21

سبق اور عمل:جاوید اللہ راجہ

ایک طویل عرصے سے ہم اپنے بہت سے قومی مسائل کا سامنا ایسے انداز میں کر رہے ہیں جو پیشگی تیاری کے بجائے فوری ردِعمل پر زیادہ مبنی ہے۔ کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے، اس پر توجہ دی جاتی ہے، وقتی اقدامات کیے جاتے ہیں اور جیسے ہی صورتحال معمول پر آتی ہے، مسئلے کی شدت اور اہمیت بھی رفتہ رفتہ پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ پھر جب ویسی ہی صورتحال دوبارہ پیدا ہوتی ہے تو وہی سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو جاتا ہے۔ شاید بحیثیت قوم ہمارے لیے سب سے اہم سبق یہی ہونا چاہیےکہ ہر بار آنے والا بحران ہمیں کچھ سیکھنے، اپنی کمزوریوں کو دور کرنے اور مستقبل کے لیے بہتر تیاری کا موقع فراہم کرے۔ یہ کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بات نہیں، بلکہ اپنے آپ سے ایک سادہ اور تعمیری سوال کرنے کی ضرورت ہےکہہم کیا کچھ کر سکتے ہیں تاکہ آنے والے کل کے مسائل آج کے مقابلے میں کم نقصان اور کم تکلیف کا باعث بنیں۔
سیلاب اس کی ایک واضح مثال ہے۔ ہر سال شدید بارشوں کا موسم ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب کے امکانات لے کر آتا ہے۔ گھروں کو نقصان پہنچتا ہے، فصلیں متاثر ہوتی ہیں، سڑکیں ناقابلِ آمدورفت ہو جاتی ہیں اور خاندانوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑتی ہے۔ یہ واقعات ہمیں قدرت کی طاقت کا احساس دلاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ بہتر تیاری کتنی ضروری ہے۔ دوسری طرف ملک کو پانی کی دستیابی کے ایک سنگین اور بڑھتے ہوئے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ یوں ایک عجیب سا تضاد سامنے آتا ہے کہ سال کے ایک حصے میں پانی کی کمی محسوس ہوتی ہے، جبکہ دوسرے حصے میں بارش کا بے پناہ پانی مناسب طور پر محفوظ کیے بغیر بہہ جاتا ہے۔ یہ صورتحال ہمیں اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ بارش کے پانی کو صرف بہہ جانے والا پانی نہیں بلکہ ایک قیمتی قومی وسیلہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہر شہر، ضلع اور نئی آبادی میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے مناسب تالاب، ذخائر، ریچارج سسٹم اور دیگر سائنسی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس پانی کو محفوظ کر کے زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر بنانے، زراعت اور دیگر مناسب ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر کیے جانے والے یہ اقدامات اگر ہزاروں آبادیوں اور علاقوں میں مستقل بنیادوں پر اپنائے جائیں تو مجموعی طور پر ایک بڑا قومی اثر پیدا کر سکتے ہیں۔ پانی کا انتظام صرف بارش یا خشک سالی کے موسم کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ سمجھنا ضروری ہے۔
یہی اصول ہمارے دریاؤں، جنگلات اور قدرتی نکاسی کے راستوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ آبی گزرگاہوں کو رکاوٹوں سے محفوظ رکھنا، جنگلات کا تحفظ کرنا، قدرتی پانی کے راستوں کو برقرار رکھنا اور کمزور علاقوں کو مضبوط بنانا شدید بارشوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ صرف ماحولیاتی معاملات نہیں بلکہ انسانی تحفظ، معاشی استحکام اور معاشرتی مضبوطی سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس ضرورت کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ پوری دنیا میں موسم کے انداز تبدیل ہو رہے ہیں اور شدید موسمی واقعات زیادہ غیر متوقع صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں قبل از وقت وارننگ، بروقت معلومات، محفوظ انخلا کے منصوبے اور مقامی سطح پر ہنگامی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے۔ لوگوں کو خطرہ آنے سے پہلے اطلاع ملنی چاہیے، آبادیوں کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا عملی منصوبہ موجود ہونا چاہیے اور امدادی و ہنگامی نظام کو اس وقت نہیں بلکہ بہت پہلے سے تیار ہونا چاہیے جب بحران ابھی صرف ایک امکان ہو۔
عوامی تحفظ بھی اسی پیشگی سوچ کا اہم حصہ ہے۔ جب کسی آتش زدگی یا دوسرے حادثے میں معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں تو اس سانحے کو صرف ایک افسوسناک واقعہ سمجھ کر آگے بڑھنے کے بجائے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے خطرات کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔ ہسپتال، اسکول، بازار، دفاتر، فیکٹریاں اور دیگر عوامی مقامات ایسے ہونے چاہئیں جہاں حفاظت روزمرہ کے نظام کا بنیادی حصہ ہو۔ ہمیں مسلسل یہ دیکھتے رہنا چاہیے کہ ہنگامی راستے قابلِ استعمال ہیں یا نہیں، بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ ہوتی ہے یا نہیں، آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات موجود ہیں یا نہیں، خطرناک اشیاء محفوظ طریقے سے رکھی گئی ہیں یا نہیں، اور کیا عملے کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی عملی تربیت حاصل ہے۔ یہ سوالات کسی پر الزام لگانے کے لیے نہیں بلکہ انسانی زندگی کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے ہیں۔
حفاظتی اصول اس وقت سب سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں جب انہیں حادثے کے بعد یاد کرنے کے بجائے روزمرہ کی مستقل ذمہ داری سمجھا جائے۔ اگر کسی عمارت میں آگ لگنے کے بعد ہی فائر سیفٹی کے بارے میں سوچا جائے تو ہم پہلے ہی بہت دیر کر چکے ہوتے ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ حادثہ پیش آنے سے پہلے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کر لی جائے اور انہیں دور کر دیا جائے۔ یہی سوچ اسکولوں، ہسپتالوں، رہائشی عمارتوں، بازاروں اور تمام عوامی مقامات پر اپنانے کی ضرورت ہے۔
یہی پیشگی سوچ ہماری روزمرہ زندگی کے بہت سے دوسرے مسائل کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔ معیاری صحت کی سہولیات، قابلِ اعتماد تعلیم، صاف پینے کا پانی، بجلی کی مناسب فراہمی، محفوظ سڑکیں، مؤثر نکاسیٔ آب اور روزگار کے مواقع الگ الگ مسائل نہیں بلکہ قومی فلاح و بہبود کے باہم جڑے ہوئے عناصر ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف امتحانات پاس کروانا نہیں ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو عملی زندگی، ٹیکنالوجی، کاروبار، فنی مہارت اور بدلتی ہوئی معیشت کے تقاضوں کے لیے بھی تیار کرنا ضروری ہے۔ ہنر مند نوجوان نہ صرف اپنے لیے بہتر مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔
اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا بھی قومی ترقی کا اہم حصہ ہے۔ ایسے کاروبار روزگار پیدا کرتے ہیں، مقامی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں اور نئی سوچ و جدت کو فروغ دیتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب مالی سہولیات، بنیادی ڈھانچے، تربیت اور ایک قابلِ اعتماد کاروباری ماحول میسر ہو تو وہ معاشی سرگرمی کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔ شہری ترقی بھی مستقبل کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔ ہمارے شہر تیزی سے پھیل رہے ہیں، اس لیے نئی آبادیوں اور شہری علاقوں کی منصوبہ بندی میں آبادی میں اضافے، پانی کی ضروریات، ٹرانسپورٹ، صفائی، سبز مقامات، نکاسیٔ آب اور ہنگامی رسائی جیسے عوامل کو ابتدا ہی سے شامل کرنا ضروری ہے۔ کسی شہر میں مضبوط، محفوظ اور پائیدار نظام پہلے سے تعمیر کرنا ہر بحران کے بعد اسے بار بار مرمت کرنے سے کہیں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہوتا ہے۔
ہمیں بہتر رابطے اور طویل المدتی سوچ کی بھی ضرورت ہے، کیونکہ بہت سے قومی مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پانی زراعت کو متاثر کرتا ہے، زراعت معیشت کو، موسمیاتی تبدیلی بنیادی ڈھانچے کو، بنیادی ڈھانچہ عوامی تحفظ کو، تعلیم روزگار کو اور روزگار معاشرتی استحکام کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے حل بھی ایک دوسرے سے مربوط ہونے چاہئیں۔ ہمیں ہر مسئلے کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے قومی مضبوطی اور استقامت کے وسیع تصور کے تحت سوچنا ہوگا، تاکہ ملک سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت، معاشی دباؤ، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور دیگر چیلنجز کا زیادہ بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔
اس کے لیے واضح ترجیحات، قابلِ اعتماد معلومات، قابلِ پیمائش اہداف اور طویل المدتی تسلسل ضروری ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمیں ایسا قومی مزاج پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں اپنے تجربات سے سیکھنا معمول بن جائے۔ ہر سیلاب ہمیں بہتر سیلابی انتظام کی طرف لے جائے، ہر آتش زدگی ہمیں مضبوط حفاظتی نظام کی اہمیت یاد دلائے، ہر بنیادی ڈھانچے کی خرابی بہتر تعمیر اور دیکھ بھال کے لیے سبق بنے، ہر پانی کی قلت ہمیں زیادہ بہتر ذخیرہ اور زیادہ ذمہ دارانہ استعمال کی طرف لے جائے اور تعلیم کا ہر چیلنج بہتر ہنر اور عملی تربیت کی ضرورت کو اجاگر کرے۔ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قومی ترقی کسی ایک ادارے، طبقے یا گروہ کی ذمہ داری نہیں۔ معاشرہ، ماہرین، کاروباری حلقے، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور عام شہری سب کا اپنا کردار ہے۔ پانی کا محتاط استعمال، حفاظتی اصولوں کی پابندی، سبز مقامات کا تحفظ، قدرتی راستوں کا احترام اور خطرناک صورتحال کی بروقت نشاندہی جیسے انفرادی اقدامات بھی مجموعی طور پر ایک ذمہ دار قومی ثقافت تشکیل دے سکتے ہیں۔
ہم ہر قدرتی آفت کو روک نہیں سکتے اور نہ ہی ہر مشکل کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن ہم غیر ضروری نقصانات کو ضرور کم کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا سکتے ہیں، پانی کو زیادہ دانش مندی سے محفوظ اور استعمال کر سکتے ہیں، حفاظتی معیار بہتر بنا سکتے ہیں، آبادیوں کو ہنگامی حالات کے لیے تیار کر سکتے ہیں، تعلیم اور ہنر میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور اپنے شہروں کو مستقبل کے چیلنجز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی بحران سامنے آئے تو ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اس وقت کیا کیا جائے، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم آج کیا سیکھ سکتے ہیں جو کل کی بڑی تکلیف کو کم کر دے؟ یہی سوال ہماری سوچ کا رخ بدل سکتا ہے۔ یہ سانحے کو سبق میں، مشکل کو موقع میں اور بحران کو بہتر تیاری میں تبدیل کر سکتا ہے۔
ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ کسی حادثے کے بعد ہم کتنی تیزی سے ردِعمل دیتے ہیں۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ حادثہ پیش آنے سے پہلے ہم نے کتنی مؤثر تیاری کی تھی۔ ایک مضبوط قوم وہ نہیں جو ہر بار بحران کے بعد خود کو سنبھال لے, مضبوط قوم وہ ہے جو اپنے تجربات سے سیکھ کر اگلے بحران کے اثرات کو پہلے ہی کم کر دے۔
قارئین کرام! ملک عزیز کے مستقبل کو اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ ہمیں الزام سے زیادہ حل، وقتی ردِعمل سے زیادہ مستقل منصوبہ بندی، اور بحران کے بعد کی ہڑبڑی سے زیادہ بحران سے پہلے کی تیاری کو اہمیت دینا ہوگی۔ ہمیں اپنی مشکلات کو مایوسی کی وجہ نہیں بلکہ بہتری کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
مستقبل ایسی چیز نہیں جو صرف ہمارے ساتھ پیش آئے، مستقبل کی تعمیر کی جاتی ہے۔ اور اگر ہم آج بہتر منصوبہ بندی، بہتر تیاری، بہتر نظم و ضبط اور بہتر اجتماعی ذمہ داری کا راستہ اختیار کریں تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف ان مسائل کے حوالے سے یاد نہیں کریں گی جو ہم نے ورثے میں پائے تھے، بلکہ ان حلوں کے حوالے سے بھی یاد کریں گی جو ہم نے ان کے لیے چھوڑے۔
اب وقت ہے کہ ہم بحران کا انتظار کرنے کے بجائے مستقبل کی تیاری شروع کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں