پچھلے چند دنوں سے جماعت اسلامی ک احتجاجی دھرنوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں جو بظاہر ملک میں پٹرولیم ممصنوعات پر لیوی کے نفاز کے خاتمے کیلئے ہیں جو مہنگاہی کا باعث بنتا ہے۔ اگرچہ عوام کی اکثریت نے اس احتجاج کو مسترد کر دیا ہے اور اس میں شرکاء کی تعداد انتہائی کم ہے اور وہ بھی زیادہ تر لوگ اپنی نوکریوں و کاروبار سے فارغ ہو کر اس میں شریک ہوتے ہیں ان کی اکثریت کا تعلق اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس سے ہوتا ہے جو دراصل جماعت اسلامی کا اصل ووٹ بنک ہے۔ اس کی جڑیں عوام میں کبھی بھی نہیں رہیں۔
جماعت اسلامی کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کا قیام دین اسلام کے نفاذ کی جدوجہد کے لیے آیا تھا اور اس میں اکثریت مخلص مسلمانوں کی تھی جس کی وجہ سے اس کو شروع میں عوام میں بڑی پذیرائی ملی اور لوگوں میں اسلام کی طرف رحجان بڑھنے لگا اس کے بعد مختلف سازشوں کے ذریعے اس کو ان مقاصد سے ہٹانے کے لئے اقدامات کئے گئے اور آخرکار سازشی عناصر ان مقاصد میں کامیاب ہو گئے جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے اس کا رابطہ ہو گیا اور اس جماعت کو دین کے نفاذ کے لئے وجود میں لائی گئی تھی اس کو انتخابی جمہوری جماعت میں تبدیل کر دیا گیا اس پر اس میں موجود مخلص اکابرین نے اس تبدیل شدہ ایجنڈے سے اختلاف کرتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کر لی جن میں مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا منظور نعمانی، مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا عبدالغفار حسن رحمانی اور دیگر اکابرین شامل ہیں۔
اس کے بعد آج تک یہ جماعت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کو کردار ادا کر رہی ہے
اس کے لیے اس نے تشدد پر مبنی طلباء تنظیم قائم کی جو بائیں بازو کی طلباء تنظیموں جو کی جمہوریت اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی تھی ان کو دبانے کے لیے ریاستی سرپرستی میں استعمال کیا جاتا تھا۔
جب ڈکٹیٹر یحیی خان نے عوامی دباؤ پر مجبوراً 70 میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تو اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی کی سرپرستی میں دائیں بازو کے اتحاد کو قائم کیا گیا تاکہ عوامی حقوق کی جدوجہد کرنے والی جماعتوں کو ان انتخابات میں شکست دی جا سکے۔
اسٹیبلشمنٹ نے اس دائیں بازو کے اتحاد کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی اوروہ اس کی کامیابی کے لیے بڑی پرامید تھی
اگر اسوقت اسٹیبلشمنٹ کو جماعت اسلامی کے زیر سایہ دائیں بازو کی شکست کا یقین ہوتا تو یہ انتخابات کبھی بھی منعقد نہ ہوتے۔
ان انتخابات میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جماعت اسلامی کو حمایت کی کہانیوں کا میں عینی شاہد ہوں۔
اس کے بعد بنگال میں ملٹری آپریشن کے دوران اس کی مسلح تنظیموں البدر اور الشمس نے جو بنگال کے عوام کے ساتھ کیا ہے وہ تاریخ کا ایک سیاہ تری باب ہے۔
جس کی وجہ سے آج بھی بنگال کے عوام میں مغربی پاکستان کے لوگوں کے لیے نفرت انگیز جذبات موجود ہیں۔
اس کے بعد آج تک یہ ہر دور میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال ہوتی رہی ہے اس منافقانہ طرز عمل پر عوام نے اس کو ہمیشہ کے لئے مسترد کردیا ہے اور یہ جب بھی چند سیٹوں پر کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت ہوتی ہے جس کی مثال کو سمجھنے کے لیے کراچی کی سیاست ہی کافی ہے جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے یہ دیکھ لیا کہ اب یہ عوام میں اپنی قدر مکمل طور پر کھو گئی ہے تو ایک دوسری جماعت ایم کیو ایم کو اسی ایجنڈے کے تحت قائم کیا گیا۔ اس جماعت کے اندر وہ تمام عناصر کو اکٹھا کیا گیا جو جماعت اسلامی کے بنیادی اجزاء تھے آج تک کراچی میں اس کے ووٹرز اور جماعت اسلامی کے ووٹرز مشترکہ ہوتے ہیں جب کبھی ان کو نوازنا ہوتا تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم سے بائیکاٹ کرا دیتی ہے۔ جس کی مثالیں مختلف مواقع پر قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ایم کیو ایم کا حصہ لینا ہے خاص کر بلدیاتی انتخابات جس کے نتیجے میں نعمت اللہ خان کو کراچی کی نظامت پیش کی گئی۔
جہاں تک مالی مفادات کا تعلق ہے تو یہ بہت بڑی کرپٹ جماعت ہے مگر اس کا طریقہ کار مختلف ہے یہ مختلف استحصالی طبقات کے لیے مالی مفادات کو تحفظ دینے کا فریضہ انجام دیتی ہے اور اس کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتی ہے ان کے اس سیاسی ایجنڈے پر کام کے عوض اس کو جو مالی و دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں بھٹو کے خلاف تحریک میں اس کے پاس امریکی ڈالرز کی بھرمار تھی امریکی مفادات کا سارا کام ان کے ذریعے ہوتا تھا اس کے بعد افغان جہاد کے دوران اس نے معصوم بچوں کو جہاد کے نام پر بےوقوف بنایا اور اس کے عوض بلین ڈالرز میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے اپنا حصہ وصول کیا۔
آج جب ہنود و یہود پاکستان کی دنیا میں بڑھتی ہوئی عزت اور ترقی کو روکنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استمال کر رہے ہیں تو اس ایجنڈے کو تقویت مختلف ناں ایشوز پر بحث کر کے عوام میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔
ایک طرف تو یہ بے وقت اور فضول بحث شروع کر کے عوام میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے دوسری طرف کشمیر و دیگر علاقوں میں گھیراؤ جلاو کی کیفیت جاری ہے اور اس موقع پر پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی احتجاج کی کال ایک سازش کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا کردار ادا کرتے ہوئے استحصالی نظام کی مضبوطی کیلئے کوشاں رہی ہے اورواضح رہے کہ پٹرولیم ممصنوعات پر لیوی آی ایم ایف کے پروگرام کے تحت لگائی گئی ہے اور یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ بیسویں برسوں پہلے سے نافذ ہے۔ بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے اس میں وقتاً فوقتاً اضافہ آی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہوتا رہا ہے۔
حکومت اس کی خلاف ورزی کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے ملک دوبارہ سے معاشی بحران اور ڈیفالٹ کی طرف چلا جائے گا جس طرح سے عمران خان نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں کیا تھا اور پاکستان کو تباہی و بربادی کے دھانے پر پہنچا دیا گیا تھا۔ ایک بڑی تنقید اعلی عہدیداروں کے حفاظتی پروٹوکول پر ہونے والے اخراجات پر کی جا رہی ہے اس وقت پاکستان جسطری سے دہشت گردی اور بیرونی طاقتوں کی سازشوں کا شکار ہے اس مرحلے میں حفاظتی پروٹوکول انتہائی ضروری ہے کیونکہ کوئی بڑا حادثہ پاکستان کو ایک بہت بڑے بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔
اس کے اسی منافقانہ پالیسی و عمل کی بناء پر عوام نے ہمیشہ ہی اس کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔ اس نے جو راستوں کی بندش کی پالیسی اپناہی ہے وہ دین اسلام کی تعلیمات کے صریحاً خلاف ہے مگر یہ اپنے مفادات کے لیے ہر وقت ہر کام کرنے کو تیار رہتی ہے۔
اب دھرنوں کی سیاست میں ناکامی کے بعد اس جماعت نے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ہے جو صرف اور نہ صرف عوام کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنے گی بلکہ اس سے پاکستان دشمن عناصر فائدہ آٹھاتے ہوے ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔
اس لیے اس وقت ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اور عوام کو ان سازشوں سے بچانے کے لیے مکمل طور ایک لائحہ عمل ترتیب دیں تاکہ پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے ۔
اللہ کی رحمت سے یہ پاکستان و عوام دشمن قوتیں اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی سے دوچار ہون گی۔ ان شاءاللہ۔











