ستمبر کا مہینہ پاکستان کی قومی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 6 ستمبر ہمیں اپنے ان بہادر سپوتوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کے دفاع کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے، جبکہ 7 ستمبر یومِ فضائیہ کے طور پر ان شاہینوں کی داستانِ شجاعت سناتا ہے جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں اپنی غیر معمولی جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت سے دشمن کو حیران کر دیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کی فضاؤں میں ہمارے شاہینوں کی گھن گرج دشمن کے لیے خوف کی علامت اور پاکستانی قوم کے لیے حوصلے کا استعارہ بن گئی تھی۔
پاک فضائیہ کے جانبازوں نے ثابت کیا کہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ عزم، تربیت، نظم و ضبط اور جذبۂ حب الوطنی کی بھی ہوتی ہے۔ ایم ایم عالم جیسے شاہین آج بھی ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ان کی بہادری محض ایک جنگی کارنامہ نہیں بلکہ اس یقین کی علامت ہے کہ محدود وسائل رکھنے والی قوم بھی غیر معمولی عزم کے ساتھ بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
لیکن آج جب ہم یومِ فضائیہ مناتے ہیں تو ایک سوال ذہن میں ضرور آتا ہے: ہمارے شاہینوں نے جن فضاؤں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگائیں، وہ فضائیں آج کس حال میں ہیں؟
یہ سوال ہمیں جنگی طیاروں سے اٹھا کر اسموگ کے بادلوں تک لے آتا ہے۔
آج لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور ملک کے دوسرے بڑے شہروں کی فضا میں ایک مختلف قسم کا خطرہ منڈلاتا ہے۔ یہ خطرہ کسی دشمن ملک کے طیاروں سے نہیں بلکہ ہماری اپنی بے احتیاطیوں، ناقص منصوبہ بندی، دھوئیں، آلودگی، غیر معیاری ایندھن، صنعتی اخراج، فصلوں کی باقیات جلانے اور ٹریفک کے بے تحاشا دباؤ سے پیدا ہوتا ہے۔
1965ء میں دشمن ہماری فضاؤں پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، آج ہم خود اپنی فضاؤں کو آلودہ کر رہے ہیں۔ یہ تضاد بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
ہم ہر سال یومِ فضائیہ پر اپنے شاہینوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، ان کے کارنامے بیان کرتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں اور قومی جذبے کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے، مگر شاید اس دن ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے صاف اور محفوظ فضا چھوڑ کر جائیں گے۔
فضائی آلودگی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں، یہ صحت، معیشت، تعلیم اور انسانی زندگی کا مسئلہ ہے۔ جب ہوا آلودہ ہوتی ہے تو سب سے زیادہ متاثر بچے، بزرگ اور کمزور طبقات ہوتے ہیں۔ اسکول جانے والے بچے کھانسی، سانس کی دشواری اور آنکھوں میں جلن کا سامنا کرتے ہیں۔ شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے اور صحت کے نظام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اسموگ ہر سال آتی ہے تو ہم ہر سال حیران کیوں ہوتے ہیں؟
ہمیں معلوم ہے کہ سردیوں میں درجہ حرارت، ہوا کی رفتار اور مختلف آلودگیوں کے امتزاج سے صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی آلودگی، تعمیراتی سرگرمیاں، کوڑا جلانا اور فصلوں کی باقیات کا دھواں مسئلے کو سنگین بناتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری حکمتِ عملی اکثر اس وقت حرکت میں آتی ہے جب آسمان پر دھند اور آلودگی کی دبیز تہہ چھا چکی ہوتی ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی نہیں، بحران کے پیچھے بھاگنے کی عادت ہے۔
ہمیں اسموگ کے موسم میں صرف اسکول بند کرنے، ماسک پہننے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دینے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اصل ضرورت اسباب کا علاج کرنے کی ہے۔ گاڑیوں کی فٹنس کا نظام مؤثر بنانا ہوگا، پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر اور قابلِ اعتماد بنانا ہوگا، صنعتوں کے اخراج کی نگرانی کرنا ہوگی، اینٹوں کے بھٹوں اور دیگر آلودگی پھیلانے والے ذرائع کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی اور کسانوں کو فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے ان کے متبادل فراہم کرنا ہوں گے۔ صرف جرمانے مسئلے کا مستقل حل نہیں۔
اگر ایک غریب کسان کے پاس فصلوں کی باقیات ٹھکانے لگانے کا آسان اور سستا متبادل موجود نہیں تو محض جرمانہ مسئلہ حل نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر شہری کے پاس معیاری، سستی اور باعزت پبلک ٹرانسپورٹ نہیں تو اسے ہر حال میں ذاتی گاڑی چھوڑنے کا کہنا بھی عملی حکمتِ عملی نہیں۔
ماحولیاتی بحران کا مقابلہ انتظامی حکم سے نہیں بلکہ جامع منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے۔
یہاں ہماری اپنی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہم گھروں کے سامنے کچرا جلاتے ہیں، گاڑیوں کی دھواں چھوڑتی حالت کو نظرانداز کرتے ہیں، تعمیراتی مٹی کو سڑکوں پر پھیلنے دیتے ہیں اور پھر حکومت سے صاف ہوا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے، مگر شہری بھی اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتے۔
یومِ فضائیہ ہمیں اپنے شاہینوں کی یاد دلاتا ہے۔ ان شاہینوں نے وطن کی فضاؤں کو دشمن سے محفوظ رکھنے کے لیے جانیں قربان کیں۔ آج ہمیں ان کی یاد کو ایک نئے عزم سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری آنے والی نسلیں پاکستان کی فضاؤں میں آزادی کی سانس لیں گی یا آلودگی کی۔
وطن کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی۔ وطن کی حفاظت اس کے دریاؤں، جنگلات، زمین، پانی اور فضا کی حفاظت سے بھی ہوتی ہے۔ آج کا دشمن شاید سرحد پار سے آنے والا طیارہ نہیں، بلکہ وہ دھواں ہے جو ہماری اپنی فضا کو نگل رہا ہے۔
7 ستمبر کو اپنے شاہینوں کو سلام پیش کرتے ہوئے ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ جن فضاؤں کی حفاظت انہوں نے اپنے خون سے کی، ہم انہیں اپنی غفلت سے زہریلا نہیں ہونے دیں گے۔ شاہینوں نے پاکستان کی فضائیں دشمن سے بچائی تھیں، اب ہماری باری ہے کہ ہم انہی فضاؤں کو اسموگ سے بچائیں۔ یہ بھی وطن سے محبت ہے، اور شاید آج کے دور میں وطن سے محبت کی ایک نہایت اہم شکل بھی۔
21











