5

ایمانداری کامیابی کی سیڑھی ہے:شمع صدیقی

جی قارئین اللہ کریم نے زندگی عطا کی اور اسکے ساتھ ہی انسان پر بہت سی ذمداریاں بھی ڈال دیں کہ وہ ان پر عمل کر کے اپنے لیے اور عوام الناس کے آسانیاں پیدا کرے کیونکہ بعد مرنے کہ ہر انسان سے یہ سوال کیا جاے گا کہ وہ اپنے زندگی میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہا نہی اور اس نے ایمانداری سے اپنے فرائض منصبی ادا کیے یا نہی یااس نے ان احکامات کو بالائے طاق رکھ کر زندگی کا سفر تہہ کیا یا نہی ۔مگر ایسا ہی ہوا کہ جب بے شمار لوگ عمر کے اس حصے میں پہنچے جب انکو اپنا سفر تمام ہوتا ہوا نظر آ یا تو انہوں نے رب کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگنی شروع کر دی اور اپنے مالک کو راضی کرنے کے لیے کوششیں شروع کیں حالانکہ اسکو بھرپور موقع دیا گیا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے سفر میں اولین ترجیح اپنے کاموں اور ذمداریوں کو دیں ،مگر جب یہ نہ کرسکے تو اب آ خیر میں آ کر اب اپنے ان گناہوں کی معافی مانگتے ہیں جو وہ اپنی جوانی کے زوم میں نہی کر سکے ،مگر اب اس معافی کا کیا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔ وقت اب ہاتھوں سے نکل گیا جوانی بھی دامن چرانے لگی ۔
قارئین اب بات کرتی ہوں سب ہی ایک جیسے نہی ہوتے بلکہ کچھ لوگ اپنے کاموں کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں اور صیح معنی میں اپنے حقوق ایمانداری کے ساتھ ادا کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دن اپنے رب کی بارگاہ میں جواب دہ بھی ہونا ہے ،،،جی ہاں میں بات کر رہی ہوں اس فرض شناس افسر ،،ڈی ایس پی خان محمد بلوچ ،،،کی جنہوں نے کامیابی کی سیڑھی کو ایمانداری سے سر کیا ،اس سے پہلے ڈی ایس پی او کہسار تھے،پھر ایس ڈی پی او مارگلہ،اور ایس ڈی پی او صدر کےاہم عہدوں پر اپنے فرائض ایمانداری کے ساتھ انجام دیتے دیتے اپنی کامیابی،اور ترقی کے مراحل طے کر کے،،ایس پی ٹریفک ،،مقرر ہو چکے ہیں ماشاءاللہ۔اور قارئین یہاں یہ بات ضرور لکھوں گی ایمانداری ہمیشہ کامیابی کا زینہ ہوا کرتی ہے اور یہاں یہ بات بھی بہت اھمیت کی حامل ہے کہ،، ایس پی خان محمد بلوچ ،،نے صرف فرائض ہی نہی نبھانے بلکہ انہوں ےعوام الناس میں ہر اس بات کا شعور بھی اجاگر کیا کہ کسطرح آپ ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہوے اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ قوانینِ پر عمل کرنا ضروری ہے ۔کہ وہ بھی کسی بھی حادثے سے خود کو اور دوسروں کہ محفوظ رکھ سکیں اور خیریت کے ساتھ واپس اپنے گھر پہنچ سکیں کیونکہ جنکے لیے ہم گھر سے باھر نکلے ہیں وہاں خیریت کے ساتھ دوبارہ پہنچنا بہت ضروری ہے ۔
کیونکہ ہمارے وہ عزیز رشتے دار انکا بے چینی سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں ۔
اور ہم وطن عزیز کے اس ذمدار ،ایماندار اور فرض شناس افسر کو دل کی گہرائیوں مبارکباد دیتے ہیں انکی کامیابی پر اور دل سے دعا گو ہیں کہ اللہ کریم ہمارے وطن کا ہر شخص ایمانداری اور کامیابی کو اسی طرح اپناے اور ایسی ہی ایک روشن اور زندگی کی مثال بنے تاکہ ہمارا ملک کامیابی اور ترقی کی منازل طے کرتا رہے آمین ثمہ آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں