5

خاموش زخم، تباہ ہوتی زندگیاں تحریر: رفیع صحرائی

معاشرے میں تشدد کی بات ہو تو عموماً ذہن میں خون، زخم، مارپیٹ اور جسمانی اذیت کا تصور آتا ہے، مگر ایک ایسا تشدد بھی ہے جو نہ خون بہاتا ہے، نہ ہڈیاں توڑتا ہے، لیکن انسان کی شخصیت، اعتماد، خواب اور مستقبل کو خاموشی سے کھا جاتا ہے۔ یہ ذہنی یا نفسیاتی تشدد ہے، جسے آج بھی ہمارے معاشرے میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ حالانکہ ماہرینِ نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ بعض اوقات ذہنی تشدد کے اثرات جسمانی تشدد سے کہیں زیادہ دیرپا اور تباہ کن ہوتے ہیں۔
الفاظ کی اپنی ایک طاقت ہوتی ہے۔ یہی الفاظ کسی مایوس انسان کو نئی زندگی دے سکتے ہیں اور یہی الفاظ کسی پُراعتماد شخص کو احساسِ کمتری کی ایسی دلدل میں دھکیل سکتے ہیں جہاں سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔ افسوس یہ ہے کہ ہم روزمرہ زندگی میں طنز، تحقیر، تضحیک، طعنے، مسلسل تنقید اور کردار کشی کو معمول کا رویہ سمجھنے لگے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ سب ذہنی تشدد کی مختلف شکلیں ہیں۔
ذہنی تشدد صرف متاثرہ فرد ہی کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اگر ایک حاملہ خاتون کو مسلسل ذہنی دباؤ، خوف، تحقیر اور اذیت کا سامنا کرنا پڑے تو اس کی اپنی صحت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ رحمِ مادر میں پلنے والے بچے کی نشوونما بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ مسلسل ذہنی دباؤ بعض اوقات حمل ضائع ہونے، قبل از وقت پیدائش، کم وزن بچے کی ولادت یا بچے کی ذہنی و اعصابی نشوونما پر منفی اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔ گویا ایک شخص کا ظالمانہ رویہ صرف ایک خاتون ہی نہیں بلکہ ایک پوری آنے والی نسل کے مستقبل سے کھیل سکتا ہے۔
اسی طرح دفاتر، سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں میں بھی ذہنی تشدد خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ اگر کسی ادارے کا سربراہ یا باس مسلسل کرخت لہجہ اختیار کرے، ماتحتوں کو ذلیل کرے، ان کی معمولی غلطیوں کو تماشہ بنا دے اور تعریف کے بجائے صرف ڈانٹ ڈپٹ کو انتظامی صلاحیت سمجھ بیٹھے تو ایسے ماحول میں تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ ملازمین خوف کے ماحول میں کام تو کرتے ہیں، مگر بہترین کارکردگی دکھانے کے بجائے صرف غلطی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے ترقی کے بجائے جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دنیا کے کامیاب ادارے خوف سے نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور حوصلہ افزائی کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی استاد کسی ایک یا چند طلبہ کو مستقل نشانہ بنا لے، انہیں روز یہ کہے کہ “تم سے کچھ نہیں ہو سکتا”، “تم ناکام ہی رہو گے”، “تمہارا دماغ کام نہیں کرتا”، تو یہ الفاظ صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچے کی پوری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو دیتا ہے، بڑے خواب دیکھنے سے ڈرنے لگتا ہے اور آخرکار تعلیم سے ہی دل برداشتہ ہو جاتا ہے۔ بعض نوجوان احساسِ محرومی، غصے اور انتقام کے جذبے میں غلط صحبت یا جرائم کی دنیا کا رخ بھی کر لیتے ہیں۔ اس لیے ایک استاد کی زبان صرف علم دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم کا مستقبل بنانے یا بگاڑنے کا وسیلہ بھی ہے۔
گھر کا ماحول بھی انسان کی شخصیت کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے۔ اگر والدین ہر وقت بچوں کا دوسروں سے موازنہ کریں، انہیں ناکام، نالائق یا بے وقوف قرار دیں تو بچے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کھو دیتے ہیں۔ اسی طرح میاں بیوی کے درمیان مسلسل طعنے، بے اعتمادی، کردار کشی اور تحقیر صرف ازدواجی تعلق ہی کو متاثر نہیں کرتی بلکہ بچوں کی ذہنی صحت اور شخصیت پر بھی گہرے منفی اثرات چھوڑتی ہے۔
ذہنی تشدد کی ایک خطرناک شکل “گیس لائٹنگ” ہے، جس میں متاثرہ شخص کو اس حد تک الجھا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی یادداشت، سوچ اور فیصلوں پر ہی شک کرنے لگتا ہے۔ اسے ہر وقت یہی احساس دلایا جاتا ہے کہ غلطی صرف اسی کی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی شناخت اور خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے۔
حالیہ دنوں کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا افسوسناک واقعہ بھی ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ تیزاب گردی بلاشبہ جسمانی تشدد کی بدترین شکل ہے، مگر اس کے بعد شروع ہونے والی ذہنی اذیت کہیں زیادہ طویل اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ متاثرہ خاتون کو نہ صرف جسمانی درد بلکہ عمر بھر نفسیاتی صدمے، احساسِ محرومی اور معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ایسے واقعات میں صرف جسمانی علاج نہیں بلکہ نفسیاتی بحالی کو بھی قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔
اسلام نے انسان کی عزتِ نفس کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم غیبت، تمسخر، طعن و تشنیع اور ایک دوسرے کی تذلیل سے روکتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل قرار دیا اور فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ کسی انسان کو ذہنی اذیت دینا اسلامی اخلاق کے سراسر منافی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس خاموش وبا پر قابو کیسے پایا جائے؟ اس کے لیے سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ذہنی تشدد بھی تشدد ہی ہے۔ گھروں میں احترامِ باہمی، تعلیمی اداروں میں مثبت تدریسی ماحول، دفاتر میں باوقار پیشہ ورانہ رویے اور میڈیا پر شائستہ گفتگو کو فروغ دینا ہوگا۔ اساتذہ، والدین اور سرکاری و نجی اداروں کے منتظمین کے لیے جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) اور مؤثر ابلاغ کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ سکولوں اور جامعات میں ماہرینِ نفسیات اور کونسلرز کی خدمات عام کی جائیں تاکہ متاثرہ افراد بروقت مدد حاصل کر سکیں۔ ذہنی تشدد اور ہراسانی کے خلاف مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے اور ایسے رویوں کو معمول سمجھنے کے بجائے قابلِ مواخذہ تصور کیا جائے۔ مساجد، میڈیا اور سماجی تنظیمیں بھی احترام، برداشت اور نرم گفتاری کی ثقافت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
کسی قوم کی تہذیب کا معیار صرف اس کی بلند عمارتیں، شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہاں انسان کی عزتِ نفس کتنی محفوظ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ذہنی تشدد کے خلاف اسی شدت سے آواز بلند کرنا ہوگی جس شدت سے ہم جسمانی تشدد کے خلاف اٹھاتے ہیں۔
یاد رکھیے، جسم پر لگنے والے زخم اکثر بھر جاتے ہیں، مگر دل اور دماغ پر لگنے والی چوٹیں بعض اوقات پوری زندگی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ایک تلخ جملہ، ایک حقارت بھری نظر اور ایک مسلسل تذلیل کسی انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔ اس لیے آج ضرورت قانون سے پہلے اپنے رویوں کو بدلنے کی ہے، کیونکہ جب الفاظ شفا دینے لگیں گے تو معاشرہ خود بخود زخم دینا چھوڑ دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں