محترم قارئین۔برصغیر اور افغانستان کے مابین نوآبادیاتی دور کے تنازعات، سرحدی رسہ کشی اور بالادستی کی جنگ میں معاہدہ گندمک (1879) اور ڈیورنڈ معاہدہ (1893) وہ دو اہم تاریخی سنگِ میل ہیں جنہوں نے خطے کی جغرافیای سیاسی تقدیر کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔ ان دونوں معاہدات کا پس منظر طاقت کے عدم توازن، شاہی مجبوریوں اور برطانوی سفارتی چالوں کی ایسی داستان ہے جس کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کے امن کو متاثر کر رہے ہیں۔دوسری اینگلو-افغان جنگ (1878) کے آغاز کے وقت امیر شیر علی خان نے روسی مشن کو کابل میں خوش آمدید کہا اور برطانوی سفارتی وفد کو واپس جانے پر مجبور کیا جس کے ردعمل میں برطانوی ہند کی افواج نے خیبر، کرم اور بولان کے راستوں سے افغانستان پر یلغار کر دی۔ فروری 1879 میں امیر شیر علی خان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے امیر محمد یعقوب خان نے اقتدار سنبھالا۔ شکست خوردہ فوج، کمزور معیشت اور کابل پر برطانوی قبضے کے بادلوں کے درمیان یعقوب خان کے پاس سر پیئر لوئس نپولین کاوناری کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
چھبیس مئی 1879 کو ننگرہار کے مقام پر طے پانے والا معاہدہ گندمک افغان تاریخ کا ایک سیاہ باب ثابت ہوا۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان نے اپنی خارجہ پالیسی کا کنٹرول مکمل طور پر برطانوی سلطنت کے حوالے کر دیا، جس کے عوض سالانہ ساٹھ ہزار پاؤنڈ امداد کا وعدہ کیا گیا۔ کرم، پشین، سبی اور خیبر کے اسٹریٹیجک علاقے برطانیہ کے قبضے میں چلے گئے اور کابل میں برطانوی ریزیڈنٹ کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا۔ تاہم، یہ معاہدہ محض تین ماہ بھی نہ چل سکا کیونکہ تین ستمبر 1879 کو کابل میں غیور افغان عوام اور فوج نے بغاوت کر کے سر کاوناری اور اس کے پچھتر ساتھیوں کو ہلاک کر دیا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں برطانوی فوج نے دوبارہ کابل پر یلغار کی، یعقوب خان کو معزول کر کے ہندوستان جلاوطن کر دیا گیا اور بالآخر افغانستان کی باگ ڈور امیر عبدالرحمن خان کے سپرد کی گئی۔امیر عبدالرحمن خان، جسے تاریخ “آئرن امیر” کے نام سے جانتی ہے، نے اپنی سوانح عمری “تاج التواریخ” (انگریزی ترجمہ: The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan، مطبوعہ 1900ء) میں 1893 کے ڈیورنڈ مشن اور سرحدی تصفیے کا تذکرہ انتہائی محتاط انداز میں کیا۔ امیر نے کتاب میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ برطانوی نمائندے سر مارٹیمر ڈیورنڈ نے 1893 میں کابل کا دورہ کیا تاکہ روس اور افغانستان کی شمال مشرقی سرحد اور دیگر معاملات طے کیے جا سکیں۔ کتاب کے مطابق ہندوستان کی طرف افغانستان کی مشرقی سرحد پر معاہدہ ہوا اور ایک شاہی کمیشن نے سرحد متعین کی، جبکہ سالانہ امداد چھ لاکھ سے بڑھا کر بارہ لاکھ روپے کرنے کو دوستی کا نشان قرار دیا گیا۔
امیر نے اس پورے عمل کو اپنی سفارتی مہارت اور فکری برتری کے طور پر پیش کیا، لیکن ناقدین اس مؤقف پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ امیر انگریزی زبان بولنے یا لکھنے سے قاصر تھا، اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ مارٹیمر ڈیورنڈ نے افغان امیر سے انگریزی دستاویز پر کس طرح دستخط کروائے۔ اس کے علاوہ، امیر نے کتاب میں کہیں بھی اس لکیر کو مستقل بین الاقوامی سرحد قرار نہیں دیا، بلکہ افغان مورخین کا مؤقف رہا ہے کہ ان کی سمجھ کے مطابق یہ صرف قبائلی اثر و رسوخ کے دائرے تھے نہ کہ زمین کی مستقل فروخت۔ کرم، خیبر اور چمن جیسے حساس علاقوں سے دستبرداری کی تفصیلات کو بھی امیر نے کتاب میں جان بوجھ کر نظر انداز کیا۔
اگرچہ امیر عبدالرحمن خان نے کتاب میں اس معاہدے کو اطمینان بخش قرار دیا، لیکن 1888 کے ان کے ذاتی خطوط اس کے برعکس کہانی سناتے ہیں جن میں انہوں نے خود برطانوی حکومت کو لکھا تھا کہ قبائل کو تقسیم کرنا ان کی عزت اور وقار کو مجروح کرے گا۔ یہی بنیادی تضاد آج تک تنازع کی جڑ ہے۔ ایک طرف انگریز اور اس کی جانشین پاکستانی ریاست اسے طے شدہ بین الاقوامی سرحد مانتی ہے، جبکہ دوسری طرف افغان حکومتیں اور پشتون قوم پرست اسے ایک عارضی انتظام اور جبر کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔
معاہدہ گندمک ہو یا ڈیورنڈ لائن کا متنازع قیام، دونوں کے پس منظر میں عسکری شکست، سیاسی دباؤ اور سلطنتِ برطانیہ کی توسیع پسندانہ پالیسیاں کارفرما تھیں۔ یعقوب خان کی مجبوری ہو یا عبدالرحمن خان کی سفارتی مصلحت، ان فیصلوں نے خطے کے لاکھوں انسانوں کو ایسی مستقل کشمکش اور خونریز تاریخ میں دھکیل دیا جہاں ڈیڑھ صدی گزرنے کے باوجود امن کا سورج طلوع نہیں ہو سکا۔ تاریخ کے اس دھندلک میں ہر فریق کا اپنا سچ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کاغذ پر کھینچی گئی لکیروں نے حقیقت میں انسانیشت کے سینے پر گہرے زخم لگائے ہیں۔
22











