انسانی زندگی خوبصورت رشتوں کے ایک حسین جال سے جڑی ہوئی ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی، دوست، پڑوسی اور ساتھی، سب انسان کی زندگی کو سہارا، محبت اور خوشیاں عطا کرتے ہیں۔ یہ رشتے صرف خون کے تعلق یا ضرورت کی بنیاد پر قائم نہیں رہتے، بلکہ محبت، احترام، اعتماد، ہمدردی، برداشت اور کشادہ دلی کی بنیاد پر مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہر چھوٹی سی بات کو انا کا مسئلہ بنا لیا جائے تو بہترین رشتے بھی آہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتے ہیں۔ درگزر کا مطلب صرف کسی کی غلطی کو نظر انداز کرنا نہیں، بلکہ کشادہ دلی، اعلیٰ ظرفی اور مثبت سوچ کا اظہار ہے۔ یہی وصف انسان کو انتقام، نفرت اور غصے سے بچا کر محبت، سکون اور عزت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، کیونکہ کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
اسلام نے بھی درگزر کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ “اور معاف کر دو، درگزر کرو، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟” (سورۃ النور، آیت 22) یہ آیت انسان کو یہ درس دیتی ہے کہ جو دوسروں کے ساتھ معافی اور نرمی کا رویہ اختیار کرتا ہے، وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش کا مستحق بنتا ہے۔ درحقیقت معاف کرنا صرف دوسروں پر احسان نہیں بلکہ اپنی روح کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: “اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے۔” (صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث نمبر 2588) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ درگزر اور معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق اور مضبوط کردار کی علامت ہے۔ جو شخص دوسروں کی لغزشوں کو معاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عزت، وقار اور مرتبے میں اضافہ فرماتا ہے۔ معافی دلوں میں محبت، اعتماد اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہے، جبکہ غصہ اور انتقام رشتوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام صبر، برداشت اور درگزر کو ایک باوقار اور مہذب معاشرے کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں بھی درگزر کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ فتحِ مکہ کے موقع پر، جب برسوں تک مخالفت کرنے والے لوگ آپ ﷺ کے سامنے تھے، آپ ﷺ نے انتقام لینے کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ عظیم واقعہ اسلامی تاریخ میں رحم، عفو و درگزر اور بلند اخلاق کی ایسی مثال ہے جو آج بھی پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی عظمت طاقت کے اظہار میں نہیں بلکہ معاف کرنے، دلوں کو جوڑنے اور نفرتوں کو محبت میں بدلنے میں ہے۔
جدید نفسیات نے بھی سائنسی تحقیق کے ذریعے درگزر کی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔ امریکی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ایورٹ ایل۔ ورتھنگٹن، جو معافی کی نفسیات پر دنیا کے ممتاز محققین میں شمار ہوتے ہیں، کے مطابق معاف کرنے سے غصہ، نفرت اور ذہنی دباؤ میں نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ ذہنی سکون، جذباتی توازن اور صحت مند تعلقات کو فروغ ملتا ہے۔ ان کے نزدیک معافی انسان کی شخصیت کو مثبت بناتی ہے اور باہمی اعتماد کو مضبوط کرتی ہے۔
اسی طرح معافی پر تحقیق کے ممتاز ماہر ڈاکٹر رابرٹ این رائٹ کے مطابق درگزر جذباتی زخموں کو مندمل کرنے، ہمدردی کے جذبے کو فروغ دینے اور خاندانی و سماجی تعلقات کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق معافی ذہنی صحت، خوشگوار زندگی اور مضبوط انسانی رشتوں کی بنیادی اقدار میں سے ایک ہے۔
گھر کا ماحول بھی درگزر سے خوشگوار بنتا ہے۔ اگر میاں بیوی ہر چھوٹی بات پر بحث، ضد یا انا کو ترجیح دیں تو محبت کی جگہ فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح والدین اور اولاد، بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں کے درمیان بھی چھوٹی غلطیوں کو معاف کرنے کا جذبہ رشتوں کو طویل عرصے تک قائم رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر خاندان میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں، لیکن سمجھ داری، برداشت اور درگزر انہیں مستقل تنازعات میں تبدیل ہونے سے بچاتے ہیں۔ جب گھر کے افراد ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور معافی مانگنے یا معاف کرنے میں دیر نہیں کرتے تو گھر میں اعتماد، سکون اور اپنائیت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ خوشحال خاندان وہ نہیں جہاں کبھی اختلاف نہ ہو، بلکہ وہ ہے جہاں اختلافات کو محبت، مکالمے اور درگزر کے ذریعے حل کیا جائے۔
کام کی جگہ پر بھی درگزر کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ دفتر، اسکول، کالج یا کسی بھی ادارے میں مختلف سوچ اور مزاج رکھنے والے لوگ مل کر کام کرتے ہیں۔ اگر ہر معمولی غلطی پر سخت رویہ اختیار کیا جائے تو نہ صرف کام کا ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے بلکہ ٹیم ورک بھی متاثر ہوتا ہے۔ ایک کامیاب رہنما وہی ہوتا ہے جو مناسب حد تک درگزر، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے اپنے ساتھیوں کی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔ وہ غلطی کو سزا دینے کے بجائے سیکھنے اور بہتری کا موقع بناتا ہے، جس سے اعتماد، ذمہ داری اور باہمی تعاون میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسا مثبت ماحول ادارے کی مجموعی کارکردگی اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
البتہ درگزر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ظلم، ناانصافی یا مسلسل غلط رویوں کو خاموشی سے برداشت کیا جائے۔ جہاں کسی کے حقوق پامال ہوں یا قانون کی خلاف ورزی ہو، وہاں انصاف کا تقاضا پورا کرنا ضروری ہے۔ درگزر اعلیٰ اخلاق، کشادہ دلی اور مضبوط شخصیت کی علامت ہے، لیکن دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ذاتی رنجشوں، غلط فہمیوں اور معمولی لغزشوں میں معافی اور برداشت سے کام لے، جبکہ اصولوں، انصاف اور دوسروں کے حقوق کے تحفظ کے معاملے میں حق اور قانون کا ساتھ دے۔ یہی متوازن طرزِ فکر فرد کے کردار کو مضبوط کرتا ہے اور معاشرے میں انصاف، اعتماد اور ذمہ داری کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔
اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآنِ کریم، رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور جدید نفسیات کے ماہرین کی تحقیقات سب اس حقیقت پر متفق ہیں کہ معافی اور درگزر اعلیٰ اخلاق، کشادہ دلی اور پختہ کردار کی علامت ہیں۔ درگزر سے نہ صرف دلوں سے غصہ، نفرت اور انتقام کے جذبات ختم ہوتے ہیں بلکہ محبت، اعتماد اور ہم آہنگی بھی پروان چڑھتی ہے۔ اگر ہم اپنی ذات سے آغاز کرتے ہوئے درگزر کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو بکھرے ہوئے رشتے دوبارہ جڑ سکتے ہیں، خاندان زیادہ مضبوط بن سکتے ہیں اور معاشرے میں امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ درگزر صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک خوشحال فرد، مضبوط خاندان اور مہذب معاشرے کی تعمیر کا بنیادی اصول ہے۔
منصور نظامانی
استاد، تعلیمی محقق، کالم نگار











