20

نئی سرد جنگیں بدلتی دنیا کا خاموش محاذ : حمید علی

سرد جنگیں شاید کبھی ختم نہیں ہوتیں، صرف ان کے انداز بدل جاتے ہیں۔ کبھی یہ نظریات کے نام پر لڑی جاتی ہیں، کبھی معاشی مفادات کے لیے، کبھی فوجی طاقت کے ذریعے اور کبھی سفارت کاری، ٹیکنالوجی، پابندیوں اور معلوماتی جنگ کے پردے میں۔ بظاہر دنیا آج کسی عالمی جنگ کی لپیٹ میں نہیں، بل کہ عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش کو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سرد جنگ نے صرف اپنا لباس بدلا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم 1945ء میں ختم ہوئی تو دنیا دو بڑے طاقت کے مراکز میں تقسیم ہو گئی۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی تھے، جب کہ دوسری طرف سوویت یونین اور اس کے اشتراکی حلیف۔ نظریاتی اختلاف نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ امریکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت کا علم بردار تھا، جب کہ سوویت یونین اشتراکی نظام کو فروغ دے رہا تھا۔ یوں ایک ایسی طویل کشمکش شروع ہوئی جسے تاریخ نے سرد جنگ کا نام دیا۔

یہ جنگ روایتی معنوں میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان براہِ راست جنگ نہیں تھی۔ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف اثر و رسوخ، اسلحے، جاسوسی، سفارت کاری اور اپنے اتحادیوں کے ذریعے مقابلہ کرتی رہیں۔ 1949ء میں نیٹو کا قیام عمل میں آیا، جب کہ 1955ء میں سوویت قیادت میں وارسا معاہدہ قائم ہوا۔ یورپ عملاً دو طاقت کے حلقوں میں تقسیم ہو گیا۔ برلن اس تقسیم کی نمایاں علامت بن گیا اور 1961ء میں تعمیر ہونے والی دیوارِ برلن نے اس سیاسی تقسیم کو مزید واضح کر دیا۔

سرد جنگ کا سب سے خطرناک پہلو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ تھا۔ امریکہ نے 1945ء میں ایٹمی طاقت حاصل کی، جب کہ سوویت یونین نے 1949ء میں اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے ایسے تباہ کن ہتھیار تیار کیے جو پوری انسانیت کو کئی بار ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ 1962ء کا کیوبا میزائل بحران اس کشیدگی کا وہ مقام تھا، جب دنیا ایٹمی جنگ کے انتہائی قریب پہنچ گئی۔ چند دنوں کے اس بحران نے واضح کر دیا کہ طاقت کا توازن بگڑ جائے تو پوری دنیا اس کی قیمت ادا کر سکتی ہے۔

لیکن سرد جنگ صرف واشنگٹن اور ماسکو تک محدود نہیں رہی۔ کوریا کی جنگ، ویت نام کی جنگ اور افغانستان کی جنگ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں ہونے والی کشمکش میں بڑی طاقتوں کی بالواسطہ مداخلت نے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں متاثر کیں۔ ترقی پذیر ممالک بھی اکثر اس عالمی مقابلے کا میدان بن گئے۔ امداد، اسلحے، حکومتوں کی حمایت اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے بڑی طاقتیں اپنے اپنے حلقے وسیع کرتی رہیں اور یوں عالمی سیاست عام انسان کی زندگی تک متاثر ہوتی رہی۔

آخرکار سوویت نظام اندرونی معاشی مشکلات، سیاسی انتشار اور اصلاحات کے باوجود اپنی کمزوریاں دور نہ کر سکا۔ 1989ء میں برلن دیوار کا انہدام سرد جنگ کے خاتمے کی بڑی علامت ثابت ہوا اور دسمبر 1991ء میں سوویت یونین باقاعدہ تحلیل ہو گیا۔ یوں سرد جنگ کا وہ تاریخی باب اختتام پذیر ہوا جس نے تقریباً نصف صدی تک عالمی سیاست کو اپنے حصار میں رکھا تھا۔ یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ سرد جنگ دوسری جنگِ عظیم کے بعد شروع ہوئی تھی، مگر 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ اس کا اختتام ہوا۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سرد جنگ ختم ہو گئی؟ آج کے حالات اس سوال کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں۔ روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین کے معاملے پر شدید کشیدگی، نیٹو کی توسیع، روس پر مغربی پابندیاں اور یورپ میں بڑھتی ہوئی عسکری تیاری ایک نئی صف بندی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ دوسری طرف چین تیزی سے معاشی، عسکری اور تکنیکی طاقت بن کر عالمی منظرنامے میں ابھر رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز، بحیرۂ جنوبی چین اور تائیوان جیسے معاملات پر مقابلہ عالمی طاقت کے مستقبل کی کشمکش بن چکا ہے۔

آج کی سرد جنگ کی ایک نئی خصوصیت معاشی اور ٹیکنالوجی کی جنگ ہے۔ پابندیاں، تجارتی رکاوٹیں، چِپ ٹیکنالوجی پر کنٹرول، سائبر حملے، مصنوعی ذہانت، خلائی پروگرام اور معلوماتی جنگ وہ نئے ہتھیار ہیں جن سے ریاستیں ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اب میدانِ جنگ ہمیشہ سرحد پر نہیں ہوتا؛ کبھی یہ کمپیوٹر کی اسکرین، اسٹاک مارکیٹ، میڈیا، سیٹلائٹ یا سوشل میڈیا کے اندر بھی کھل جاتا ہے۔ طاقت کا اظہار خاموش ہے، مگر اس کے اثرات بہت دور تک محسوس ہوتے ہیں۔

روس، امریکہ اور چین بظاہر براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہیں، مگر ہر طاقت دوسری کی کمزوری تلاش کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ کوئی عسکری اتحاد مضبوط کر رہا ہے، کوئی معاشی شراکت داریاں بڑھا رہا ہے، کوئی نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے اور کوئی اپنی دفاعی و تکنیکی صلاحیت کو ناقابلِ شکست بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی کشمکش میں بھارت، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطے بھی اپنی اپنی ترجیحات کے ساتھ نئے توازن تلاش کر رہے ہیں۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں دوستیاں بھی مفادات کے ترازو میں تولی جاتی ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ بیسویں صدی کی سرد جنگ میں دو بڑے کیمپ نمایاں تھے، جب کہ آج کی دنیا زیادہ پیچیدہ اور کثیر قطبی ہے۔ اب طاقت صرف ایٹمی میزائلوں سے نہیں ناپی جاتی؛ معیشت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیت، توانائی، سفارتی اثر و رسوخ اور عالمی منڈیوں تک رسائی بھی طاقت کے اہم پیمانے ہیں۔ اسی لیے آج کی عالمی کشمکش کو محض امریکہ اور روس کی رقابت سمجھنا کافی نہیں؛ چین سمیت کئی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے ساتھ اس نئے عالمی منظرنامے کو تشکیل دے رہی ہیں۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کی اندھی دوڑ کبھی کسی ایک فریق کی مکمل فتح پر ختم نہیں ہوتی۔ سرد جنگ کے دوران دنیا کئی مرتبہ ایٹمی تباہی کے دہانے تک پہنچی، مگر بالآخر مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی مفادات نے راستے کھولے۔ آج بھی عالمی طاقتوں کے سامنے یہی انتخاب ہے کہ مقابلہ ضرور ہو، مگر ایسا مقابلہ نہیں جو انسانیت کو تباہی کے کنارے لے جائے۔ اختلافات کے باوجود رابطے کے دروازے کھلے رکھنا ہی عالمی امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔

دنیا شاید دوبارہ سرد جنگ کے دور میں داخل ہو رہی ہے، مگر اس بار محاذ زیادہ خاموش، ہتھیار زیادہ جدید اور جنگ کے اثرات کہیں زیادہ عالمی ہیں۔ اصل دانش مندی یہ نہیں کہ کون دوسری طاقت کو شکست دیتا ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ طاقت کا توازن برقرار رکھتے ہوئے دنیا کو گرم جنگ کی آگ سے محفوظ رکھا جائے۔ سرد جنگ خواہ کتنی ہی سرد کیوں نہ ہو، اس کے اندر چھپی حرارت خطرناک ہوتی ہے۔ انسانیت نے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے؛ اب وقت کا تقاضا ہے کہ تاریخ کو دوبارہ دہرایا نہ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں