے ہیں، خاموش رہتے ہیں اور اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔
ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے مگر دل میں طوفان۔
ان کی زبان پر “میں ٹھیک ہوں” ہوتا ہے مگر آنکھیں کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہیں۔بس ہمیں ان آنکھوں کو پڑھنا سیکھنا ہے۔کیونکہ کبھی کبھی سب سے گہری چیخ وہ ہوتی ہے. جو آواز کے بغیر دل کے اندر اٹھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں