گزشتہ ڈھائی برس سے قائم ہابرڈ نظام میں یہ بات تو سننے میں آتی رہی ہے لی اس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی ہے اور سول حکومت صرف ایک محدود طاقت رکھتی ہے جو اس نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے اور بیرونی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے میں صرف کرنے تک ہے اور اس بات کو محسوس کیا جاسکتا تھا کہ سول معاملات اور اداروں میں بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت بڑھتی رہی تھی لیکن اس کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا تھا کہ اس ہابرڈ نظام میں سول اداروں کی بحالی کی ذمہ داری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ لگائی گئی تھی کیونکہ 80 سالہ تاریخ میں اس نظام اور اداروں کی بدحالی کی زمہ دار یہ اسٹیبلشمنٹ تھی۔
مگر گزشتہ ماہ جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے سب سے منظور نظر کارندے کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ نظام ناکام ہو چکا ہے اور اس کا حل فیڈریشن کی تقسیم ہے تو اس بات کا اندازہ ہوا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی ذمہ داریاں بنانے میں ناکام ہو چکی ہے اور اندرون ملک دہشت گردی اور تخریب کاری کی بڑھتی ہوئی کاروائیاں اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و بے روزگاری اس کی ناکامی کو مکمل طور پر ظاہر کرتی ہیں اسلئے اپنی ان ناکامیوں کا بوجھ انتہائی عجلت اور حماقت میں موجودہ صوبائی نظام پر ڈال دیا۔ اور ایک نہایت نامعقول اور ناقابل عمل حل فیڈریشن کی تقسیم نو پر مبنی ایجنڈے کو دے دیا۔ جس کا واحد مقصد صرف عوام کو غیر ضروری معاملات میں الجھانے اور حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوششیں ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس ہابرڈ نظام کی اصل شکل موجودہ وفاقی حکومت ان تمام معاملات سے نہ صرف بے خبر ہے بلکہ لاتعلق ہے جس کی بناء پر ہر وفاقی عہدے دار نت نئے بیانات دے ریا ہے جو وفاقی حکومت میں تقسیم کی واضح نشاندہی کریں ہے۔
ان حالات میں گزشتہ ہفتے ہی وفاقی حکومت نے جو اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کو ایک عرصے دراز سے ملتوی کرتی چلی آ رہی تھی اس کے باوجود الیکشن کمیشن متعدد مرتبہ اس خو واضح ہدایات جاری کرتا رہا تھا اس موقع پر یہ خبر سامنے آتی ہے کہ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے لیے نئے بلدیاتی نظام کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت دارالحکومت کو تین حلقوں میں تقسیم کرکے ہر حلقے میں الگ کونسل اور میئر مقرر کیا جائے گا۔ ہر کونسل 21 ارکان پر مشتمل ہوگی، جبکہ بل کی پارلیمانی منظوری کے بعد نئی حلقہ بندیوں اور بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔ ابھی اس خبر کی سیاسی سفید بھی نہیں ہوی تھی کہ اچانک ایک اور خبر میڈیا پر چلنے لگتی ہے جس کے مطابق
“اسلام آباد کے لیے نظام مرتب کرنے کے لیے وزیراعظم کی کمیٹی نےایک جامع اصلاحاتی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد میں منتخب علاقائی حکومت کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے لیے 27 رکنی اسمبلی بنانے کی سفارش کی گئی ہے، جو اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی۔ اس عہدے کا نام وزیراعلیٰ یا میئر رکھا جا سکتا ہے۔
اصلاحاتی رپورٹ میں امن و امان اور ماسٹر پلاننگ کے علاوہ متعدد انتظامی اختیارات مقامی حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے اور دیگر وفاقی اداروں کے کئی اختیارات بھی مجوزہ آئی سی ٹی حکومت کے سپرد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق “اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری گورنمنٹ ایکٹ” متعارف کرانے اور بلدیاتی و ترقیاتی قوانین کو ایک مشترکہ فریم ورک میں ضم کرنے کی سفارش بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔
138 صفحات پر مشتمل اصلاحاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی گئی ہے، جس میں اسلام آباد کے لیے مالی اور انتظامی خودمختاری کا ماڈل تجویز کیا گیا ہے۔ مقامی ٹیکسوں اور وسائل کی تقسیم کے لیے الگ مالیاتی کمیٹی قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں اختیارات کی منتقلی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے خصوصی ٹرانزیشن کمیٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد کو جدید “اسمارٹ سٹی” میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق صحت، تعلیم، سیاحت اور ای گورننس سمیت مختلف شعبوں کے لیے 6 خصوصی ادارے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح زمین، ٹیکس، لائسنسنگ اور عوامی شکایات کے نظام کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں “ڈیسٹی نیشن اسلام آباد” حکمتِ عملی کے ذریعے سیاحت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اصلاحاتی ایجنڈے کو “اڑان پاکستان” اور ڈیجیٹل پاکستان پالیسی سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ نافذ ہو گیا تو اسلام آباد کے نظامِ حکمرانی میں تاریخی اور بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئے گی، اور وفاقی دارالحکومت کو جدید، مؤثر اور مکمل ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کا نمونہ بنایا جا سکے گا۔”
واضح رہے کہ جس کمیٹی کا ذکر کیا جس رہا ہے وہ آج تک نہ ہی بنی اور نہ ہی اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ تو اب اس خبر کی اشاعت کے بعد وفاقی وزرا اور عہدے دار پر بوکھلاہٹ طاری ہے ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کس تجویز کی حمایت یا مخالفت کریں اور کسی کے پاس اس کے لیے دلائل موجود نہیں ہیں۔
لگتا ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کی اس وفاقی نظام میں عدم دلچسپی نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ مسلم لیگ کی سیاسی طاقت کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے اور تمام جمہوریت پسند جماعتوں اور قوتوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت سب سے اہم کردار میاں محمد نواز شریف ادا کر سکتے ہیں ان کو اب آگے بڑھ کر وفاقی قیادت اپنے ہاتھ لینا ہو گئی کیونکہ میاں شہباز شریف میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ان قوتوں کا مقابلہ کر سکیں جو دوبارہ سے ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی اور اس کی آڑ میں استحصالی طبقات کو تحفظ دینے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔
آن والے دن پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور اس مرحلے پر جمہوری قوتوں کا مربوط لائحہ عمل ہی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے کو ناکام بنانے اور ملک میں وفاقی پارلیمانی نظام کی بالادستی کا واحد ذریعہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ ان قائدین کو ہدایت دیں تاکہ ملک کو کسی نئے بحران سے بچانے کا بندوبست کیا جا سکے۔عوام پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان حالات و واقعات کو سمجتے ہوے اپنے چھوٹے اختلافات کو بالا طاق رکھتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ اللہ پاکستان کو اس بحران سے نمٹنے میں کامیابی عطا فرمائے۔آمین ثم آمین











