دنیا تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے اور کاروبار سے لے کر تعلیم، صحت اور روزگار تک زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ لیکن ہر سہولت کے ساتھ کچھ خطرات بھی جنم لیتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کے ساتھ ساتھ سائبر فراڈ، بلیک میلنگ، ہنی ٹریپ اور آن لائن دھوکا دہی کے واقعات بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔
حال ہی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارروائیوں نے اس خطرے کی ایک تشویش ناک تصویر ہمارے سامنے رکھی ہے۔ لاہور میں ہنی ٹریپ کے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے دوران 17 خواتین کو گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے 35 موبائل فون اور دو لیپ ٹاپ برآمد ہوئے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق یہ خواتین سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن ذرائع کے ذریعے مردوں سے رابطے کرتیں، تعلق قائم کرتیں اور بعد ازاں ویڈیو رابطوں کے ذریعے انہیں اپنے جال میں پھنسا کر مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرتی تھیں۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ گرفتار افراد عدالت سے جرم ثابت ہونے تک ملزم ہیں، مجرم نہیں۔ اس لیے ایسے معاملات میں قانون اور صحافت دونوں کا تقاضا ہے کہ الزام اور جرم کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ تاہم واقعے کی نوعیت اس قدر سنجیدہ ہے کہ اسے محض ایک پولیس کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی دوران لاہور کے علامہ اقبال ٹاؤن میں ایک دوسرے مبینہ فراڈ کال سینٹر کے خلاف کارروائی میں نو افراد گرفتار کیے گئے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق یہاں غیر ملکی شہریوں کو آن لائن فراڈ کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ دوسری طرف این سی سی آئی اے راولپنڈی سرکل نے چکری روڈ کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں قائم مبینہ کال سینٹر پر چھاپہ مار کر ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جو جعلی ٹیلی گرام پروفائلز کے ذریعے آسٹریلوی شہریوں کو جعلی یوٹیوب ٹاسکس اور USDT کرپٹو سرمایہ کاری کے نام پر مبینہ طور پر دھوکا دیتا تھا۔
یہ تینوں واقعات دراصل ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ٹیکنالوجی ترقی کا ذریعہ بھی ہے اور جرم کا نیا میدان بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹیکنالوجی کو کون اور کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
ہنی ٹریپ کا مسئلہ بھی نیا نہیں، مگر سوشل میڈیا نے اس کے دائرۂ کار کو غیر معمولی وسعت دے دی ہے۔ پہلے کسی شخص کو دھوکے میں پھنسانے کے لیے وقت، وسائل اور براہِ راست رابطے کی ضرورت ہوتی تھی، اب ایک جعلی پروفائل، چند خوبصورت تصاویر، مصنوعی شناخت اور چند دن کی آن لائن گفتگو کافی ہوتی ہے۔ اعتماد پیدا کیا جاتا ہے، جذبات سے کھیلا جاتا ہے، پھر ویڈیو کال، تصاویر یا ذاتی معلومات کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
یہاں صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ معاشرے کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ آن لائن دنیا میں احتیاط، حقیقی زندگی کی احتیاط سے کم اہم نہیں۔ کسی اجنبی کو ذاتی تصاویر، ویڈیوز، شناختی دستاویزات، بینک معلومات یا حساس معلومات فراہم کرنا خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
والدین کی ذمہ داری بھی پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ موبائل کم استعمال کرو۔ انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ جعلی اکاؤنٹ کیسے پہچانا جاتا ہے، مشکوک لنک کیا ہوتا ہے، آن لائن دوستی کے خطرات کیا ہیں اور بلیک میلنگ کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے کس ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ریاست کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ سائبر جرائم کے خلاف کارروائی صرف چھاپوں اور گرفتاریوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جدید فرانزک سہولتوں، تربیت یافتہ تفتیش کاروں، ڈیجیٹل شواہد کے مؤثر نظام اور تیز رفتار عدالتی کارروائی کی ضرورت ہے۔ اگر مجرم یہ سمجھیں کہ گرفتاری کے بعد بھی مقدمات برسوں چلتے رہیں گے تو قانون کا خوف کمزور پڑ جاتا ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نوجوانوں کو غیر قانونی کال سینٹرز اور آن لائن فراڈ نیٹ ورکس کا حصہ بننے سے کیسے روکا جائے۔ روزگار کے محدود مواقع، آسان پیسے کا لالچ اور ڈیجیٹل دنیا کی چمک دمک بعض نوجوانوں کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں ابتدا میں سب کچھ ایک معمولی ملازمت نظر آتا ہے، مگر رفتہ رفتہ وہ ایک منظم جرائم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو اخلاقی تربیت بھی ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کو طاقت دیتی ہے، مگر یہ طاقت اس کے کردار کا امتحان بھی لیتی ہے۔ اگر علم بڑھ جائے لیکن اخلاق کمزور ہو جائیں تو ٹیکنالوجی سہولت کے بجائے تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ہمیں ایک ایسی ڈیجیٹل سوسائٹی بنانی ہے جہاں انٹرنیٹ آزادی کا ذریعہ ہو، استحصال کا نہیں؛ سوشل میڈیا رابطے کا وسیلہ ہو، بلیک میلنگ کا نہیں؛ اور ٹیکنالوجی روزگار اور ترقی پیدا کرے، جرائم کے نئے دروازے نہ کھولے۔
این سی سی آئی اے کی حالیہ کارروائیاں اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہیں کہ انہوں نے ایک اہم خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کارروائیوں کے ساتھ آگاہی، قانون سازی، تفتیش، عدالتی نظام اور اخلاقی تربیت بھی مضبوط ہو۔
یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سائبر جرائم کے خلاف جنگ صرف این سی سی آئی اے کی جنگ نہیں۔ یہ ریاست، والدین، تعلیمی اداروں، میڈیا، ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں نئی نسل کو صرف ڈیجیٹل طور پر باصلاحیت نہیں بلکہ ڈیجیٹل طور پر ذمہ دار بھی بنانا ہوگا۔ کیونکہ آنے والا زمانہ اسی کا ہے جو ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا جانتا ہو، مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ جانتا ہو کہ اسے غلط مقصد کے لیے استعمال ہونے سے کیسے روکنا ہے
91











