12

ریاست اور عوام کا تحفظ: حمید علی

دہشت گردی کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔ یہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا نام نہیں، بل کہ ریاستی نظام، قومی سلامتی، عوامی اعتماد اور معاشرتی امن کے خلاف ایک سنگین حملہ ہے۔ گزشتہ دن نمازِ جمعہ کے دوران پولیس لائن کوہاٹ میں ہونے والے خودکش حملے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر ہمارے شہری کب تک دہشت گردی کے خوف میں زندگی گزارتے رہیں گے؟ اس سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع محض ایک المناک واقعہ نہیں، بل کہ ریاستی دعووں، حفاظتی انتظامات اور قومی سلامتی کی پالیسیوں پر ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ جب عبادت گاہوں، پولیس مراکز اور عوامی مقامات تک دہشت گردوں کی رسائی ممکن ہو جائے تو ریاستی اداروں کی کارکردگی اور حفاظتی حکمتِ عملی پر سوال اٹھانا عوام کا حق بن جاتا ہے۔

ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ ایک شہری جب اپنے گھر سے نکلتا ہے، مسجد میں نماز ادا کرتا ہے یا کسی سرکاری ادارے میں اپنی ذمہ داری انجام دیتا ہے تو اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ ریاست اس کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔ اگر یہ اعتماد مسلسل سانحات، حملوں اور ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث کمزور ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہتے، بل کہ پورے معاشرے میں بے یقینی اور خوف کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ حکومتیں محض بیانات، مذمتی قراردادوں اور رسمی یقین دہانیوں سے عوام کا اعتماد بحال نہیں کر سکتیں۔ اعتماد کے لیے عملی اقدامات، شفاف تحقیقات اور واضح جواب دہی ضروری ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی چیلنج ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں بے شمار انسانی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جن میں فوجی جوان، پولیس اہل کار، دیگر سکیورٹی اہل کار اور عام شہری شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کی قربانیاں اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، لیکن قربانیوں کا اعتراف اس امر سے بے نیاز نہیں کرتا کہ حفاظتی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جائے۔ قومی سلامتی کے نام پر سوالات کو نظر انداز کرنا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے صحت مند رویہ نہیں۔ تنقید کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور کرنا نہیں، بل کہ ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد عموماً حکومتی سطح پر سخت اقدامات، مکمل تحقیقات اور مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے اعلانات سامنے آتے ہیں، مگر عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان اعلانات کا عملی نتیجہ کیا نکلا؟ کیا حملے سے قبل موجود خطرات کا درست اندازہ لگایا گیا تھا؟ کیا خفیہ معلومات متعلقہ اداروں تک بروقت پہنچیں؟ کیا حفاظتی انتظامات میں کوئی کوتاہی ہوئی؟ اگر کوئی غفلت یا انتظامی ناکامی سامنے آئے تو اس کے ذمہ داروں کا تعین کس طرح کیا جائے گا؟ یہ سوالات کسی فرد یا ادارے کو بلا ثبوت موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں، بل کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔

ریاستی نظام میں جواب دہی کا اصول جتنا مضبوط ہوگا، عوام کا اعتماد بھی اتنا ہی مستحکم ہوگا۔ اگر کسی سانحے کے بعد تحقیقات کا عمل محض رسمی کارروائی بن جائے اور کچھ عرصے بعد معاملہ عوامی حافظے سے محو ہو جائے تو اس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے زخم تازہ رہتے ہیں، بل کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے امکانات بھی کمزور پڑتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی صرف آپریشنز یا گرفتاریوں کی تعداد سے نہیں ناپی جا سکتی؛ اس کے لیے ایک ایسا مربوط نظام درکار ہے جس میں انٹیلی جنس، پولیس، عدالتی ادارے، مقامی انتظامیہ اور عوامی تعاون ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت کام کریں۔

اس مسئلے کا ایک اہم پہلو پولیس اور دیگر سکیورٹی اہل کاروں کی حفاظت بھی ہے۔ جو اہل کار عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں، ان کے لیے جدید تربیت، مناسب وسائل، حفاظتی آلات اور بروقت معلومات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پولیس لائنز اور دیگر حساس مقامات کی سکیورٹی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ داخلی و خارجی راستوں، نگرانی کے نظام، ہنگامی ردِعمل اور حفاظتی پروٹوکولز میں کسی بھی کمزوری کو معمولی سمجھنا مستقبل میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ حفاظتی انتظامات میں بہتری کسی ایک حکومت یا ادارے کا نہیں، بل کہ پورے ریاستی نظام کا مستقل فریضہ ہونا چاہیے۔

دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ان عوامل کو بھی سمجھنا ہوگا جو انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ کمزور حکمرانی، معاشی محرومی، نفرت انگیز بیانیے، غیر مؤثر قانون نافذ کرنے کا نظام اور بعض علاقوں میں ریاستی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل پر سنجیدہ توجہ ضروری ہے۔ تاہم کسی بھی محرومی یا سیاسی شکایت کو بے گناہ انسانوں کے قتل کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اختلافِ رائے کا راستہ آئینی، سیاسی اور پُرامن ہونا چاہیے، جب کہ دہشت گردی کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انسانی اقدار اور قانون دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اس سانحے کے بعد متاثرہ خاندانوں کی حالت پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ کسی گھر کا کفیل، کسی ماں کا بیٹا، کسی بچے کا باپ یا کسی خاندان کا سہارا جب دہشت گردی کی نذر ہوتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ ریاست کو چاہیے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری اور شفاف امداد فراہم کرے، زخمیوں کے علاج کو یقینی بنائے اور طویل مدتی بحالی کے لیے مؤثر نظام تشکیل دے۔ شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کے الفاظ اہم ہیں، لیکن ان کے ساتھ عملی تعاون اور مستقل سرپرستی اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد یہ دعوے سامنے آتے ہیں کہ دہشت گرد کا سراغ لگا لیا گیا، سہولت کار گرفتار کر لیے گئے اور حملہ آور کہاں سے آئے تھے، اس کا بھی پتا چل گیا ہے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ریاستی ادارے حملے کے بعد دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کے راستوں کا سراغ لگا سکتے ہیں تو یہی معلومات حملے سے پہلے کیوں حاصل نہیں کی جا سکتیں؟ کیا ہماری خفیہ معلومات کا نظام صرف سانحے کے بعد متحرک ہونے کے لیے ہے، یا اس کا بنیادی مقصد ایسے واقعات کی پیش بندی اور روک تھام بھی ہے؟ عوام کو ہر بار واقعے کے بعد وضاحتیں اور دعوے نہیں، بل کہ واقعے سے پہلے مؤثر حفاظتی اقدامات درکار ہیں۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف اس کی حکمتِ عملی محض ردِعمل تک محدود ہے یا واقعی پیشگی کارروائی اور مستقل روک تھام کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ ریاستی دعووں کی سچائی کا اندازہ الفاظ سے نہیں، بل کہ عملی نتائج سے ہوتا ہے۔ عوام کو تحفظ، اداروں کو وسائل، متاثرین کو انصاف اور قومی سلامتی کے نظام کو مسلسل اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے پاکستان کی تعمیر کرنا ہوگی جہاں دہشت گردی کے خلاف عزم صرف تقریروں میں نہیں، بل کہ پالیسی، انتظامی کارکردگی اور قانون کی بالادستی میں بھی نمایاں ہو۔ دہشت گردی کسی بھی صورت قبول نہیں، اور اس کے خلاف مؤثر جدوجہد کے ساتھ ریاستی جواب دہی، شفافیت اور عوامی تحفظ بھی ناگزیر ہیں۔ یہی ایک محفوظ، پُرامن اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں