ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی منایا جاتا ہے۔ اس سال 2026ء کا عالمی یومِ خواندگی اس اعتبار سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ یہ اس جدوجہد کی 60ویں سالگرہ ہے۔ یونیسکو (UNESCO) نے اس سال کا موضوع “انسان، کرۂ ارض اور خوشحالی کے لیے خواندگی” رکھا ہے۔ جہاں دنیا ساٹھ برس کی اس عالمی پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے، وہاں پاکستان میں آج بھی ہمیں یہ ہولناک اور بنیادی سوال درپیش ہے کہ ہمارے کتنے بچے اسکول جا رہے ہیں اور جو جا رہے ہیں، وہ وہاں سے کیا پڑھ کر نکل رہے ہیں؟
تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کی وہ مضبوط بنیاد ہوتی ہے جس پر ترقی، خوشحالی، معاشی استحکام اور ایک مہذب معاشرے کی عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک نے فدرتی وسائل پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی اور ترقی کی اوجِ ثریا کو چھو لیا۔ ہمارے ہاں بھی ہر نئی آنے والی حکومت اقتدار سنبھالتے ہی تعلیم کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہے، تعلیمی ایمرجنسی کے بلند بانگ نعرے لگائے جاتے ہیں، جدید پالیسیوں کی نمائش ہوتی ہے اور تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان تمام تر زبانی جمع خرچ کے نتیجے میں ہماری نئی نسل کو معیاری تعلیم کتنی میسّر آئی؟
اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو صورت حال انتہائی دل دہلا دینے والی ہے۔ اگرچہ 2024-25ء کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں شرحِ خواندگی 63 فیصد تک پہنچی ہے اور 5 سے 16 سال کی عمر کے اسکول سے باہر بچوں کا تناسب کچھ کم ہو کر 28 فیصد ہوا ہے، لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ شدید تشویش ناک ہے۔ پاکستان میں اب بھی ڈھائی کروڑ سے زائد (25.1 ملین) بچے اسکولوں سے باہر گلی محلوں میں رُل رہے ہیں یا محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ دنیا بھر میں اسکول سے باہر بچوں کی یہ دوسری بڑی تعداد ہے جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں رسائی کے ساتھ ساتھ تعلیم کا معیار بھی تباہی کے دہانے پر ہے۔ ہم اکثر امتحانات میں کامیابی کے فیصد اور اسکولوں کے داخلوں کا ڈیٹا پیش کر کے بغلیں بجاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانچ یا اٹھ سال اسکول میں گزارنے کے بعد بھی بچہ روانی سے ایک جملہ پڑھنے یا بنیادی حساب کتاب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ہم نے تعلیم کو سمجھنے کے بجائے محض “رٹا لگانے” اور “نمبر حاصل کرنے” کی دوڑ بنا دیا ہے۔ 21ویں صدی کے اس ڈیجیٹل دور میں جہاں دنیا مصنوعی ذہانت (AI)، تنقیدی سوچ اور تحقیقی میدانوں میں اگے نکل چکی ہے، وہاں ہمارے بچے موبائل فونز کے استعمال میں غلط اور صحیح معلومات کا فرق بھی محسوس نہیں کر پاتے اور میڈیا کی ناخواندگی کا شکار ہو رہے ہیں۔
پنجاب کی بات کی جائے تو صورت حال مزید سنگین اور نوحہ کناں ہے۔ پنجاب میں تعلیم کو تجربات کی نذر کر کے پورے نظامِ تعلیم کا بھٹّا بٹھا دیا گیا ہے۔ بچت کا بہانہ بنا کر عارضی اساتذہ کی محض 9 ماہ کے لیے تقرری جیسے سنگین مذاق نے تعلیمی زوال کی بنیاد رکھی۔ حال ہی میں پنجاب بھر میں نہم جماعت کا رزلٹ تقریباً 45 فیصد ایا ہے، جو اس تباہ حال نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اس ناکامی کے ذمہ دار وہ اشرافیہ اور نااہل انتظامیہ ہے جنہوں نے کبھی سرکاری اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا مگر وہ پالیسیاں بنانے کے کرتا دھرتا بنے ہوئے ہیں۔
سرکاری اسکولوں میں نرسری سے آٹھویں جماعت تک داخلے کے لیے نہ کوئی ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور نہ ہی امتحان کا کوئی تصور باقی بچا ہے۔ اگر اسکول انتظامیہ سالانہ امتحان لے بھی لے، تو کسی بچے کو ناکام کر کے اسی کلاس میں روکنے کی اجازت نہیں۔ چاہے بچہ تمام مضامین میں فیل ہو جائے اسے اگلی جماعت میں ترقی دینا اسکول اور اساتذہ کی مجبوری ہے۔ بچہ سارا سال اسکول نہ آئے مگر اساتذہ کو غیرحاضری کی وجہ سے اس کا نام خارج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب بچے کو بغیر امتحان اور بغیر پڑھائی کے اگلی کلاس میں دھکیل دیا جائے گا تو نہم کے بورڈ امتحانات میں 45فیصد کے علاوہ اور کیا نتیجہ متوقع ہو سکتا ہے؟ دوسری طرف ضلعی تعلیمی افسران (CEOs) کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کسی نااہل یا غیر حاضر ٹیچر سے جواب طلبی کر لیں اور وہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہو، تو الٹا افسر کو اپنی نوکری بچانی مشکل ہو جاتی ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پورے پنجاب کے 43,000 سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے۔ صوبے میں 1 لاکھ سے زائد اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، 70 فیصد مستقل پوسٹیں خالی ہیں اور پروموشنز روک کر عارضی بھرتیوں کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ حالات کی ہولناکی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور 5,800 اسکولوں کی نام نہاد نجکاری (NGOs اور ٹھیکیداروں کے سپرد کرنے) کی وجہ سے صرف ایک سال کے اندر مبینہ طور پر 7 لاکھ بچے سرکاری اسکولوں کو خیرباد کہہ گئے۔ جن ٹھیکیداروں کو اسکول دیے گئے، ان میں سے بعض عمارتوں کی املاک اور اینٹیں تک بیچ کر فرار ہو چکے ہیں۔ پنجاب کے 6,244 اسکولز بغیر ہیڈ ماسٹرز کے چل رہے ہیں۔
سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ اسکولوں میں سائنس اساتذہ کی شدید قلت ہے اور لیبارٹریاں بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں بھی اسکولوں میں پڑھائے جانے والے سائنس مضامین (فزکس، کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی) میں داخلوں کا رجحان ختم ہو رہا ہے۔ اندیشہ ہے کہ انے والے چند سالوں میں اسکولوں اور کالجوں میں سائنس پڑھانے کے لیے کوئی نیا استاد میسر ہی نہیں ہوگا۔
پنجاب کے 5335 ارب روپے کے کل بجٹ میں سے تعلیم کے لیے صرف 1.5 فیصد (تقریباً 750 ارب) مختص کیا گیا ہے، جس کا نصف سے زائد حصہ نام نہاد پی ای سی اے (PECA) جیسے اداروں کی شاہ خرچیوں، بیوروکریسی کی لوٹ کھسوٹ، گاڑیوں، پینشن اور کمیشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ اگر اس تباہی کا ازالہ کرنا ہے تو حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب کو زبانی دعوؤں کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ تعلیمی بجٹ کو کم از کم دوگنا کر کے 1 لاکھ خالی اسامیوں اور 6,244 ہیڈ ماسٹرز کے عہدوں پر فوری ریگولر اور باصلاحیت افراد بھرتی کیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ پیکٹا جیسے فضول اور سرمائے کے ضیاع کا باعث بننے والے ادارے کو فی الفور ختم کر کے اسکول کے تحت امتحانی نظام کی بحالی بھی ضروری ہے۔ نرسری سے آٹھویں جماعت تک پاس یا فیل کا سابقہ روایتی اور سنجیدہ امتحانی نظام فوری بحال کیا جائے۔ غیر تدریسی ڈیوٹیوں سے اساتذہ کی جان چھڑائی جائے۔ اساتذہ سے پولیو، مردم شماری، الیکشن اور دیگر انتظامی ڈیوٹیاں لینے پر قانونی طور پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ نصاب و تدریس میں اصلاحات کی جائیں۔ رٹا سسٹم کو ختم کر کے انکوائری بیسڈ (Inquiry-Based) اور پروجیکٹ بیسڈ لرننگ کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ بچوں میں تنقیدی سوچ پیدا ہو۔
جواب دہی اور ذمہ داروں کا تعین کر کے نہم کے 50 فیصد ہولناک رزلٹ پر محض نیچے کے ملازمین کو ڈسپوزل پر بھیجنے کے بجائے سیکرٹری ایجوکیشن، وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات اور وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
اب ذرا سندھ کی ہولناک اور تباہ کن صورتِ حال کو بھی دیکھتے جائیں۔ معروف صحافی حامد میر کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 میں صوبہ سندھ میں بھرتی کیے گئے اساتذہ میں سے 1561 ایسے ہیں جو انڈر میٹرک ہیں اور مبینہ طور پر رشوت لے کر یا تگڑی سفارش سے انہیں بھرتی کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے اس خبر کی تردید نہ ہونا اعترافِ جرم کے مترادف ہے۔ سندھ کے امتحانی سسٹم کی تباہی کی خبریں بھی زبان زدِعام ہیں۔ اندرونِ سندھ سے یہ خبریں بھی گردش کرتی ہیں کہ اساتذہ اسکولز جانے کی بجائے وڈیروں کے ڈیروں پر پائے جاتے ہیں۔
اگر خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو وہاں کا انفراسٹرکچر قابلِ رحم ہو چکا ہے۔ دور دراز اور قبائلی علاقوں میں حالت بڑی پست ہے۔خاص طور پر دیہی علاقوں میں ریاضی، سائنس اور انگریزی کے تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ وہاں گھوسٹ اسکولز اور گھوسٹ اساتذہ کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ اساتذہ کی کمی اور رٹا سسٹم کا نظام رائج ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صوبے کے 18 ہزار 426 سرکاری اسکولز طلبہ کے لیے فرنیچر سے محروم ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے راستے میں بھی بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں
صوبہ بلوچستان سب سے زیادہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ مسلسل بدامنی کی وجہ سے وہاں مسائل ہی مسائل ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اے آئی کے انتہائی ترقی یافتہ دور میں تعلیمی نظام کو ازسرِنو ترتیب دیا جائے۔ عالمی یومِ خواندگی پر اگر ہم نے محض سیمینارز اور تصویریں بنوانے تک خود کو محدود رکھا تو یاد رکھیے، قومیں سڑکوں، پلوں اور بلند و بالا عمارتوں سے نہیں، بلکہ تعلیم یافتہ انسانوں سے بنتی ہیں۔ پاکستان کا مستقبل کسی سیاسی تقریر میں نہیں، بلکہ اس غریب بچے کے ہاتھ میں موجود کتاب میں چھپا ہے جو اسکول کے دروازے پر کھڑا اپنے روشن مستقبل کا منتظر ہے۔
5











