11

یمن کا الاؤ، سعودی عرب اور حوثی :حمید علی

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور جنگوں کو سمجھنے کے لیے صرف کسی ایک حملے یا ایک واقعے کو دیکھنا کافی نہیں ہوتا، کیوں کہ اس خطے میں ہونے والی بیشتر جنگوں کے پیچھے تاریخ، مذہبی اختلافات، علاقائی سیاست، عالمی مفادات اور طاقت کی کشمکش ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع بھی ایسی ہی ایک پیچیدہ داستان ہے، جسے محض چند میزائلوں، ڈرون حملوں یا سرحدی جھڑپوں تک محدود کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔

حوثی تحریک، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، یمن کے شمالی علاقے سے ابھرنے والی ایک مذہبی اور سیاسی تحریک ہے۔ اس تحریک کا تعلق یمن کے زیدی شیعہ مکتبِ فکر سے ہے۔ ابتدا میں اس تحریک کا بنیادی مقصد اپنے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک منظم سیاسی اور عسکری قوت میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ حسین بدر الدین الحوثی کے نام سے منسوب اس تحریک نے یمن کی حکومت کے خلاف مزاحمت شروع کی اور پھر رفتہ رفتہ ملک کی سب سے طاقت ور عسکری قوتوں میں شمار ہونے لگی۔

یمن طویل عرصے سے غربت، سیاسی عدم استحکام، قبائلی تنازعات اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے۔ عرب دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے یمن میں حکومتیں مضبوط ادارے قائم کرنے میں ناکام رہیں۔ عوامی محرومیاں بڑھتی گئیں، مختلف قبائل اور گروہوں کے درمیان اختلافات موجود رہے اور سیاسی طاقت چند مخصوص حلقوں تک محدود رہی۔ یہی وہ حالات تھے جنہوں نے حوثیوں کو اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

سن 2011 کے بعد عرب دنیا میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں نے یمن کو بھی شدید متاثر کیا۔ حکومت کی کمزوری، سیاسی انتشار اور طاقت کے مراکز کے درمیان اختلافات نے ملک کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا۔ حوثیوں نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ بالآخر انہوں نے دارالحکومت صنعاء پر بھی اپنا کنٹرول قائم کر لیا، جس کے بعد یمن کی داخلی جنگ نے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہونا شروع کر دیا۔

یہی وہ مقام تھا جہاں سعودی عرب براہِ راست اس تنازع میں شامل ہوا۔ سعودی عرب کو یہ خدشہ تھا کہ اگر حوثی مکمل طور پر یمن پر قابض ہو گئے تو اس کی جنوبی سرحد پر ایک ایسی طاقت قائم ہو جائے گی جو ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اور علاقائی اثر و رسوخ کی کشمکش جاری تھی، اس لیے یمن کی جنگ کو رفتہ رفتہ ایک وسیع علاقائی تنازع کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا۔

سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے یمن میں کارروائیاں شروع کیں۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ یمن کی تسلیم شدہ حکومت کو بحال کیا جائے اور حوثیوں کی پیش قدمی روکی جائے۔ لیکن جنگ جتنی جلد ختم ہونے کی توقع کی جا رہی تھی، حقیقت اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئی۔ برسوں تک جاری رہنے والی لڑائی نے یمن کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، جبکہ حوثی بھی اپنی عسکری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرتے چلے گئے۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف شہروں، ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور اہم فوجی مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ریاض، جدہ، ابہا، جازان اور دیگر علاقوں پر حملوں یا حملوں کی کوششوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یمن کی جنگ اب صرف یمن کی سرزمین تک محدود نہیں رہی۔ سعودی عرب کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ تھی کہ اس کے اہم شہری اور معاشی مراکز بھی جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔

خصوصاً سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی، کیوں کہ سعودی عرب عالمی توانائی کی منڈی میں انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ تیل کی پیداوار یا تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا مطلب صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں، بل کہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کے حملوں کو صرف ایک مقامی باغی گروہ کی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بل کہ انہیں عالمی اور علاقائی سلامتی کے مسئلے سے جوڑا گیا۔

اس پوری جنگ میں ایران کے کردار پر بھی مسلسل بحث ہوتی رہی ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف رہا کہ حوثیوں کو ایران کی سیاسی، عسکری اور تکنیکی مدد حاصل ہے، جبکہ ایران نے مختلف مواقع پر ان الزامات کی نوعیت اور شدت سے اختلاف کیا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کی باہمی رقابت نے یمن کے تنازع کو مزید پیچیدہ ضرور بنایا۔ل

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ حوثیوں کو صرف ایران کے ہاتھ میں موجود ایک مہرہ قرار دینا مکمل حقیقت نہیں۔ حوثیوں کی اپنی مقامی سیاسی بنیاد، قبائلی تعلقات، مذہبی شناخت اور یمن کے اندر موجود محرومیوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اگر یمن کے اندر سیاسی ناانصافی، غربت اور حکومتی کمزوری موجود نہ ہوتی تو شاید کوئی بھی بیرونی طاقت اتنی آسانی سے اس تنازع میں اثر انداز نہ ہو سکتی۔

یمن کی جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام یمنی عوام نے اٹھایا۔ لاکھوں لوگ خوراک، علاج، تعلیم اور بنیادی ضروریات سے محروم ہوئے۔ بچے جنگ کے ماحول میں پروان چڑھے، خاندان بے گھر ہوئے اور ایک قدیم تہذیب رکھنے والا ملک انسانی المیے کی علامت بنتا چلا گیا۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ طاقت کی اس جنگ میں سب سے کمزور طبقہ ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جنگیں شروع کرنا شاید آسان ہوتا ہے، لیکن انہیں ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ میزائل کا جواب میزائل سے اور حملے کا جواب حملے سے دیا جا سکتا ہے، مگر مستقل امن صرف سیاسی مذاکرات، باہمی تحفظات کے حل اور علاقائی طاقتوں کے ذمہ دارانہ رویے سے ہی ممکن ہے۔

یمن کی اصل صورتحال یہی ہے کہ یہ صرف سعودی عرب اور حوثیوں کی جنگ نہیں، بل کہ ایک ایسے ملک کا المیہ ہے جو داخلی اختلافات، علاقائی رقابت اور عالمی مفادات کے درمیان برسوں سے پستا چلا آ رہا ہے۔ جب تک یمن کے عوام کو اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حقیقی حق، امن اور مضبوط ریاستی نظام نہیں ملتا، تب تک کسی ایک جنگ بندی یا وقتی سمجھوتے کو مکمل حل قرار دینا مشکل ہو گا۔ آخرکار جنگ میں فتح کا دعویٰ کرنے والے بہت ہو سکتے ہیں، مگر حقیقی فتح صرف اسی دن ہو گی جب یمن کے آسمان سے جنگی طیاروں اور میزائلوں کا سایہ ہٹے گا اور وہاں کے بچے خوف کے بجائے ایک پُرامن مستقبل کے خواب دیکھ سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں