8

روزانہ پٹرول کی قیمت میں ردو بدل، روزانہ پریشانی: حمید علی

حکومتِ پاکستان کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کرنے کی تجویز ایک ایسا فیصلہ محسوس ہوتی ہے جو عوام کی مشکلات میں کمی کے بجائے مزید اضافہ کر سکتا ہے۔پٹرول کی قیمت میں معمولی ردوبدل بھی ٹرانسپورٹ، خوراک، تعمیرات، زراعت، صنعت اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر قیمتیں روزانہ تبدیل ہوں گی تو مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوگی، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام صارف کو اٹھانا پڑے گا۔

پاکستان میں پہلے ہی یہ تلخ حقیقت موجود ہے کہ جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اشیائے ضروریہ فوراً مہنگی کر دی جاتی ہیں، مگر جب قیمت کم ہوتی ہے تو بازار میں اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا۔ اگر روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کا نظام نافذ کیا گیا تو تاجر، ٹرانسپورٹر اور ذخیرہ اندوز اپنی سہولت کے مطابق قیمتیں بڑھانے کے لیے اس فیصلے کو جواز بنائیں گے، جبکہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ حسبِ سابق عوام تک پہنچنے کے امکانات نہایت کم ہوں گے۔

اس پالیسی کا ایک بڑا نقصان ذہنی دباؤ بھی ہے۔ ایک عام شہری جو پہلے ہی بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم، علاج اور گھریلو اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، وہ روزانہ یہ فکر کرے گا کہ آج پٹرول مہنگا ہوا یا سستا۔ یہ غیر یقینی کیفیت معاشی منصوبہ بندی کو تقریباً ناممکن بنا دے گی۔ چھوٹے کاروباری افراد، ٹرانسپورٹرز اور صنعت کار بھی مستقل بنیادوں پر اپنے اخراجات کا درست تخمینہ نہیں لگا سکیں گے۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے مطابق فوری ردعمل دینا ضروری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ایسا شفاف اور مؤثر نظام موجود ہے جو قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچا سکے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر صرف قیمتوں کی روزانہ تبدیلی عوامی مفاد کے بجائے مزید بے چینی کا سبب بنے گی۔

معاشی استحکام صرف قیمتوں میں بار بار ردوبدل سے حاصل نہیں ہوتا، بل کہ مضبوط پالیسیوں، شفاف حکمرانی، ٹیکس اصلاحات، مقامی پیداوار میں اضافے، برآمدات کے فروغ اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی سے آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری معاشی پالیسیوں میں طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے وقتی اقدامات زیادہ دکھائی دیتے ہیں، جن کے اثرات چند دن بعد ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ زندہ انسان ہیں، جن کی زندگیوں کا تعلق روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات سے ہے۔ اگر ہر روز نئی قیمت سامنے آئے گی تو عوام کے اندر عدم اعتماد اور بے یقینی مزید بڑھے گی۔ سرمایہ کار بھی ایسے ماحول میں سرمایہ کاری سے ہچکچائیں گے جہاں بنیادی اخراجات کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ صرف آبنائے ہرمز اور عالمی منڈی نہیں بلکہ انتظامی کمزوریاں، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مؤثر نگرانی کا فقدان بھی ہے۔ جب تک ان مسائل پر قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین عوامی ریلیف کے بجائے اضافی بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔

حکومت کی معاشی ٹیم کی ذمہ داری صرف عالمی قیمتوں کا حساب لگانا نہیں، بل کہ ایسی پالیسیاں تشکیل دینا بھی ہے جو عوام کو استحکام اور اعتماد فراہم کریں۔ اگر ہر چند گھنٹوں یا ہر روز قیمتوں میں تبدیلی معمول بن جائے تو یہ اس بات کا تاثر دے گا کہ معاشی حکمتِ عملی میں تسلسل اور دور اندیشی کا فقدان ہے۔ ایک مضبوط معیشت کی پہچان پالیسیوں کا استحکام ہوتا ہے، نہ کہ مسلسل غیر یقینی صورتحال۔

حکومت فوری نوعیت کے فیصلوں کے بجائے ایسی جامع معاشی اصلاحات متعارف کرائے جن سے عوام کی قوتِ خرید بہتر ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، مقامی صنعت کو فروغ ملے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری کی جائے۔ اگر عوام کو حقیقی ریلیف دینا مقصود ہے تو قیمتوں کے روزانہ اتار چڑھاؤ کے بجائے ایسے نظام کو یقینی بنایا جائے جس میں شفافیت، استحکام اور عوامی مفاد اولین ترجیح ہو۔

پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ایسے فیصلے ہیں جو قوم کے اندر اعتماد پیدا کریں، نہ کہ مزید بے یقینی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ تبدیلی وقتی طور پر ایک انتظامی فیصلہ معلوم ہو سکتی ہے، مگر اس کے معاشی اور نفسیاتی اثرات طویل المدت ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں اختیار کرے جو مہنگائی میں کمی، معاشی استحکام اور عوامی فلاح کا ذریعہ بنیں، کیونکہ مضبوط معیشت کا حقیقی پیمانہ عوام کا مطمئن اور پُرامید ہونا ہے، نہ کہ صرف سرکاری اعداد و شمار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں